وراثت کا مسئلہ دو بیٹے اورا یک بیٹی

    warasat ka masla do bete aur aik beti

    تاریخ: 12 مئی، 2026
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 1323

    سوال

    السلام علیکم

    عرض خدمت ہے کہ ایک شخص کا انتقال ہوا اور کے ترکے میں ایک مکان ہے جس کی قیمت 50لاکھ ہے ، اس کے ورثاء میں 2بیٹے اور 1بیٹی ہے ۔ اس کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں ہے ؟ اس میں انکا کتنا کتنا حصہ ہوگا ؟ برائے مہربانی بتادیں

    سائل: سید ارشد علی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ مذکور ہواور ان کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں ہے تو میت نے جو کچھ بھی چھوڑا ، اسکو 5حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے ہر بھائی کو 2حصے ملیں گے اور ہر بہن کو ایک حصہ ملے گا ۔

    قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہےومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین :ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔یعنی 50لاکھ میں سے ہر بھائی کو 20لاکھ اور بہن کو 10لاکھ ملیں گے ۔

    واﷲ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح: مفتی محمد عمران شامی

    تاریخ اجراء:1رجب المرجب 1439ھ19 مارچ 2018