سوال
زید نے اپنی چچی کا دودھ اپنی ایک کزن کے ساتھ پیا ،کیا اب اس کزن یا اس کی دیگر دودھ شریک بہنوں سے نکاح ہو سکتا ہے؟نیزجس کا دودھ پیا اس کی اولاد سے اس رضاعی بیٹے کے دیگر بہن بھائی شادی کر سکتے ہیں ؟۔جواب عنایت فرمائیں !
سائل :بمعرفتمولانا غلام محی الدین صاحب
خضدار،بلوچستان
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
زید اپنے رضاعی بہن بھائیوں میں سے کسی سےنکاح نہیں کر سکتا ،اس لیے کہ رضاعی بہن کی حرمت بھی سگی بہن کی حرمت کی طرح ہے ۔ البتہ اس حرمت کا تعلق زید کے دیگر بہن بھائیوں کے ساتھ نہیں ہو گا ،یعنی زید کے رضاعی بہن بھائی اس کے سگے بہن بھائیوں سے نکاحکر سکتے ہیں،اس میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں ۔ جو ناجائز بتائے وہ حکمِ شریعت سے ناوقف و جاہل ہے ۔
اللہ جل وعلا کا فرمان ہے:واخواتکم من الرضاعۃ:ترجمہ(اورحرام ہیں تم پر) تمہاری رضاعی بہنیں۔ (النساء: 23)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علی ہ وآلہ وسلم کے لیے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے ساتھ نکاح کے ارادے کو جب ظاہر کیا گیا تو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:انھا لاتحل لی انھا ابنۃ اخی من الرضاعۃ ترجمہ:وہ میرے لیے حلال نہیں وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔(صحیح مسلم ،کتاب الرضاع ،رقم الحدیث:1447)
بخاری کی روایت میں ہے:عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِنْتِ حَمْزَةَ: «لاَ تَحِلُّ لِي، يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ، هِيَ بِنْتُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ عل؛یہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کےت متعلق ارشاد فرمایا: وہ میرے لیے حلال نہیں ،جو کچھ نسبی رشتہ سے حرام ہے وہ دودھ(کے رشتے) سے بھی حرام ہے۔ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔(الصحیحالبخاری،رقم الحدیث:2645)
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں : فی الحدیث دلیل علی ان حرمۃ الرضاعۃ کحرمۃ النسب فی المناکح فاذا ارضعت المرأۃ رضیعا یحرم علی الرضیع و اولادہ من اقارب المرضعۃ کل من یحرم علی ولدھا من النسب ترجمہ :یعنی اس حدیث میں دلیل ہے کہ نکاحوں کے بارے میں دودھ اور نسب کی حرمت ایک سی ہے، تو جب کوئی عورت کسی بچہ کا دودھ پلائے تو اس رضیع اور رضیع کی اولاد پر مرضعہ کے وہ سب رشتہ دارحرام ہوجائیں گے جو مرضعہ کی نسبی اولاد پر حرام ہیں۔( مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب المحرمات جلد6 ،صفحہ م222 مکتبۃ امدایہ ملتان )
امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فتاوٰی بزازیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں: الاصل الکلی فی الرضاع ان کل امرأۃ انتسبت الیک اوانتسبت الیھا بالرضاع او انتسبتما الی شخص واحد بلا واسطۃ اواحد کما بلاواسطۃ والاخربواسطۃ فھی حرام یعنی دودھ کے رشتوں میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اس سے چار قسم کی عورتیں حرام ہیں:اول وہ جو دودھ کے سبب تیری طرف منسوب ہو، یعنی تیری بیٹی پوتی نواسی کہلائے یہ رضاعی بیٹی ہوئی، دوسری قسم یہ ہے کہ دودھ کے سبب جس کی طرف تم منسوب ہو ۔یعنی اس کا بیٹا پوتا نواسا ٹھہرے یہ رضاعی ماں ہوئی، تیسری قسم یہ ہے کہ تم اور وہ دونوں ایک شخص کے بیٹا بیٹی قرارپائیں، یہ رضاعی بہن بھائی ہوئے، چوتھی قسم یہ ہے کہ تم میں ایکتو اس شخص کا بیٹا یا بیٹی ٹھہرے اور دوسرا اس شخص کا پوتا پوتی نواسا نواسی یہ رضاعی خالہ پھوپھی بھتیجی بھانجی ہوئے اوراگر تو پوتا نواساہے اوروہ بیٹی تو وہ تیری پھوپھی یا خالہ ہوئے۔(فتاوی رضویہ،جلد 11،صفحہ 495رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری
الجواب الصحیح: ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:22شوال المکرم 1442 ھ/08جون 2021ء