بدبو دار پانی سے وضو و غسل
    تاریخ: 30 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 27
    حوالہ: 484

    سوال

    ہمارے علاقے میں بعض اوقات بدبو والا پانی آتا ہے ،جس میں نجاست کارنگ یا اجزا نظر نہیں آتے،لیکن بو بہت واضح ہوتی ہےپھر پانی ٹھیک آنے لگ جاتا ہے تو بد بووالے پانی کا کیا حکم ہے اگر اس سے وضو یا غسل کرلیا یا کپڑے دھولیے تو کیا حکم ہوگا؟

    سائل :عبد اللہ :کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورتِ مسئولہ میں اگر پانی میں نہ ہی نجاست کے اجزاء ظاہر ہوں اور نہ ہی اس میں نجاست کا ہونایقینی طور پر معلوم ہو، تو ایسا پانی پاک ہے،اس طرح کے پانی سے وضو،غسل اور کپڑے دھونے میں کو ئی حرج نہیں ہے ۔جہاں تک بدبو کا تعلق ہے تو وہ ایک عرصے تک ٹھہرے رہنے کی وجہ سے ہوجاتی ہے۔

    اور اگر نجاست کا اثر ظاہر ہوجائے یا نجاست کے ہونے کا یقینی طور پر علم ہوجائے اور نجاست کے اثر یعنی رنگ ،بو یا ذائقہ میں سے کوئی ایک بھی پایاجائے تو پانی ناپاک ہوجائے گا ۔

    صرف بدبو آنے سےپانی کے نجس ہونے کا حکم نہیں دیا جائے گا ،اس متعلق البحر الرائق کی شرح کنز الدقائق میں ہے کہ: أي يجوز الوضوء بما أنتن بالمكث :ترجمہ:یعنی جائز ہے وضوء کرنا اس پانی سے جس میں ٹھرے رہنے کی وجہ سے بد بو ہوجائے۔ (البحرالرئق شرح کنز الدقائق،کتاب الطھارۃ،باب المیاہ،ج1،ص126)

    مزید فرماتے ہیں: لأنه لو علم أنه أنتن للنجاسة لا يجوز به الوضوء، وأما لو شك فيه، فإنه يجوز ولا يلزمه السؤال عنه :ترجمہ:اس لئے کہ اگر معلوم ہوکہ بد نونجاست کی وجہ سے ہے تو وضوء کرنا جائز نہیں ہے ،اور اگر شک ہو توجائز ہے اور متوضی پر سوال کرنالازم نہیں ہے ۔(البحرالرئق شرح کنز الدقائق،کتاب الطھارۃ،باب المیاہ،ج1،ص126)

    اسی طرح سیدی اعلی حضرت فرماتے ہیں: حوض کا پانی جس میں بدبُو آتی ہو جبکہ اُس کی بُو نجاست کی وجہ سے ہونا معلوم نہ ہو(اس سے وحو جائز ہے۔) خانیہ میں ہے: یجوز التوضوء فی الحوض الکبیر المنتن اذالم تعلم نجاسۃ لان تغیر الرائحۃقد یکون بطول المکث :ترجمہ:بڑے حوض میں اگر بدبو ہو تو بھی اس سے وضو ء جائز ہے بشرطیکہ اس میں نجاست معلوم نہ ہو کیونکہ پانی کے ٹھہرے رہنے کی وجہ سے بھی کبھی بدبُو پیدا ہوجاتی ہے۔

    پھر مزید فرماتے ہیں کہ اقول:وکذا الصغیر وانما قید بالکبیر لاجل فی معناہ ان الکبیر اذا تغیر احد اوصافہ بنجس ینجس فالحوض الکبیر المنتن قدیتوقاہ الموسوس توھما ان نتنہ بالنجس فافادانہ وھم لایعتبر:ترجمہ: میں کہتا ہوں چھوٹے حوض کا بھی یہی حکم ہے، بڑے کی قید محض اس لئے لگائی ہے کہ بڑے حوض کا پانی جب نجاست کی وجہ سے متغیر ہوجائے اور اس کا کوئی وصف بدل جائے تو نجس ہے اگر بڑے حوض میں بدبو پائی جائے تو وہمی شخص اس سے پرہیز کرسکتا ہے کہ شاید اس کی بدبو نجاست کے باعث ہے، لیکن اس عبارت سے یہ بتادیا کہ یہ وہم معتبر نہیں ہے۔(فتاوی رضویہ ،ج2،ص37)

    اور اگر پانی میں نجاست کا اثر ظاہر ہوجائے تو اس متعلق اعلی حضرت الشا ہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : رنگ یا بُو یا مزہ اگر کسی پاک چیز کے گرنے یا زیادہ دیر ٹھہرنے سے بدلے تو پانی خراب نہیں ہوتا ہاں نجاست کی وجہ سے تغیر آجائے تو نجس ہوگا اگرچہ کتنا ہی کثیر کیوں نہ ہو۔(فتاوی رضویہ ،ج 3،ص249)

    پانی کے پاک ہونے میں ایک بات لازمی طورپر یاد رہے کہ فقہاء نے پانی کی مقدار کودوقسموں میں منقسم کیا ہے ،ایک قلیل اور کثیر ،اور قلیل اور کثیر کےتعین کے لئے ایک مقدار کو خاص کیا ہے ،اور وہ ہے کہ اگر کوئی پانی دہ در دہ(دس ہاتھ لمبااور دس ہاتھ چوڑا)ہے تو کثیر ہے اور اس سے کم ہے تو قلیل ہے ۔اس وجہ سے دونوں کے حکم میں بھی فرق ہے ۔

    اس وضاحت کو قدوری میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: وكل ماءٍ وقعت فيه نجاسةٌ لم يجز الوضوء به قليلاً كان أو كثيراً لأن النبي عليه الصلاة والسلام أمر بحفظ الماء من النجاسة؛ فقال لا يبولن أحدكم في الماء الدائم ولا يغتسلن فيه من الجنابة وقال عليه الصلاة والسلام: إذا استيقظ أحدكم من منامه فلا يغمسن يده في الإناء حتى يغسلها ثلاثا فإنه لا يدري أين باتت يده وأما الماء الجاري إذا وقعت فيه نجاسةٌ جاز الوضوء منه، إذا لم ير لها أثرٌ؛ لأنها لا تستقر مع جريان الماء. والغدير العظيم الذي لا يتحرك أحد طرفيه بتحريك الطرف الآخر: ترجمہ:اور ہر پانی جس میں نجاست گر جائے تو اس سے وضوء جائز نہیں ہے چاہے قلیل ہویا کثیر ،اس لئے کے نبی ﷺنے پانی کو نجاست سے محفوظ رکھنے کا حکم دیا ہے تو آپ ﷺنے فرمایا تم میں کوئی بھی ٹھہرے ہوئےپانی میں پیشاب نہ کرے اور جنابت کو اس میں نہ دھوئے ،اور نبی ﷺ ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک اپنی نیند سے جاگے تو وہ بر تن میں ہاتھ اس صورت میں ڈالے جب اس اپنے ہاتھ تین مرتبہ دھولئے ہوں کیونکہ وہ نہیں جانتا اس کے ہاتھوں نے رات کہاں گزاری ہے ۔اور بہر حال جاری پانی ،جب اس میں نجاست گر جائے تو اس سے وضوجائز ہے ،جب تک نجاست کااثر ظاہر نہ ہواس لئے کہ جاری پانی میں نجاست نہیں ٹھہرتی ،اور بڑا تالاب وہ جس میں ایک طرف سے حرکت دینے سے دوسری طرف متحرک نہ ہو۔(القدوری ،کتاب الطھارۃ ص21)

    حوض ِکبیر کی فقہاء نے مختلف تعریفیں کی ہیں امام قدوری نے اس کو اس طرح ذکر کیا کہ جس میں ایک طرف سے حرکت دینے سے دوسری طرف متحرک نہ ہو جبکہ دیگر نے دہ در دہ سے اس کو تعبیر کیا ہے جیساکہ نورالایضاح میں اس طرح ذکر کیا گیا ہے : والقليل ما دون عشر في عشر فينجس وإن لم يظهر أثرها فيه :ترجمہ: قلیل وہ ہے دہ دردہ سے کم ہوتو وہ نجس ہے اور اس میں نجاست کا اثر ظاہر نہیں ہے۔(نورالایضاح ،باب فی المیاہ،ص17)

    اس عبارت کی وضاحت کرتے ہوئے مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے کہ :وأما إذا كان عشرا في عشر بحوض مربع أو ستة وثلاثين في مدور وعمقه أن يكون بحال لا تنكشف أرضه بالغرف منه على الصحيح: ترجمہ:بہرحال حوض چوڑا دہ در دہ ہویا گولائی چھتیس ہاتھ ہواور اس کی گہرائی اتنی ہوکہ چلو بھر لیاجائے تو زمین ظاہر نہ ہو،صحیح قول پر۔(حاشیہ الطحطاوی علی مراقي الفلاح شرح متن نور الإيضاح،ص27)

    اسی طرح اگررنگ ،بو ،ذائقہ میں سے ایک بھی جائے تو پانی ناپاک ہوجائے گا جیساکہ فتاوی شامی میں ہے کہ: (وبتغير أحد أوصافه) من لون أو طعم أو ريح (ينجس) الكثير ولو جاريا إجماعا، أما القليل فينجس وإن لم يتغير ترجمہ:(اور اوصاف میں سے کسی ایک کے تبدیل ہونےسے) یعنی رنگ یا ذائقہ یابوسے(نجس ہوجاتا ہے) یعنی کثیر پانی ،اگر چہ جاری ہو اجماعاً،بہر حال قلیل نجس ہوجاتاہے اگرچہ اس کے اوصاف بھی نہ بدلیں ہوں ۔(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الطھارۃ،باب المیاہ،ج1،ص332)

    یعنی ماء قلیل میں نجاست کے گرنے سے پانی ناپاک ہوجاتا ہے اگر چہ اس کے اوصاف بھی نہ ندلے ہوں ،جبکہ ماء کثیر میں فقہاء کرام اوصاف میں سے کسی ایک کے تغیر کا اعتبار کیا ہے اور ماء جاری اور بڑا حوض ماء کثیر کی مثال ہے اور دونوں کا ایک ہی حکم ہے جیساکہ جدالممتار میں اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضاخاں علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ: الاتری ان الحوض الحق بالماء الجاری علی کل حال لاجل الضرورۃ: ترجمہ:کیا تو نہیں دیکھتا کہ حوض کو جاری پانی کے ساتھ ملحق کیا گیا ہے ہر حال میں ضرورت کی وجہ سے ۔(جد الممتار علی رد المحتار،باب المیاہ ج1،ص432)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:محمد طلحہ قادری نوری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:28ذی الحجہ 1442 ھ/09اگست 2021 ء