سوال
ایک ادارہ لوگوں کو مکان کی تعمیر کی مد میں آسان اقساط پر قرض فراہم کرتا ہے، جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ: وہ دس لاکھ روپے چھ سال کی مدت کے لئے فراہم کرتے ہیں اور وہ واپسی دس لاکھ 80 ہزار روپےلیتے ہیں۔
ان کا کہنا یہ ہے کہ وہ دس لاکھ میں زمین خریدتے ہیں اور زمین ان کی ملکیت میں دی جاتی ہے ہر ماہ 15 ہزار قسط پلس دو ہزار کرایہ وصول کرتے ہیں جو کہ 6 سال میں مکمل ہو جاتا ہے ، اور زمین کے کاغذات بھی اپنی تحویل میں رکھتے ہیں ، اقساط مکمل ہونے پر مکان اور مکان کے کاغذات مالک کی ملکیت میں دے دیئے جاتے ہیں۔
80 ہزار پلس دوہزار روپے جو اضافی لیے جاتے ہیں وہ ان کی ٹیم کے اخراجات وغیرہ ہوتے ہیں، مثلا پراپرٹی کی تحقیقات اس پٹواری وغیرہ کے اخراجات انجینئرز اور دیگر جو اس پروجیکٹ کینگرانی پر مامور ہوتے ہیں ان کے اخراجات وغیرہ۔
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ 80 ہزار روپے جو مختلف سروس فراہم کرنے کے لیے بطور کرایہ وصول کی جا رہے ہیں وہ جائز ہے یا نہیں؟
سائل: محمد شہزاد ،متعلم دارالعلوم نعیمیہ فیڈرل بی ایریا کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شرعی لحاظ سےاس میں چند مفاسد ہیں جس وجہ سے مذکورہ طریقہ پر لین دین جائز نہیں !
اگر کمپنی کی جانب سے دس لاکھ روپے قرض کے طور پر دیےجا رہے ہیں تو دس لاکھ سے ایک روپے بھی زیادہ وصول کرنا منفعت ہو گاجو کہ سود ہے۔ اور اگر یہ بیع ہے تو مبیع کو بیچنے کے بعد اس سے حق ملکیت و تصرف ختم ہو جاتا ہے جبکہ یہاں پر مبیع (مکان ) بیچنے کے بعد مشتری کو ہی کرائے پر دیا جا رہا ہے جو کہ جائز نہیں !
البتہ اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ کمپنی وہ زمین اور مکان جوقرضدار (مستحق ) کو دینا چاہتی ہے،پہلےخود خریدے پھر وہ زمین اسے مناسب رقم میں اقساط پر فروخت کر دے اگرچہ کمپنی وہ زمین قیمتِ خرید سےزیادہ میں بیچے ، یوں یہصورت بیع و شرا کیبن جائے گی اور کمپنی کے لیے منافع حلال ہوجائیں گے۔
دوسراطریقہ (الاجارۃ المنتھیۃ بالتملیک)جو کہ ضمناً سو ال میں بھی مذکور ہوا اسے بھی اختیار کیا جا سکتا ہےکہ کمپنی زمین خرید کر اس پہ مکان بنا ئے پھر وہ مکان اس مستحقشخص کو کرائے پر دے دے یہاں تک کہ جب مطلوبہ رقم (1080000) کرایہ کی مد میں وصول ہو جائے توآخر میں وہ مکان مستحق کو (gift deed) پر ہبہ کر دے ۔
اور اگر کچھ رقم کمپنی ملاتی ہو اور کچھ رقم مستحق اپنی طرف سے شامل کرتا ہو تو پھر شرکت متناقصہ (diminishing musharaka) کے ماڈل کو بھی اختیار کیا جا سکتا ہے ۔
شرکت متناقصہ یہ ہے کہ دو شریک (بنک اور کمپنی ) مل کر ملکیت کی بنیاد پر (basis of ownership) گھر وغیرہ خریدتے ہیں۔ خریداری کے بعد گھر کو یونٹس میں تقسیم کر دیا جاتا ہے ،اور بنک اپنی یونٹس کسٹمرکو طے شدہ اجارے پر باہم رضامندی سے دیتا ہے ۔اوروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کسٹمر کمپنی سے اس کی یونٹ خریدتا رہتا ہے یہاں تک کہ کسٹمر مکمل پروجیکٹ کا مالک بن جاتا ہے ۔ خریداری کے اس مرحلہ کے دوران کرایہ (rent)یونٹس کے تناسب کے لحاظ سے باہم رضامندی سے کم ہوتا رہتاہے۔الغرض اس پورے عمل(procrdure) میں تین طرح کے الگ الگ معاہدات ہوتے ہیں:(1) شرکۃ المک ۔ (2)اجارہ۔ (3)بیع
معاہدہ کی یہ تینوں ہی شقیں اپنی اصل کے لحاظ سے جائز ہیں۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:01ذی الحجہ 1443 ھ/01جولائی 2022