شادی پر بیچنے کے لئے خریدے گئے پلاٹ پر زکوۃ
    تاریخ: 3 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 60
    حوالہ: 341

    سوال

    ایک شخصنے چندپلاٹ اس نیت سے خریدے کہ بچے بڑے ہوں گے تو یہ پلاٹ فروخت کرکے بچوں کی شادی کرے گا،کیا ان پلاٹوں پر زکوٰۃ بنے گی؟ اگربنے گی تو کتنی زکوٰۃدینی ہوگی ؟

    سائل: عبد اللہ

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بچوں کی شادی کیلئے لئے گئے پلاٹس میں کوئی زکوۃ لازم نہیں۔

    مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ زکوۃ صرف تین قسم کے اموال پر ہوتی ہے:

    (۱)ثمن یعنی سونا چاندی ۔اس کے ساتھ تمام ممالک کی کرنسی اورپرائز بانڈبھی شامل ہیں۔

    (۲) سائمہ جانور۔ وہ جانور جو سال کے اکثر حصہ میں چر کر گذر کرتا ہو اور ان سے مقصود صرف دودھ اور بچے لینا یا فربہ کرنا ہو۔

    (۳)مالِ تجارت۔وہ مال جسے بیچنے کی نیت سے خریدا ہو اور ابھی تک وہی نیت باقی بھی ہو۔

    لہذا اگر خریدتے وقت بیچنے کی نیت نہ تھی یا بیچنے کی نیت تو تھی لیکن نفع پر اس کو معلق کیا کہ اگر نفع ہوا تو بیچ دوں گا وگرنہ اپنے پاس ہی رکھوں گا تو ان دونوں صورتوں میں کوئی زکوۃ لازم نہیں ہوتی۔صورت مسؤولہ میں نیتِ تجارت متحقق نہیں کہ ان پلاٹس کو لازماً بیچا جانا معروف نہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ حفظِ ما تقدّم کے طور پر انہیں خریدا جاتا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو شادی کے اخراجات ان سے پورے کرلئے جائیں گے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی نفع ہونے کی بنیاد پر بیچنے کی نیت کرے۔ لہذا یہ پلاٹ مال ِتجارت نہ ہوئے اور ان پر زکوٰۃبھی لازم نہیں۔

    یہاں یہ اشکال نہ ہو کہ یہ نیت تو ہر تاجر کرتا ہے کہ جب اسے نفع ہوگا تو بیچے گا کیونکہ یہ عادتِ تجاّر نہیں۔بعض اوقات قیمتِ خرید پر اور کبھی تو گھاٹہ پر بھی مال بیچ دیا جاتا ہے جس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں، مثلاً دکان یا گودام میں جگہ نہ ہونا، اس مال کی مارکیٹ ڈیمانڈکم ہوجانا وغیرہ۔

    دلائل و جزئیات:

    اموال زکوۃ کے متعلق علامہ برہان الدین محمود بن احمد مازہ الحنفی (المتوفی:616ھ) فرماتے ہیں: " مال الزكاة الأثمان، وهو: الذهب والفضة وأشباهها، والسوائم وعروض التجارة".ترجمہ:زکوٰۃ کے مال (یہ)ہیں :ا ثمان یعنی سونا چاندی اور ان کی مثل (کوئی دوسری کرنسی) ، چرائی کے جانوراور تجارت کا سامان۔ (المحیط البرھانی ،کتاب الزکاۃ،الفصل الثالث ،2/240، دار الكتب العلمية، بيروت)

    مال تجارت میں وجوب ِ زکوۃ کی شرط بیان کرتے ہوئے علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: "وَشَرْطِ مُقَارَنَتِهَا لِعَقْدِ التِّجَارَةِ وَهُوَ كَسْبُ الْمَالِ بِالْمَالِ بِعَقْدِ شِرَاءٍ أَوْ إجَارَةٍ". ترجمہ: نیت کا عقدِ تجارت سے ملا ہونا (وجوب زکوۃ کیلئے)شرط ہےاور تجارت یہ ہے کہ عقدِ خریداری و کرایہ داری سے مال کو مال کے ذریعے کمانا۔ (الدر المختار، کتاب الزکوۃ، 2/273-274، دار الفکر بیروت)

    مزید علامہ حصکفی علیہ الرحمہ ہی فرماتے ہیں: "وَلَوْ نَوَى التِّجَارَةَ بَعْدَ الْعَقْدِ أَوْ اشْتَرَى شَيْئًا لِلْقِنْيَةِ نَاوِيًا أَنَّهُ إنْ وَجَدَ رِبْحًا بَاعَهُ لَا زَكَاةَ عَلَيْهِ".ترجمہ: اگر عقد (بیع و اجارہ) کے بعد تجارت کی نیت کی یا اپنےلئے خریدا اس نیت سے کہ نفع ہوا تو بیچ دے گا، ان میں کوئی زکوۃ لازم نہیں۔ (الدر المختار، 2/274)

    امام شہاب الدین احمد بن محمد الحموی (المتوفى: 1098ھ) فرماتے ہیں: "لَكِنْ لَا تَجِبُ الزَّكَاةُ إلَّا إذَا اتَّجَرَ لِأَنَّ التِّجَارَةَ فِعْلٌ لَا يَتِمُّ بِمُجَرَّدِ النِّيَّةِ وَتَحْقِيقُ الْكَلَامِ فِي هَذَا الْمَقَامِ أَنَّ الزَّكَاةَ قَدْ اُعْتُبِرَ فِي نِصَابِهَا النَّمَاءُ وَالنَّمَاءُ عَلَى قِسْمَيْنِ: خِلْقِيٌّ وَفِعْلِيٌّ. فَالْأَوَّلُ الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ وَالثَّانِي مَا يَكُونُ بِإِعْدَادِ الْعَبْدِ كَالْعُرُوضِ. فَالْأَوَّلُ لَا يَحْتَاجُ إلَى نِيَّةِ التِّجَارَةِ وَالثَّانِي يَحْتَاجُ إلَيْهَا. غَيْرَ أَنَّ التِّجَارَةَ مِنْ أَعْمَالِ الْجَوَارِحِ فَلَا يَتَحَقَّقُ بِمُجَرَّدِ النِّيَّةِ بَلْ لَا بُدَّ مِنْ اتِّصَالِهَا بِعَمَلٍ هُوَ تِجَارَةٌ. حَتَّى لَوْ اشْتَرَى ثِيَابًا لِلْبِذْلَةِ ثُمَّ نَوَى بِهَا التِّجَارَةَ لَا تَكُونُ لَهَا مَا لَمْ يَبِعْهَا لِيَكُونَ بَذْلُهَا لِلتِّجَارَةِ، بِخِلَافِ مَا لَوْ نَوَى فِيمَا هُوَ لِلتِّجَارَةِ أَنْ يَكُونَ لِلْخِدْمَةِ حَيْثُ يَصِحُّ بِمُجَرَّدِ النِّيَّةِ لِأَنَّ التُّرُوكَ يُكْتَفَى فِيهَا بِمُجَرَّدِهَا... ثُمَّ نِيَّةُ التِّجَارَةِ قَدْ تَكُونُ صَرِيحَةً وَقَدْ تَكُونُ دَلَالَةً. فَالْأَوْلَى أَنْ يَنْوِيَ عِنْدَ عَقْدِ التِّجَارَةِ أَنْ يَكُونَ الْمَمْلُوكُ بِهِ لِلتِّجَارَةِ، سَوَاءً كَانَ الْعَقْدُ شِرَاءً أَوْ إجَارَةً لَا فَرْقَ فِي ذَلِكَ بَيْنَ كَوْنِ الثَّمَنِ نَقْدًا أَوْ عَرْضًا... وَأَمَّا الدَّلَالَةُ فَهِيَ أَنْ يَشْتَرِيَ عَيْنًا مِنْ الْأَعْيَانِ بِغَرَضِ التِّجَارَةِ أَوْ يُؤَاجِرَ دَارِهِ الَّتِي لِلتِّجَارَةِ بِعَرْضٍ مِنْ الْعُرُوضِ فَتَصِيرُ لِلتِّجَارَةِ، وَإِنْ لَمْ يَنْوِ التِّجَارَةَ صَرِيحًا. لَكِنْ ذَكَرَ فِي الْبَدَائِعِ: الِاخْتِلَافُ فِي بَدَلِ مَنَافِعِ عَيْنٍ مُعَدٍّ لِلتِّجَارَةِ فَفِي كِتَابِ الزَّكَاةِ مِنْ الْأَصْلِ أَنَّهُ لِلتِّجَارَةِ بِلَا نِيَّةٍ. وَفِي الْجَامِعِ مَا يَدُلُّ عَلَى التَّوَقُّفِ عَلَى النِّيَّةِ فَكَانَ فِي الْمَسْأَلَةِ رِوَايَتَانِ وَمَشَايِخُ بَلْخِي كَانُوا يُصَحِّحُونَ رِوَايَةَ الْجَامِعِ".ترجمہ: زکاۃ صرف اس وقت واجب ہوتی ہے جب مال تجارت میں استعمال کیا جائے، کیونکہ تجارت ایک عملی کام ہے جو محض نیت سے مکمل نہیں ہوتا۔ اس بحث کی حقیقت یہ ہے کہ زکاۃ کے نصاب میں نمو (بڑھوتری) کا اعتبار کیا گیا ہے، اور نمو کی دو اقسام ہیں: (۱)خلقی نمو (۲)فعلی نمو ۔پہلی قسم سونا اور چاندی ہے اور دوسری جو انسانی عمل سے پیدا ہو، جیسے تجارتی سامان۔خلقی نمو کے لیے نیت کی ضرورت نہیں، لیکن فعلی نمو میں نیت ضروری ہے۔ تاہم، چونکہ تجارت بدنی عمل ہے، اس لیے صرف نیت کافی نہیں، بلکہ نیت کو کسی عملی اقدام کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص سوٹ بنانے کیلئے کپڑا خریدے اور بعد میں تجارت کی نیت کرے، تو تجارت متحقق ہونے میں محض نیت کافی نہیں جب تک کہ وہ اسے فروخت نہ کرے۔ اس کے برعکس، اگر کسی چیز کو تجارت کے لیے خریدا گیا ہو اور بعد میں خدمت کے لیے استعمال کرنے کی نیت کی جائے، تو یہ محض نیت سے تبدیل ہو سکتی ہے، کیونکہ ترک اعمال میں نیت ہی کافی ہوتی ہے... پھر تجارت کی نیت دو طریقوں سے ہو سکتی ہے: (۱) کبھی تو صریح نیت ہوتی ہے اور (۲)کبھی ولالتاً۔ پہلی صورت یہ ہے کہ جب عقدِ تجارت کے وقت یہ ارادہ ہو کہ خریدا گیا مال تجارت کے لیے ہے، چاہے عقد شراء ہو یا اجارہ ، خریداری نقدی سے ہو یا کسی اور عروض سے۔ رہی دلالتاً نیت تو وہ یہ ہے کہ جب اعیان میں سے کسی عین چیز کو تجارت کے مقصد سے خریدا یا عروض مں سے کسی عرض تجارت والے گھر کو کرائے پر دیا جائے، تو وہ چیز تجارت کے لیے ہو جاتی ہے، خواہ صریح نیت نہ بھی ہو۔ لیکن بدائع الصنائع میں ذکر کیا گیا ہے کہ ایسی چیز جو تجارت کے لیے تیار کی گئی ہو، اس کے منافع کے بدلے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ کتاب الزکاۃ کے مطابق اصل یہ ہے کہ وہ بغیر نیت کے بھی تجارت کے لیے شمار ہوتی ہے۔ جبکہ الجامع میں ایسی عبارت موجود ہے جو نیت پر موقوف ہونے کی دلالت کرتی ہے۔ اس مسئلے میں دو روایات ہیں، اور بلخ کے مشائخ الجامع کی روایت کو صحیح قرار دیتے ہیں۔(غمز عیون البصائر، القاعدۃ الاولی، 1/70، دار الکتب العلمیۃ بیروت) ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:10 جمادی الثانی 1446 ھ/13 دسمبر 2024ء