رضاعی بہن سے نکاح کیا اور اس سے بیٹی بھی پیدا ہو گئی
    تاریخ: 5 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 23
    حوالہ: 344

    سوال

    ایک خاتون نے اپنی بیٹی کے دودھ پلانے کے زمانہ میں کسی اورکی بیٹی کو چار ماہ کی عمر میں دودھ پلایا تھاپھروہ لڑکی شادی کی عمر کو پہنچی رشتہ داروں نے کہا کہ اس لڑکی کا نکاح مرضعہ خاتون(دودھ پلانے والی عورت )کے بیٹے (جوکہ آٹھ سال اس لڑکی سے بڑا ہے ) کر دیں ۔ہم نے کسی قاری صاحب سے مسئلہ پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ اس لڑکی نےجس کے ساتھ دودھ پیا ہو صرف وہ حرام ہوتا ہے ،لہذا اس لڑکی کا مرضعہ کے اس لڑکے سے نکاح جس کے ساتھ اس نے دودھ نہیں پیا ہو سکتا ہے ۔

    1:۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ لڑکی اس لڑکے کی رضاعی بہن ہے کہ نہیں ؟

    2:۔اگر یہ نکاح حرام ہے تو مسئلہ بتانے والے پر شادی کروانے والوں کیا لازم ہے؟

    3:۔اور اب اس نکاح سے ایک لڑکی بھی پیدا ہوئی ہے اس لڑکی کا کیا حکم ہے؟قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں!

    سائل:عبد اللہ

    بحکم استاذی المکرم علامہ یعقوب شاہین المدنی دام ظلہ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1:۔مذکورہ رضیعہ لڑکی(یعنی جس نے دودھ پیا) وہ مرضعہ(دودھ پلانے والی) کی تمام اولاد کی رضاعی بہن ہے خواہ مرضعہ کی وہ اولاد اس دودھ پلانے سے پہلے کی ہو یا بعدکی بلکہ فرض کریں کہ اگرمرضعہ کی کچھ اولاد پہلے خاوند سے ہوتی تو اس اولاد کے حق میں بھی حرمت ثابت ہوجاتی ۔ بعض نادان ،ناواقفِ شریعت جو یہ سمجھتے ہیں کہ رضیعنے مرضعہ کے جس بیٹے ،بیٹی کے ساتھ دودھ پیا حرمت کا تعلق صرف اسی بیٹے یا بیٹی سے ہی ہے یہ صریحخطا اور جہالت ہے ۔

    اللہ جل وعلا فرماتا ہے :وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ ترجمہ: اور(حرام کر دی گئیں تم پر ) تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایااور دودھ کی بہنیں۔(النساء:23)

    آیت میں (واخواتکم من الرضاعۃ ) میں اخوات مطلق عنالقید ہے،ہماری نظرمیںاس کی تقیید میں تو خبرِ واحد نہیں ملتی چہ جائیکہ کوئینص قرآنی یا حدیث متواتر و مشہور ہو ۔یہ سمجھناکہ حرمت کا تعلق صرف اس نسبی بیٹے یا بیٹی سے ہے جس نے ساتھ دودھ پیا ہے ،یہ مطلق کو مقید کرنا ہے جو کہ کلام اللہ پر اپنی رائے سے اضافہ کرنا ہے۔اللہ ایسی جرات سے محفوظ فرمائےآمین

    ام المومنین سیدہعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ: یحرم من الرضاعۃ مایحرم من الولادۃ ۔ترجمہ:جو( رشتے ) پیدائش (نسب) سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاع(دودھپلانے )سے بھی حرام ہو جاتے ہیں۔(صحیح مسلم ،کتاب الرضاع ،رقم الباب: 1444)

    فتاوی ہندیہ میں ہے:يُحَرَّمُ عَلَى الرَّضِيعِ أَبَوَاهُ مِنْ الرَّضَاعِ وَأُصُولُهُمَا وَفُرُوعُهُمَا مِنْ النَّسَبِ وَالرَّضَاعِ جَمِيعًا، حَتَّى أَنَّ الْمُرْضِعَةَ لَوْ وَلَدَتْ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ أَوْ غَيْرِهِ قَبْلَ هَذَا الْإِرْضَاعِ أَوْ بَعْدَهُ ۔ترجمہ: رضاعی بچے پر رضاعی ماں باپ حرام ہو جائیں گے اور ان کے رضاعی و نسبی اصول و فروع بھی یہاں تککہ مرضعہ نے اس مرد سے بچہ جنا ہو یا اس کے علاوہ کسی اور (پہلے شوہر)سے،اس ارضاع سے پہلے ہو یا بعد میں (سب اولاد رضیع پر حرام ہو جائے گی )۔(الهندية: کتاب الرضاع ,جلد :7،صفحہ : 489،دار الفکر بیروت)

    صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :بچہ نے جس عورت کا دودھ پیا وہ اس بچہ کی ماں ہو جائے گی اور اس کا شوہر (جس کا یہ دودھ ہے یعنی اُس کی وطی سے بچہ پیدا ہوا جس سے عورت کو دودھ اترا) اس دودھ پینے والے بچہ کا باپ ہو جائے گا اور اس عورت کی تمام اولادیں اس کے بھائی بہن خواہ اسی شوہر سے ہوں یا دوسرے شوہر سے، اس کے دودھ پینے سے پہلے کی ہیں یا بعد کی یا ساتھ کی ۔(بہار شریعت حصہ 07 صفحہ 39 المدینۃ العلمیہ لائبریری)

    اسی جاہلانہ نظریہ کا رد کرتے ہوئے امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ایک مقام پر لکھتےہیں : اور یہیں سے ظاہر ہوگیاکہ بعض مدعیانِ علم کا یہ خیال کہ سلمٰی اور لیلٰی زید سے پہلے پیدا ہوئی تھی تو دودھ میں شرکت نہ ہوئی، نہ سلمٰی اس کی بہن نہ لیلٰی اس کی بھانجی ٹھہری، محض جہالتِفاحشہ ہے۔(فتاوی رضویہ،کتاب النکاح ،جلد 11،صفحہ 311 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    2:۔ رضاعت سے حاصل ہونے والی حرمت ،حرمت ِ مؤبدہ (ہمیشگیکی حرمت)کہلاتی ہے،جس بنا پر یہ نکاح حرام تھا ۔ چونکہ مسئلہ غلط معلوم ہونے کی وجہ سے یہ نکاحمنعقد ہوا جس کا وبال مسئلہ بتانے والے پر ہے، اسے چاہیے کہ اللہ کے حضورمعافی مانگے کہ یہ شرع شریفپر افترا ہے ۔ لہذا اعز و اقارب پر لازم ہے کہ فی الفور میاں بیوی میں تفریق کروائیںاور انھیں مجبور کیا جائے کہ اس نکاح(فاسد نکاح ) کو فی الفورختم کریں !!میاں بیوی میں سے کوئی بھی اس نکاح کو فسخ(ختم) کرسکتا ہے ،اور فسخ کے لیے دوسرے کا موجود ہونا ضروری نہیں بلکہ دوسرے کی عدم موجودگی میں بھی فسخ کیا جا سکتا ہے ۔اور شوہر کی جانب سے متارکہ کے چند الفاظ یہ ہیں: میں نے تم سے نکاح ختم کیا۔تمہیں نکاح سے آزاد کیا ۔ میں نے تمہیںطلاق دی ۔

    درمختار میں ہے: یثبت لکل واحد منھما فسخہ ولوبغیر محضر من صاحبہ دخل بھا اولافی الاصح خروجا عن المعصیۃ ۔ترجمہ :مرد وعورت میں سے ہر ایک کوفسخ کا حق حاصل ہے خواہ اپنے شریک کی موجودگی میں ہو یاعدمموجودگی میں ، مرد نے دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو ، اصح قول کے مطابق ، تاکہ گناہ سے نکلا جاسکے ، اور یہ بات قاضی پر وجوب (وجوبِ تفریق) کے منافی نہیں ہے ۔(الدر المختار جلد03 صفحہ :132،دار الفکر بیروت)

    رد المحتار میں ہے: فی البزازیہ المتارکۃ فی الفاسد بعد الدخول لاتکون الابقول کخلیت سبیلک اوترکتک ومجرد انکار النکاح لایکون متارکۃ اما لو انکر وقال ایضا اذھبی وتزوجی کان متارکۃ والطلاق فیہ متارکۃ لکن لاینقص بہ عدد الطلاق۔ترجمہ :بزازیہ میں ہے کہ فاسد نکاح میں دخول کے بعد متارکہ صرف زبانی ہوسکتا ہے، مثلا یہ کہے میں نے تجھے نکاح سے آزاد کیا، یا یوں کہے میں نے تجھے چھوڑدیا، اور صرف سابقہ نکاح سے انکار کو متارکہ نہ کہا جائے گا، ہاں اگر نکاح کے ساتھ یہ بھی کہے کہ جا نکاح کر، تو متارکہ ہوجائے گا۔ اور اس موقع پر طلاق دینے سے بھی متارکہ ہوجائے گا لیکن اس (متارکہ )سے عدد طلاق کم نہ ہوگا۔(اس لیے کہ متارکہ طلاق کے معنی میں نہیں کما صرح المحقق فی رد المحتار عن الرملی ردا علی النھر ) (رد المحتار علی الدر المختار جلد03صفحہ133 دار الفکر بیروت)

    3:۔اس بچی کی بابت حکم شرعی یہ ہے کہ یہ ان دونوں (مرد و عورت)سے صحیح ثابت النسب کہلائے گی اور اسے دونوں کی وراثت سے حصہ بھی ملے گا ،اس لیے کہ یہ بچی نکاح فاسد میںوطی بالشبہ کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے ۔ اور وطی بالشبہ سے پیدا ہونے والی اولادثابت النسب کہلاتی ہے اور جب اسکا ثابت النسب ہونا متحقق ہو گیا تو اب والد کی جانب سے وراث ہونابھی متحقق ہو گیا ۔رہا مسئلہ حقِ حضانت( بچی کی پروش کے حق )کا تو وہ نو سال تک ماں کے پاس رہے گا، اور اس مدت میں بچیخرچہ باپ کے ذمہ ہو گا ۔اور نو سال کے بعد پرورش کا حقباپ کے پاس چلا جائے گا ۔یاد رہے کہ اس دورانیہ میںماں ،بچی سےباپ کو ملنے سے روک نہیں سکتی نہ ہی باپ ماں سے ملنے سے منع کر سکتا ہے۔

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ثبوت نسب اور وراثت کی بابت فرماتے ہیں : اوریہیں سے ظاہر ہوا کہ اس حالت میں اگر شوہر نے نہ چھوڑا اور ناجائز طور پر ہندہ سے وطی کرتا رہا اور اولاد ہوئی تو وہ اولاد اپنے ماں باپ دونوں کی وارث ہے، ماں کی وراثت تو ظاہر کہ اولاد زنا بھی اپنی ماں کی میراث پاتی ہے کما نصوا علیہ والمسألۃ فی الدر وغیرہ (جیسا کہ فقہاء کرام نے اس پر نص کی ہے اور یہ مسئلہ در وغیرہ میں ہے) او رباپ کی وراثت یوں کہ ابھی منقول ہوچکا کہ ایسی حالت کی اولاد ولدالزنا نہیں صحیح النسب ہے۔(فتاوی رضویہ جلد11 صفحہ 366رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔

    بچی کی پرورشکی بابت فتاوی خانیہ میں ہے:والنساء احق بالحضانۃ مالم یستغن الصغیر فان استغنی بان کان یاکل وحدہ ویشرب وحدہ و یلبس وحدہ وفی روایۃ یستنجی وحدہ فالاب بالغلام اولی والام بالجاریۃ حتی تحیض وعن محمدرحمہ اللہ حتی تبلغ الشہوۃ ۔ترجمہ: عورت اس وقت تک پرورش کی ذیادہ حق دار ہے جب تک بچے کو اسکی حاجت ہو،پس اگربچے کو حاجت نہ رہے یعنی اپنے آپ کھا،پی اور کپڑےپہن سکتا ہو، اور ایک روایت میں ہے کہ خوداستنجا کرلیتا ہو، تو باپ بچے کی پرورش کا زیادہ حق دار ہو گا ،اور لڑکی کی پرورشکی حقدار ماں ہے جب تک کہ اسے ماہواری نہ آجائے اور امام محمد سے مروی ہے کہ (لڑکی ماں کے پاس رہے گی) جب تک حدِ شہوت کو نہیں پہنچ جاتی ۔ (فتاوی قاضی خان ،فصل فی الحضانۃ جلد1 صفحہ 366 )

    مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ بچوں کی پرورش کے حوالے سے لکھتے ہیں : جس عورت کے ليے حقِ پرورش ہے اُس کے پاس لڑکے کو اُس وقت تک رہنے دیں کہ اب اسے اُس کی حاجت نہ رہے یعنی اپنے آپ کھاتا پیتا، پہنتا، استنجا کرلیتا ہو، اس کی مقدار سات برس کی عمر ہے اور اگر عمر میں اختلاف ہو تو اگر یہ سب کام خود کرلیتا ہو تو اُس کے پاس سے علیٰحدہ کرلیا جائے ورنہ نہیں اور اگر باپ لینے سے انکار کرے تو جبراً اُس کے حوالے کیا جائے اور لڑکی اُس وقت تک عورت کی پرورش میں رہے گی کہ حدِ شہوت کو پہنچ جائے اس کی مقدار نو برس کی عمر ہے اور اگر اس عمر سے کم میں لڑکی کا نکاح کر دیا گیا جب بھی اُسی کی پرورش میں رہے گی جس کی پرورش میں ہے نکاح کردینے سے حقِ پرورش باطل نہ ہوگا، جب تک مرد کے قابل نہ ہو۔(بہار شریعت حصہ 8 صفحہ 255 مکتبۃ المدینہ کراچی)

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:21ذی الحج 1443 ھ/21جولائی 2022