سوال
میں جاوید ولی محمد نے شہیر احمد کو دس لاکھ روپے انویسٹمنٹ کے طور پر کاروبار کیلئے دیئے، جس کا معاہدہ یہ تھا کہ شہیر احمد اپنے پروفٹ کا %30 دے گا ،جس کی اماؤنٹ 40 سے 45 ہزار ماہانہ بنتی تھی اور نقصان کی صورت میں %30 جاوید ادا کرے گا۔ کچھ عرصہ یہ سلسلہ چلا پھر جاوید نے 5 لاکھ انویسٹمنٹ میں سے واپس لے لئے اور یہ معاہدہ منافع پر ختم ہوگیا۔ (سائل کے بیان کے مطابق یہ طے پایا تھا کہ وہ جب چاہیں اپنی رقم کاروبار سے نکال سکتے ہیں شہیر احمد اس میں معترض نہیں ہونگے)۔ پھر 5 لاکھ جو انویسٹمنٹ کے بقیہ تھے اس کا نیا معاہدہ اس طرح طے ہوا کہ جاوید نے شہیر احمد سے ایک موبائل 5 لاکھ میں خریدا جس کی مارکیٹ قیمت ڈیڑھ سے دو لاکھ تھی پھر اسی نشست میں جاوید نے شہیر کو وہ موبائل فون 8 لاکھ میں بیچ دیا، جس کا معاہدہ یہ طے پایا کہ شہیر ہر ماہ 25 ہزار کی قسط جاوید کو ادا کرے گا ،یوں کل 3 لاکھ بنیں گے۔سال کے بعد جاوید شہیر سے 5 لاکھ واپس لے سکتا ہے لیکن 3 ماہ بعد شہیر نے کہا کہ مجھے کا روبار میں نقصان ہوا ہے تو اس معاہدے کو ختم کیا جائے۔اب جاوید نے شہیر سے صرف 5 لاکھ کا مطالبہ کیا ہے اور 9 ماہ کی قسطیں معاف کردیں۔کیا شہیر کے اس نقصان کی صورت میں شہیر جاوید کا نقصان ادا کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے ؟ ماقبل جن دو معاہدوں کا تذکرہ ہے کیا اس میں سود کا حکم لگتا ہے؟ برائے کرم شرعی رہنمائی فرما دیں۔
نوٹ:فریق ثانی شہیر احمد کے جیل کسٹڈی میں ہونے کی وجہ سے یہ فتوی محض صورتِ سوال کے موافق دیا جارہا ہے۔
سائل:جاوید ولی محمد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ دونوں معاہدوں میں کوئی حکم سود نہیں ۔ 3 لاکھ کی قسطیں معاف کرنا جائز ہے اسی طرح بقیہ 5 لاکھ کا مطالبہ بھی جائز ہے۔شہیر اپنے نقصان کی بھرپائی کا مطالبہ جاویدسے نہیں کرسکتا کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے،اگر جاوید مدد کرتے ہیں تو ان کی طرف سے محض نیکی شمار ہوگا۔
اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ پہلے معاہدے میں نقصان کی صورت میں %30 ہرجانے کی شرط فاسد ہے لیکن شرکت شرط فاسد سے فاسد نہیں ہوتی بلکہ وہ شرط خود فاسد ہوجاتی ہے۔لہذا اس شرط سے معاہدے پہ کوئی فرق نہیں پڑے گا۔پھر 10 لاکھ انویسٹمنٹ سے 5 لاکھ نکال کر بقیہ 5 لاکھ شہیر پر دَین قائم رہا جس کے عوض دوسرے معاہدے میں موبائل خریدا گیا۔اب یہاں 5 لاکھ کا دین ختم ہوگیا کہ اسی کے عوض شہیر سے موبائل خریدا گیا ۔پھر جاوید کا 8 لاکھ میں اسی موبائل کو شہیر کو بیچنا بیع عینہ ہےجو کہ اجماعِ فقہاء سے جائز ہے کہ درحقیقت یہ سود سے بچنے کا حیلہ ہے جسے امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے مستحب بھی لکھا ہے۔
دلائل و جزئیات:
ثمن مؤجل کرنا بلکہ معاف کرنا بھی جائز ہے،علامہ ابو الحسن علی بن ابو بکر الفرغینانی (المتوفی:593ھ) فرماتے ہیں:"وَمَنْ بَاعَ بِثَمَنٍ حَالٍّ ثُمَّ أَجَّلَهُ أَجَلًا مَعْلُومًا صَارَ مُؤَجَّلًا) ؛ لِأَنَّ الثَّمَنَ حَقُّهُ فَلَهُ أَنْ يُؤَخِّرَهُ تَيْسِيرًا عَلَى مَنْ عَلَيْهِ أَلَا تَرَى أَنَّهُ يَمْلِكُ إبْرَاءَهُ مُطْلَقًا فَكَذَا مُؤَقَّتًا".ترجمہ: کسی نے فوری ثمن کے ساتھ بیچا پھر اس کو اجل معلوم کے ساتھ مؤخر کردیا تو مؤجل ہو جائے گا،کیونکہ ثمن بائع کا حق ہے ، اس لئے مشتری پر آسانی کے لئے مؤخر کرسکتا ہے ، کیا نہیں دیکھتے کہ بائع بالکل ثمن معاف کرسکتا ہے تو اس کو مؤخر بھی کرسکتا ہے۔(الہدایۃ،کتاب البیوع،باب المرابحۃ،3/60،داراحیاء التراث العربی)
اسی قسم کی صورت کا جواب دیتے ہوئے امام قاضی فقیہ النفس شمس الآئمہ علامہ فخر الدین حسن بن منصور قاضی خان(المتوفی:592ھ) فرماتے ہیں:"رجل له على رجل عشرة دراهم فأراد أن يجعلها ثلاثة عشر إلى أجل قالوا يشتري من المديون شيئاً بتلك العشرة ويقبض المبيع ثم يبيع من المديون بثلاثة عشر إلى سنة فيقع التجوز عن الحرام ومثل هذا مروى عن رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ أنه أمر بذلك".ترجمہ: ایک شخص کے دوسرے پر دس درہم قرض ہیں وہ چاہتا ہے کہ ایک معینہ مدت تک یہ تیرہ درہم ہوجائیں ۔ علماء نے فرمایا ہے وہ مقروض سے ان ہی دس درہم میں کوئی چیز خریدے اور مبیع پر قبضہ کرلے پھر وہی چیز تیرہ درہم کے بدلے ایک سال کے ادھار پر مقروض کے ہاتھ فروخت کرے تو اس طرح سے حرام سے اجتناب ہوجائے گا، اور اسی کی مثل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔(فتاوی قاضی خان،کتاب البیوع،باب فی بیع مال الربا،فصل فیما یکون فرارا عن الربا،2/167،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
سود سے بچنے والے کیلئے عینہ مستحب ہے،امام قاضی خان رحمہ اللہ ہی فرماتے ہیں:"وقال مشايخ بلخ بيع العينة في زماننا خير من البيوع التي تجري في أسواقنا وعن أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى أنه قال العينة جائزة مأجورة وقال أجره لمكان الفرار من الحرام".ترجمہ:مشائخ بلخ رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانے کے بازاروں میں رائج بیوع میں خیر والی بیع عینہ ہےاور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں عینہ جائز ہے اور اجر و ثواب والی ہے مزید فرماتے ہیں کہ یہ اجر حرام سے بچنے کی وجہ سے ہے۔(فتاوی قاضی خان،کتاب البیوع،باب فی بیع مال الربا،فصل فیما یکون فرارا عن الربا،2/168،دار الکتب العلمیۃ بیروت)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:28 صفر المظفر1445 ھ/3 ستمبر 2024ء