جینٹس ہیئر کٹنگ کی مروجہ بعض صورتوں کا حکم
    تاریخ: 3 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 34
    حوالہ: 340

    سوال

    کیا مروّجہ بالوں کی کٹنگ قزع میں شامل ہے ؟جس کے متعلق حدیث مبارکہ میں ممانعت آئی ہے۔

    سائل: عبد اللہ،کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سر پر متعدد مقامات سے بال منڈا دینا، اسی طرح سرکے آس پاس کے بال منڈوانا اور بیچ کوچھوڑدینا قزع کہلاتا ہے۔اس طرح بال کٹوانا شرعاً ممنوع ہے اور سنت اور سلف و صلحاء کے طریقوں کے برخلاف ہے ۔روایات ِقزع کا تعلق متعدد مقامات سے حلق کے متعلق ہےلہذا ذکر کردہ صورتوں میں قینچی یا مشین سے بال چاہے کتنے ہی باریک کرلئے جائیں ان پر قزع کا اطلاق نہیں کہ ہمارے عرف کے مطابق اسے حلق نہیں گردانا جاتا۔یونہی پان بنوانا جس میں متعددمقامات سے حلق نہیں کیا جاتا قزع نہیں۔ نیز صحیح البخاری کی روایت سے بھی یہی ظاہر ہےکہ سر کے متفرق باٍلوں کے حلق پر قزع کا اطلاق ہے۔البتہ بالوں کی ایسی ہیئت رکھنا جس میں کفار سے مشابہت ہو بہرحال مسلمان کو بچنا ضروری ہے ۔

    دلائل و جزئیات:

    قزع کی ہیئت و کیفیت کے متعلق اعلی حضرت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’تالو کے بال منڈانا جس طرح یہاں کے لوگوں عادت ہے بشرطیکہ پیشانی کے بال باقی رکھے جائیں جسے پان بنوانا کہتے ہیں جائز ہے مگر اولٰی نہیں۔ہاں متفرق مواضع سے قطعے قطعے منڈوانا جیسا کہ بعض لوگ کرتے ہیں بیچ سرمنڈوادیا آس پاس کے بال چھوڑدئے اور کنپٹیوں پر ببریاں رکھیں آس پاس منڈوادئے اور گدی پر ایک قطعہ بالوں کا چھوڑا دہنے بائیں حلق کئے اسے عربی میں قزع کہتے ہیں اور وہ ممنوع ہے ‘‘۔ (فتاوی رضویہ ، 22/577، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    مزید آپ علیہ الرحمہ ’’اشعۃ اللمعات‘‘ کی عبارت نقل کرتے ہیں: گفتہ اند قزع حلق راس است از مواضع متفرقہ آں واگر چہ ظاہر عبارت کہ در تفسیر وے واقع شدہ مطلق است ولیکن شراح ہمہ تصریح کردہ اند بایں قید ودر روایت فقہیہ نیز ہمچنیں آمدہ است . کہتے ہیں (یعنی شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ)کہ ’’قزع‘‘ سر کے بالوں کو مختلف مقامات سے مونڈ ڈالنا ہوتاہے اگر چہ بظاہر وہ عبارت جو تفسیر ’’قزع‘‘ میں واقع ہوئی ہے وہ مطلق ہے لیکن تمام شارحین نے اس قید کا صراحتا ذکر کیا ہے (قید یہ ہے کہ سر کے مختلف حصے مونڈ دیئے جائیں) اور فقہی روایات میں بھی یونہی آیا ہے۔ (فتاوی رضویہ ، 22/577، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    قزع کے متعلق صحیح مسلم میں ہے:"عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْقَزَعِ» قَالَ: قُلْتُ لِنَافِعٍ وَمَا الْقَزَعُ قَالَ: «يُحْلَقُ بَعْضُ رَأْسِ الصَّبِيِّ وَيُتْرَكُ بَعْضٌ".ترجمہ:ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے قزع سے منع فرمایا۔ نافع سے پوچھا گیا، قزع کیا چیز ہے؟ نافع نے کہا، بچہ کا سر کچھ مونڈدیا جائے، کچھ متعدد جگہ چھوڑ دیا جائے۔ (صحیح مسلم،باب کراہۃ القزع،1675/3،رقم:2120،دار احیاء التراث العربی)

    قزع میں مونڈنا شامل ہے،چنانچہ فتاوی ہندیہ میں ہے :"يكره القزع وهو أن يحلق البعض ويترك البعض قطعا مقدار ثلاثة أصابع كذا في الغرائب".ترجمہ : قزع مکروہ ہے اور قزع یہ ہے کہ مختلف ٹکڑوں میں تین انگلیوں کی مقدار تک بعض سر کو مونڈے اور بعض کے بال چھوڑ دے ۔(الفتاوی الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ ، الباب التاسع عشر ،5/357، دار الفکر)

    متفرق مقامات سےقزع اجماعاً مکروہ تنزیہی ہے،چنانچہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : " أجمع العلماء على كراهة القزع إذا كان في مواضع متفرقة إلا أن يكون لمداواة ونحوها وهي كراهة تنزيه ".ترجمہ :قزع کے مکروہ ہونے پر علماء کا اجماع ہے جب یہ قزع سر کے مختلف حصوں میں ہو ، الاّ یہ کہ علاج وغیرہ کے واسطے ہواور یہ قزع مکروہِ تنزیہی ہے۔(المنہاج شرح صحیح مسلم،باب کراہۃ القزع،14/101،دار احیاء التراث العربی)

    اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’یہ نئی نئی تراشیں ایک ایک انگل کے بال رکھنا جب اس سے بڑھیں کتروادینا یا آگے سے بڑے پیچھے سے کترے ہوئے یا وسط تالو سے پیشانی تک کھلوادینا یا گدی کے بال منڈانا یا پیشانی سے گدی تک سڑک نکالنا یامنڈے سرخواہ بالوں کی حالت میں یعنی چوڑی قلمیں بڑھا کر رخساروں پر جھکانا یا داڑھی میں ملادینا، یہ باتیں مخالف سنت وخلاف وضع صلحائے مسلمین ہونے کے علاوہ ان میں اکثر اقوام کفار کی ایجاد ہیں جن کی مشابہت سے مسلمانوں کو بچنا چاہیے‘‘۔(فتاوی رضویہ ، 22/577، رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔

    ہذا ما ظہر لی واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:26 رجب المرجب 1444 ھ/18جنوری 2023ء