ایام حیض میں جماع کرنا کیسا
    تاریخ: 6 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 12
    حوالہ: 346

    سوال

    ہماری جب سے شادی ہوئی ہے ،میرے شوہر مجھ سے حیض (mansis) کے دنوںکم از کم دس سے پندرہ بار مل چکے ہیں۔کیا اس کا کوئی کفارہ بنتا ہے ؟ ہم نے اللہ کےحضور توبہ کی ہے!

    سائل:بنتِ حوا،کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    ایام حیض میں بیوی سے مجامعت(ہم بستری) کرنا ناجائز اورگناہِ کبیرہ ہے ۔اللہ کے حضور معافی و استغفار لازم ہے۔ اس مسئلہ کی ممانعت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ فقہائے کرام نے فرمایاہے کہ ایسی حالت میں جماع کرنے کو اگر جائز و حلال جانا تو یہ کفر ہے۔

    کفارہ:

    مستحب یہ ہے کہاگر یہ گناہ حیض کے ابتدائی دنوں میں ہوا تو ایک دینار صدقہ کیا جائے گا ،اور آ خری دنوں میں ہوا تو نصف دینار۔ یہ عمل ایک بار ہوایا متعدد بار بہردو صورت ایک یا نصف دینار صدقہ کرنے سے استحباب ادا ہو جائے گا۔اور اگر آپ اپنی خوشی سےاور زیادہ تصدق کرنا چاہیں تو بہت اچھی بات ہے۔

    دینار سے مراد فاروقی دینار ہے جو کہ چار ماشے چار رتی کے برابر ہے :

    اللہ تعالی کا فرمان ہے: وَ یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الْمَحِیۡضِ ؕ قُلْ ہُوَ اَذًی ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیۡضِ ۙ وَلَا تَقْرَبُوۡہُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ ۚ فَاِذَا تَطَہَّرْنَ فَاۡتُوۡہُنَّ مِنْ حَیۡثُ اَمَرَکُمُ اللہُ ؕ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیۡنَ ترجمہ: اے محبوب! تم سے حَیض کے بارے میں لوگ سوال کرتے ہیں تم فرما دو وہ گندی چیز ہے تو حَیض میں عورتوں سے بچو اور ان سے قربت نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں تو جب پاک ہو جائیں ان کے پاس اس جگہ سے آؤ جس کا اﷲ نے تمہیں حکم دیا بیشک اﷲ دوست رکھتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور دوست رکھتا ہے پاک ہونے والوں کو۔(البقرۃ:222)

    محقق علی الاطلاق سیدی علامہ کمال الدین ابن ہمام علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:وَلَوْ أَتَاهَا مُسْتَحِلًّا كَفَرَ أَوْ عَالِمًا بِالْحُرْمَةِ أَتَى كَبِيرَةً وَوَجَبَتْ التَّوْبَةُ وَيَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِهِ اسْتِحْبَابًا، وَقِيلَ بِدِينَارٍ إنْ كَانَ أَوَّلَ الْحَيْضِ وَبِنِصْفِهِ إنْ وَطِئَ فِي آخِرِهِ ترجمہ:اگرشوہر بیوی کے پاس (ایسی حالت میں جماع کرنے کو) حلال سمجھتے ہوئے آیا تو اس نے کفر کیا۔اور اگر حرام سمجھتے ہوئے آیا تو اس نے گناہِ کبیرہ کیا،اس پر توبہ واجب ہے۔اور ایک یا نصف دینار کا صدقہ کرنا مستحب ہے۔اور یہ کہا گیا ہے کہ ایک دینار اس صورت میں ہے کہ جب حیض کے ابتدائی دنوں میں ایسا ہوا،اور اگر آخری ایام میں جماع کیا تو نصف دینار ہے۔ (فتح القدیر،باب الحیض ولاستحاضہ جلد 01،صفحہ 166،دار الفکر بیروت)

    اس سے آگے لکھتے ہیں: أَمَّا الِاسْتِمْتَاعُ بِهَا بِغَيْرِ الْجِمَاعِ فَمَذْهَبُ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ وَالشَّافِعِيِّ وَمَالِكٍ يَحْرُمُ عَلَيْهِ مَا بَيْنَ السُّرَّةِ وَالرُّكْبَةِ ترجمہ:البتہ بغیر جماع کے عورت سےت نفع حاصل کرنا کے متعلق شیخین(امام ابو حنیفہ و امام ابو یوسف) اور امام شافعی و مالک علیھم الرحمہ کا مذہب یہ ہے کہ ناف کے نیچے سے گھٹنوں تک کے حصے سےاستمتاع مرد پر حرام ہے ۔(فتح القدیر،باب الحیض ولاستحاضہ جلد 01،صفحہ 166،دار الفکر بیروت)

    صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :اس حالت میں ناف سے گھٹنے تک عورت کے بدن سے مرد کا اپنے کسی عُضْوْ سے چھونا جائز نہیں جب کہ کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو شَہوت سے ہویا بے شَہوت اور اگر ایسا حائل ہو کہ بدن کی گرمی محسوس نہ ہوگی تو حَرَج نہیں۔

    مزید لکھتے ہیں : ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے چھونے یا کسی طرح کا نفع لینے میں کوئی حَرَج نہیں۔ یوہیں بوس وکنار بھی جائز ہے۔واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد یونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 05ربیع الاول 1443 ھ/13اکتوبر2021ء