نیشنل سیونگ سرٹیفکیٹ لینا کیسا
    تاریخ: 6 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 37
    حوالہ: 355

    سوال

    نیشنل سیونگ سرٹیفکیٹ کے پرافٹ ملتے ہیں وہ سود کہلاتا ہے کہ نہیں ؟اگر کہلاتا ہے تو وہ میں نہ استعمال کروں تو کس کس جگہ استعمال میں لا سکتے ہیں؟

    سائلہ:افیشن


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    نیشنل سیونگ سرٹیفکیٹ پر ملنے والی منفعت (PROFIT)ناجائز و حرام ،خالص سود ہے۔اب تک جتنے منافع حاصل کیے سب کے سب بغیر نیتِ ثواب کسی شرعی فقیر کو دے دیں ۔۔اور اللہ کے حضور سچے دل سے معافی چاہیں کہ آپ اتنے بڑے گناہ میں ملوث ہیں !!!

    اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے" الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ۡیمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ۔ترجمہ:وہ جو سُود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنادیاہویہ اس لئے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سُود ہی کے مانند ہے اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سُود تو جسے اس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا اور اس کا کام خدا کے سپرد ہےاور جو اب ایسی حرکت کرے گا وہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتوں رہیں گےۡاللہ ہلاک کرتا ہے سُود کو اور بڑھاتاہے خیرات کو اور اللہ کو پسند نہیں آتا کوئی ناشکرا بڑا گنہگار۔ (البقرہ276،275)

    قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:” وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا۔ الایۃ“ترجمہ کنزالایمان:”اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود ۔ “ (البقرۃ، آیت 275)

    حدیث پاک میں ہے:”لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم آکل الربا و موکلہ و کاتبہ و شاھدیہ “اللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے،اس کے لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ (الصحیح لمسلم،جلد 2،صفحه 27،باب الربا،مطبوعہ کراچی)

    قرض پر کسی قسم کا نفع شرط ٹھہرالینا سود اور سخت حرام و گناہ ہے۔چنانچہ حدیث پاک میں ہے:” کل قرض جر منفعۃ فھو ربا“ہر قرض جو نفع لائے وہ سود ہے۔(کنزالعمال،جلد 6، صفحه 99،مطبوعہ ، لاھور)

    مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:”عن ابن سیرین:اقرض رجل رجلاً خمسین مائۃ درھم و اشترط علیہ ظھر فرسہ فقال ابن مسعود: ما اصاب من ظھر فرسہ فھو ربا“ابن سیرین (رحمۃ اللہ تعالی علیہ) سے مروی ہےکہ ایک شخص نے ، دوسرے کو پانچ سو درہم قرض دیے اور اس پر اس کے گھوڑے کی سواری(کا نفع حاصل کرنے) کی شرط رکھی توابن مسعود (رضی اللہ تعالی عنہ) نے فرمایا: اس نے گھوڑے کی سواری کا جو نفع پایا وہ سود ہے۔ (المصنف لابن ابی شیبہ،جلد 10، صفحه 648، مطبوعہ المجلس العلمی،بیروت)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد یونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:09 صفر المظفر ا1444 ھ/6 ستمبر 2022 ء