وراثت کا مسئلہ دو بیٹے پانچ بیٹیاں ایک کروڑ رقم

    warasat ka masla do bete paanch betiyan aik crore raqam

    تاریخ: 18 مئی، 2026
    مشاہدات: 25
    حوالہ: 1368

    سوال

    ہمارے والد کا انتقال ہوا ہے وراثت میں ایک مکان ہے جسکی قیمت ایک کروڑ ہے،ہم تین بھائی (ممتاز احمد، عابد حسین، جاوید حسین)اور پانچ بہنیں (فریدہ اقبال، فرزانہ اقبال، رفعت، گلناز پروین، شاہینہ اقبال) ہیں۔والدہ اورایک بھائی ممتاز احمد کا والدین کی زندگی میں ہی انتقال ہوگیا تھا،پھر بھابھی لاہور شفٹ ہوگئی تھی، انہوں نے بھائی کا کاروبا راور جائیداد بیچ دی جس کے بعد کبھی نہیں آئی اب امریکہ میں رہتی ہے۔اب ہم دو بھائی اور پانچ بہنیں حیات ہیں۔

    سائل:حاجی عبدالرزاق:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مفتی کاکام صورتِ مستفسرہ کا جواب دینا ہے ، تحقیق و تفتیش اسکی ذمہ داری نہیں ہے لہذااگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت کو مرحوم کے دو بیٹوں اورپانچ بیٹیوں میں تقسیم کیا جائے گا ،جبکہ والدین کی زندگی میں انتقال کرجانے والے بیٹے یا اسکے ورثاء کو راثت سے کچھ نہ ملے گا۔تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کو 9 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے ہر بھائی کو الگ الگ دو حصے اور ہر بہن کو الگ الگ ایک حصہ ملے گا۔

    رقم کی صورت میں ہر بیٹے کا حصہ: 2222222/=

    رقم کی صورت میں ہر بیٹی کا حصہ: 1111111/=

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء:11)

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:14 محرم الحرام 1443 ھ/23 اگست 2021 ء