نکاح کرنا لیکن ازدواجی تعلق قائم نہ رکھنا کیسا؟
    تاریخ: 5 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 21
    حوالہ: 342

    سوال

    1:۔اگر شادی کے کچھ ہی عرصے بعد میاں بیوی میں (physical relaition) ختم ہو جائے اور پھر وہ زیادہ تر وقت ایک دوسرے سے الگ رہ کر گزاردیں۔اور صرف اسی وجہ سے عورت طلاق نہ لے سکے کہ عورت بالکل اکیلی ہے ،اس لیے وہ صرف آدمی کے نام کے ساتھ رہنے پر مجبور ہو تو کیا ایسی صورت میں نکاح قائم رہتا ہے؟


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    :۔نکاح قائم ہے،ازدواجی تعلق قائم نہ کرنے سے نکاح پر کسی قسم کا کوئی اثرنہیں پڑتا،یہاںتک کہ بیوی اگر مشرق میں ہو اور شوہر مغرب میں اور سال ہا سال ایک دوسرے سے دور رہیں تب بھی نکاح برقرار رہے گااس لیے کہ نکاح ختم کرنے کے لیے طلاق،خلع یا تنسیخِ نکاح میں سے کوئی ایک ضروری ہے،اور یہاں پر ان میں سے کوئی بھی چیز نہیں پائی گئی ۔مگر یاد رہے کہ محض عداوت وناپسندیدگی کی بنیاد پر ایک دوسرے سے دور رہنا شرعی لحاظ سے درست نہیں۔اگر یہ دوری شوہر کی جانب سے ہے تو بلا وجہ شوہر کا بیوی سے چار ماہ تک دور رہنا جائز نہیں کہ ہمبستری بیوی کا بھی حق ہے ،چہ جائیکہ شوہر بیوی سے تعلقِ ازدواج مکمل طور پر ختم کر دے۔اور اگردوری بیوی کی طرف سے ہو تووہ سخت گنہگار ہے کہ حدیث پاک میں ہے : عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو كنت آمرًا أحدًا أن يسجد لأحدٍ لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها" ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد:اگر میں کسی کو کسی شخص کے سامنے سجدے کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔(جامع الترمذی، کتاب الرضاع باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأۃ ، رقمالحدیث 1162)

    یاد رہے کہ نکاح کے مقاصد میں گناہ سے بچنا،حصولِ اولاد اور جائز طریقے سے تسکینِ خواہش وغیرہ شامل ہیں ،اور اگر نکاح ان مقاصد سے خالی ہو تو یہ میاں بیوی دونوں کے لیے بہت بڑی محرومی ہے۔

    فتح القدیر میں ہے:وَاعْلَمْ أَنَّ تَرْكَ جِمَاعِهَا مُطْلَقًا لَا يَحِلُّ لَهُ، صَرَّحَ أَصْحَابُنَا بِأَنَّ جِمَاعَهَا أَحْيَانًا وَاجِبٌ دِيَانَةً، لَكِنْ لَا يَدْخُلُ تَحْتَ الْقَضَاءِ وَالْإِلْزَامِ إلَّا الْوَطْأَةُ الْأُولَى وَلَمْ يُقَدِّرُوا فِيهِ مُدَّةً وَيَجِبُ أَنْ لَا يَبْلُغَ بِهِ مُدَّةَ الْإِيلَاءِ إلَّا بِرِضَاهَا وَطِيبِ نَفْسِهَا بِهِ ۔ترجمہ:جان لو کہ عورت سے بلکل جماع ترک کر دینا شوہر کے لیے حلال نہیں ،ہمارے اصحاب نے تصریح فرمائی ہے کہ عورت کے ساتھ گاہ بہ گاہ ہمبستری کرنا دیانۃً واجب ہے ،لیکن یہ قضا و الزام کے تحت داخل نہیں مگر پہلیوطی(کہ وہ واجب ہے)اور فقہائے کرام نے اس میں، مدت کا تعین نہیں فرمایا۔اور بغیر عورت کی رضا و خوشنودی کے مدتِ ایلا (چار ماہ )تک اس سے صحبت نہ کرنا جائز نہیں۔(فتح القدیر، جلد 03،صفحہ435) دار الفكر)

    علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :وَيَسْقُطُ حَقُّهَا بِمَرَّةٍ وَيَجِبُ دِيَانَةً أَحْيَانًاوَلَا يَبْلُغُ الْإِيلَاءَ إلَّا بِرِضَاهَا، وَيُؤْمَرُ الْمُتَعَبِّدُ بِصُحْبَتِهَا أَحْيَانًا۔ترجمہ:عورت کا حق ایک مرتبہ(جماع کرنے) سے ساقط ہو جائے،اور دیانۃً گاہ بہ گاہ ازدواجی تعلق قائم کرنا واجب ہےاس حال میں کہ جدائی کی مدت مدتِ ایلا(چار ماہ )کو نہ پہنچ جائے مگر عورت کی رضا سے ،اور متعبد کو یہی حکم دیا جائے گا کہ گاہے گاہے بیوی کے ساتھ صحبت کرتا رہے ۔ (الدر المختار مع تنویر الابصار باب القسم جلد03،صفحہ 203 دار الفکر بیروت)

    علامہ سید ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ اس کے تحت لکھتے ہیں: قُلْت: هُوَ حَقُّهُ وَحَقُّهَا أَيْضًا، لِمَا عَلِمْت مِنْ أَنَّهُ وَاجِبٌ دِيَانَةً۔ترجمہ:میں کہتا ہوں کہ :جماع مرد و عورت دونوں کا حق ہے جیسا کہ تم نے جان لیا کہ دیانۃً (گاہ بہ گاہ )ہمبستری شوہر پر واجب ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار باب القسم جلد03،صفحہ 203 دار الفکر بیروت)

    بدائع الصنائع میں ہے: لَهَا أَنْ تُطَالِبَهُ بِالْوَطْءِ لِأَنَّ حِلَّهُ لَهَا حَقُّهَا، كَمَا أَنَّ حِلَّهَا لَهُ حَقُّهُ، وَإِذَا طَالَبَتْهُ يَجِبُ عَلَيْهِ وَيُجْبَرُ عَلَيْهِ فِي الْحُكْمِ مَرَّةً وَالزِّيَادَةُ تَجِبُ دِيَانَةً لَا فِي الْحُكْمِ عِنْدَ بَعْضِ أَصْحَابِنَا وَعِنْدَ بَعْضِهِمْ تَجِبُ عَلَيْهِ فِي الْحُكْمِ ترجمہ:عورت کے لیے جائز ہے کہ شوہر سے ہمبستری کا مطالبہ کرےاس لیے کہ عورت کے لیے مرد کا حلال ہونا عورت کا حق ہے جیسے کہ عورت کا مرد کے لیے حلال ہونامرد کا حق ہے۔اور جب عورت مرد سے مطالبہ کرے تو شوہر پر اسے پورا کرنا واجب ہے،اور ایک بار ہمبستری کا توشوہر کو جبری حکم دیا جائے گا،جبکہ ایک سے زائد مرتبہ دیانۃً واجب ہو گا ،قضاءً نہیں(یہ مؤقف) ہمارے بعض علماء کاہے جبکہ بعض کے نزدیک قضا ءً بھی واجب ہے ۔(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع جلد 02 صفحہ 331 دار الكتب العلمية)

    صاحبِ بہار شریعت مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:ایک مرتبہ جماع قضاءً واجب ہے اور دیانۃً یہ حکم ہے کہ گاہے گاہے کرتا رہے اور اس کے ليے کوئی حد مقرر نہیں مگر اتنا تو ہو کہ عورت کی نظرا وروں کی طرف نہ اُٹھے اوراتنی کثرت بھی جائز نہیں کہ عورت کو ضرر پہنچے اور یہ اس کے جُثّہ، اور قوت کے اعتبار سے مختلف ہے۔ایک ہی بی بی ہے مگر مرد اس کے پاس نہیں رہتا بلکہ نماز روزہ میں مشغول رہتا ہے، تو عورت شوہر سے مطالبہ کر سکتی ہے اور اسے حکم دیا جائے گا کہ عورت کے پاس بھی رہا کرے، کہ حدیث میں فرمایا : وَاِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَیْک حَقًّا :تیری بی بی کا تجھ پر حق ہے۔ روز مرّہ شب بیداری اور روزے رکھنے میں اس کا حق تلف ہوتا ہے۔ (بہار شریعت حصہ07 صفحہ95 ،مکتبۃ المدینہ )

    میاں بیوی کی آپسی رنجشوں ،عداوتوں ،اور انہیں دور کرنے کے حوالے سے صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:آج کل عام شکایت ہے کہ میاں بیوی میں نااتفاقی ہے۔ مرد کوعورت کی شکایت ہے تو عورت کو مرد کی، ہر ایک دوسرے کے ليے بلائے جان ہے اور جب اتفاق نہ ہو تو زندگی تلخ اور نتائج نہایت خراب۔ آپس کی نااتفاقی علاوہ دنیا کی خرابی کے دِین بھی برباد کرنے والی ہوتی ہے اور اس نااتفاقی کا اثرِ بد اِنھیں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اولاد پر بھی ا ثر پڑتا ہے اولاد کے دل میں نہ باپ کا ادب رہتا ہے نہ ماں کی عزت اس نا اتفاقی کا بڑا سبب یہ ہے کہ طرفین(دونوں) میں ہر ایک دوسرے کے حقوق کا لحاظ نہیں رکھتے اور باہم رواداری سے کام نہیں لیتے مرد چاہتا ہے کہ عورت کو باندی سے بدتر کر کے رکھے اور عورت چاہتی کہ مرد میرا غلام رہے جومیں چاہوں وہ ہو،چاہے کچھ ہو جائے مگر بات میں فرق نہ آئے جب ایسے خیالاتِ فاسدہ طرفین میں پیداہوں گے تو کیونکر نبھ سکے ۔ دن رات کی لڑائی اور ہر ایک کے اخلاق و عادات میں برائی اور گھر کی بربادی اسی کا نتیجہ ہے۔ قرآن مجید میں جس طرح یہ حکم آیا کہ : اَلرِجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ ترجمہ:جس سے مردوں کی بڑائی ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ بھی فرمایا کہ: وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ترجمہ :جس کا صاف یہ مطلب ہے کہ عورتوں کے ساتھ اچھی معاشرت کرو۔اس موقع پر ہم بعض حدیثیں ذکر کریں جن سے ہر ایک کے حقوق کی معرفت حاصل ہو مگر مرد کو یہ دیکھنا چاہيے کہ اس کے ذمہ عورت کے کیا حقوق ہیں انھيں ادا کرے اور عورت شوہر کے حقوق دیکھے اور پورے کرے، یہ نہ ہو کہ ہر ایک اپنے حقوق کا مطالبہ کرے اور دوسرے کے حقوق سے سروکار نہ رکھے اور یہی فساد کی جڑہے اور یہ بہت ضرور ہے کہ ہر ایک دوسرے کی بیجا باتوں کا تحمل کرے،اور اگر کسی موقع پر دوسری طرف سے زیادتی ہو تو آمادہ بفساد نہ ہو کہ ایسی جگہ ضد پیدا ہو جاتی ہے اورسُلجھی ہوئی بات اُلجھ جاتی ہے۔ (بہار شریعت حصہ07 صفحہ96 ،مکتبۃ المدینہ )

    واللہ تعالی بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری

    الجواب الصحیح :ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:17محرم الحرام 1443 ھ/26اگست 2021ء