سوال
حمل گرنے کے بعد عورت کو نو یا دس دن ناپاکی ہوتی ہے کہ اسکے بعد جسم پاک کرکے نماز شروع کرسکتی ہے یا پھر پاک ہونے کے لیے سوا مہینے کا انتظار ضروری ہے اسکے بعد نماز وغیرہ شروع کرے۔ رہنمائی فرمادیں۔
سائلہ: یاسمین ، کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر حمل ایک سو بیس دن یا اس سے زائد کا تھا تو آنے والا خون نفاس کا ہے ، اس پر نفاس والے احکام جاری ہونگے۔(جسکی تفصیل آگے آرہی ہے) اور اگر حمل ایک سو بیس دن سے کم کا تھا تو آنے والا خون اگر حیض ہوسکے تو حیض ہے ۔ اس پر حیض والے احکام جاری ہوں گے ، اور اگر حیض بنانا ممکن نہ ہو تو آنے والا خون استحاضہ کا ہے۔
اسکی تفصیل یہ ہے کہ
1:کسی عورت کا حمل گر گیاتواگربچہ کاایک آدھ عضوبن گیاہوتوگرنےکےبعد جو خون آئےگاوہ نفاس ہےاس صورت میں حکم یہ ہے کہ اگر پہلی دفعہ نفاس کا خون آیا ہے یا پہلے بھی آیا ہے لیکن کتنے دن آیا یہ یاد نہیں تو اس صورت میں چالیس دن نفاس کے ہوں گے ،ان دنوں کے بعد نماز وغیرہ شروع کرے۔ اگرچالیس دن سے زائد خون آیا تو اگر عورت کی ایک عادت مقرر ہو تو جتنی دن عادت کے ہیں اتنے ہی دن نفاس کے ہونگے لہذا اتنے دن نماز نہ پڑھے مثلا عادت ہے کہ 30 دن نفاس کا خون آتا ہے لیکن اس دفعہ 45 دن آیا تو تیس دن نفاس کے ہیں باقی استحاضہ کے لہذاتیس دن بعد نماز شروع کرے۔اوراگربچہ کا کوئی عضوبالکل نہیں بنا تواگروہ خون حیض بن سکےتوحیض ہے، اگر دس دن آئےتو پورے دس دن حیض ہے اسکے بعد نماز شروع کرے اور اگر دس دن سے زائد آئے تو اگر حیض میں عادت مقرر ہو تو اسی کے مطابق حیض کے دن شمار ہوں گے ان دنوں کے گزرنے کے بعد نماز وغیرہ شروع کریں ۔اور اگر عادت مقرر نہ ہو تو دس دن حیض ہے اسکے بعد نماز شروع کرے ۔مثلا عادت تھی 7 دن کی اس بار دس دن آیا تو پورا حیض ہے اور 12 دن آیا تو 7 دن حیض اور 5 دن استحاضہ ہے۔اوراگرحیض بھی نہ بن سکےمثلاًتین دن سےکم آئےیاپاکی کازمانہ کے پورےپندرہ دن نہیں ہوئے تھےکہ خون آگیا تووہ استحاضہ ہے۔اس خون کے باوجود نماز جاری رکھیں ۔ہروقت کی نماز کے لیے نیا وضو کریں۔ اور بچے کے عضو بننے یا نہ بننے کا اعتبار حمل کو ایک سو بیس دن مکمل ہونے سے ہے یعنی اگر ایک سو بیس دن کا حمل ہے تو عضو بننا قرار دیا جائے گا اور اگر ایک سو بیس دن سے کم دن کا حمل تھا تو عضو بننا قرار نہیں پائے گا۔
2:عورت کی شرمگاہ (یعنی اگلے مقام )سے نکلنے والا خون تین طرح کا ہوتا ہے ،حیض کا خون ،نفاس کا خون ، استحاضہ کا خون۔عورت کے آگے کے مقام سے جو خون عادی طور پر نکلتا ہے اور بیماری یا بچہ پیدا ہونے کے سبب سے نہ ہو، اُسے حَیض کہتے ہیں اور بیماری سے ہو تو اِستحاضہ اور بچہ ہونے کے بعد ہو تو نِفاس کہتے ہیں۔حیض کی کم از کم مدت تین دن،تین راتیں ہیں اور زیادہ سے زیادہ دس دن،دس راتیں ہے۔ ان دونوں کے علاوہ جو خون آئے اسکو استحاضہ کا خون کہتے ہیں ، مثلا عورت کو تین دن سے کم خون آیا یا دس دن سے زیادہ آیا تو یہ خون استحاضہ کا ہے۔ یہ اس وقت ہے جب کہ عورت کو پہلی بار حیض آیا اور اگر پہلے اُسے حَیض آچکے ہیں اور عادت دس دن سے کم کی تھی تو عادت سے جتنا زِیادہ ہو اِستحاضہ ہے۔ مثلا عورت کی پانچ دن کی عادت تھی اب آیا دس دن تو کل حَیض ہے اور بارہ دن آیا تو پانچ دن حَیض کے باقی سات دن اِستحاضہ کے اور ایک حالت مقرر نہ تھی بلکہ کبھی چار دن کبھی پانچ دن تو پچھلی بار جتنے دن تھے وہی اب بھی حَیض کے ہیں باقی اِستحاضہ کے دن ہیں۔
اسی طرح نفاس کے دنوں کی کم از کم کوئی مدت مقرر نہیں ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ چالیس دن ،چالیس رات ہے ۔اگر کسی کو پہلی بار بچہ ہوا تو ولادت کے بعد اگر چالیس دن سے زائد خون آیا تو چالیس دن نفاس کے ہیں اور اس سے زائد جو ایام ہیں وہ استحاضہ کے ہیں۔اور اگر پہلی بار بچہ پیدا نہیں ہوا بلکہ پہلے بھی ہوچکا ہے تو اس سے پہلے عادت مقرر ہے ،تو اب دو صورتیں ہیں چالیس دن آئے گا یا اس سے زائد، اگر چالیس دن آئے تو کل نفاس ہے اور اگر چالیس دن سے زائد آیا تو عادت کے دنوں تک نِفاس ہے اور جتنا زِیادہ ہے وہ اِستحاضہ، جیسے عادت تیس دن کی تھی اس بار پینتالیس دن آیا تو تیس دن نِفاس کے ہیں اور پندرہ اِستحاضہ کے۔
عورت کے لیےحیض و نفاس کی مدت کے دوران نماز پڑھنا،روزہ رکھنا،قرآن کوبغیر غلاف چھونا،قرآن کی تلاوت کرنا خواہ دیکھ کر یا زبانی ، مسجدمیں داخل ہونا، کعبۃ اللہ کا طواف کرنا، یہ تمام امور ممنوع ہیں ۔جبکہ استحاضہ کے دنوں میں نماز ،روزہ وغیرہ معاف نہیں ہے۔ بلکہ ہر نماز کے لیے نیا وضو کرے اور ایک وقت میں اس وضو سے جتنی چاہے نماز پڑھے اگلے وقت کے لیے دوبارہ وضو کرنا ضروری ہے۔
اوردوحیضوں کے درمیان ضروری ہے کہ کم از کم پندرہ دن پاکی کے ہوں ، اگر ایک حیض ختم ہوئے پندرہ دن نہ گزرے تھے کہ خون آگیا تو یہ حیض نہیں ہے بلکہ استحاضہ ہی ہے۔
فتاویٰ ھندیہ میں ہے :وَالسَّقْطُ إنْ ظَهَرَ بَعْضُ خَلْقِهِ مِنْ أُصْبُعٍ أَوْ ظُفْرٍ أَوْ شَعْرِ وَلَدٍ فَتَصِيرُ بِهِ نُفَسَاءَ. هَكَذَا فِي التَّبْيِينِ وَإِنْ لَمْ يَظْهَرْ شَيْءٌ مِنْ خَلْقِهِ فَلَا نِفَاسَ لَهَا فَإِنْ أَمْكَنَ جَعْلُ الْمَرْئِيِّ حَيْضًا يُجْعَلُ حَيْضًا وَإِلَّا فَهُوَ اسْتِحَاضَةٌ.ترجمہ: اور بچہ کا کوئی عضو بن چکا ہو مثلا انگلی،ناخن یا بال (پھر اس بچے کے گرنے کے بعد )خون آیا تو وہ نفاس کا ہے ۔ تبیین میں اسی طرح ہے۔اور اگر اس بچے کی خلقت ظاہر نہ ہوئی ہو تو نفاس نہیں ہے تو اب اسکو حیض قرار دینا ممکن ہو تو حیض ہے ورنہ استحاضہ ہے۔(فتاویٰ ھندیہ کتاب الطہارۃ الباب السادس فی الدماء المختصۃ بالنساء ج1 ص 37)
بدائع الصنائع میں ہے:والسقط إذا استبان بعض خلقه فهو مثل الولد التام يتعلق به أحكام الولادة من انقضاء العدة، وصيرورة المرأة نفساء لحصول العلم بكونه ولدا مخلوقا عن الذكر، والأنثى بخلاف ما إذا لم يكن استبان من خلقه شيء لأنا لا ندري ذاك هو المخلوق من مائهما، أو دم جامد ، فلا يتعلق به شيء من أحكام الولادة.ترجمہ: اور سقط (یعنی وہ حمل جو گر جائے) جب اسکے بعض عضو ظاہر ہو جائیں تو وہ مکمل بچے کی طرح ہے اس کے ساتھ ولادت کے احکام متعلق ہوں گے جیسے عدت کا پورا ہونا، عورت کا نفاس والی ہونا ،کیونکہ اس بات کا علم حاصل ہوچکا ہے کہ اس بچہ کی تخلیق مردو عورت کے اختلاط سے ہوئی ہے۔بر خلاف کہ جب اسکا کوئی عضو ظاہر نہ ہو کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ مرد و عورت کے اختلاط سے پیدا شدہ ہے یا جما ہوا خون ہے لہذااس کے ساتھ ولادت والے احکام متعلق نہ ہوں گے۔( بدائع الصنائع کتاب الطہارۃ باب الاستحاضۃ واحکامہا جلد 1ص 43)
حاشیہ چلپی علیٰ تبیین الحقائق میں ہے: (قَوْلُهُ: أَوْ ظُفُرٍ أَوْ شَعْرٍ) فَلَوْ لَمْ يَسْتَبِنْ مِنْهُ شَيْءٌ فَإِنْ أَمْكَنَ جَعْلُهُ حَيْضًا بِأَنْ امْتَدَّ جُعِلَ إيَّاهُ: ترجمہ: اگر کوئی عضو ظاہر نہ ہو ،(پھر خون آجائے )تو اگر اسکو حیض بنانا ممکن ہو تو حیض ہے۔(ورنہ استحاضہ ہے)
اسی میں ہے : لَا تَسْتَبِينَ الْخِلْقَةُ فِي أَقَلَّ مِنْ مِائَةٍ وَعِشْرِينَ يَوْمًا؛ لِأَنَّ أَرْبَعِينَ يَوْمًا مُدَّةُ النُّطْفَةِ وَأَرْبَعِينَ يَوْمًا مُدَّةُ الْعَلَقَةِ وَأَرْبَعِينَ يَوْمًا مُدَّةُ الْمُضْغَةِ كَذَا فِي الْوَاقِعَاتِ. ترجمہ: اعضاء ایک سو بیس دن سے کم میں ظاہر نہیں ہوتے کیونکہ چالیس دن نطفہ کی مدت ہے ،اور چالیس دن جمے ہوئے خون کی مدت ہے ،چالیس دن گوشت کے لوتھڑے کی،اسی طرح واقعات میں مذکور ہے۔ (حاشیہ چلپی علیٰ تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ، باب النفاس جلد 1 ص 67 الشاملہ )
نورالایضاح مع نجاۃ الارواح میں ہے: يخرج من الفرج حيض ونفاس واستحاضة.فالحيض: دم ينفضه رحم بالغة لا داء بها ولا حبل ولم تبلغ سن الإياس.وأقل الحيض ثلاثة أيام وأكثره عشرة.النفاس: هو الدم الخارج عقب الولادة.وأكثره أربعون يوما ولا حد لأقله.والاستحاضة دم نقص عن ثلاثة أيام أو زاد على عشرة في الحيض وعلى أربعين في النفاس.وأقل الطهر الفاصل بين الحيضتين خمسة عشر يوما. ولا حد لأكثره.ويحرم بالحيض والنفاس الصلاة. والصوم. وقراءة آية من القرآن. ومسها إلا بغلاف ودخول مسجد. والطواف :ترجمہ: کہ عورت کی شرمگاہ (یعنی اگلے مقام )سے نکلنے والا خون ،حیض ،نفاس اوراستحاضہ کا خون،حیض وہ خون ہے جو بالغہ کے رحم سے نکلتا ہے ۔لیکن نہ بیماری کی وجہ سے ہو نہ ولادت کی وجہ سے اور نہ وہ عورت آئسہ(پچپن سال یا اس سے زائد کی ہو)۔ اور حیض کی کم از کم مدت تین دن ہے اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے۔ اور نفاس وہ خون ہے جو ولادت کے بعد نکلتا ہے۔اور اسکی زیادہ سے زیادہ چالیس دن مدت ہے اور کمی کی کوئی حد نہیں ہے۔اور استحاضہ وہ خون ہے جوحیض میں تین دن سے کم یا دس دن سے زائد ہو اور نفاس میں چالیس دن سے زائد ہوجائے۔اور اور پاکی جو دو حیضوں کے درمیان ہواسکی کم از کم مدت پندرہ دن ہیں ۔اور زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے ، اور حیض و نفاس کی وجہ سے نماز، روزہ، قرآن کی قرات خواہ ایک آیت ہو،قرآن کو بغیر غلاف کے چھونا ،مسجد میں داخل ہونا،اور طواف کرنا حرام ہے۔( نورالایضاح مع نجاۃ الارواح ص 38 الشاملہ)
خلاصہ یہ ہے کہ اگر حمل ایک سو بیس دن یا اس سے زائد کا تھا تو آنے والا خون نفاس کا ہے ، اس پر نفاس والے احکام جاری ہونگے اور اگر حمل ایک سو بیس دن سے کم کا تھا تو آنے والا خون اگر حیض ہوسکے تو حیض ہے ۔ اس پر حیض والے احکام جاری ہوں گے ، اور اگر حیض بنانا ممکن نہ ہو تو آنے والا خون استحاضہ کا ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:24 صفر المظفر 1440 ھ/03 نومبر 2018 ء