کنویں سے متعلق سوالات کے جوابات
    تاریخ: 30 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 32
    حوالہ: 488

    سوال

    گزارش یہ ہے کہ برائے کرم چند مسائل پر میری شرعی رہنمائی فرمائیں :

    1:۔ کنویں کی طہارت اور پلیدی میں یہ بات ملتی ہے کہ کنواں چھوٹا ہو جس طرح نورالایضاح میں ہے ''تنزح البئر الصغیرۃ ''تو چھوٹے کنویں سے کیا مراد ہے؟

    2:۔ دہ در دہ کی وضاحت کردیں فٹ یا گز میں جو عام فہم ہو جائے مثلا 100 ہاتھ میں کتنے گزاور فٹ ہونگے ؟

    3:۔ ایک کنواں جس کے قریب ایک بکری بندھی ہوتی تھی کنویں کی گہرائی تقریبا 50 فٹ ہے،اور اس وقت کنواں کیچڑ جمنے کے سبب 35 فٹ رہ گیا ہے ۔ ظن غالب ہے کہ بکری کی مینگنیاں اس میں گری ہیں تو اس کنویں کوکیچڑ نکالے بغیر خالی کرنا ممکن نہیں تو کیا اس کو پاک کرنے کے لیے خالی کرنا ضروری ہے؟

    4:۔ عربی رسم الخط میں لفظ اللہ اس طرح (یعنی ہ بند ہوتی ہے)لکھا جاتا ہے ۔لیکن آج کل بہت سے جگہوں پر ہ کو ر کی شکل میں چھوڑ دیتے ہیں جیسے اللہ (اس میں ہ بند نہیں ہے )تو ایسا لکھنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو جہاں پہلے سے لکھا ہوا ہے وہاں کا کیا حکم ہے؟

    سائل : محمد ایاز: فیضان مدینہ: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1:۔ نور الایضاح کی مذکورہ عبارت میں بئر صغیر سے مراد وہ کنواں ہے جو دہ دردہ نہ ہو جیسا کہ علامہ شرنبلالی خود اسکی شرح مراقی الفلاح میں لکھتے ہیں: ''بالبئر " الصغيرة " وهي: ما دون عشر في عشر''ترجمہ: بئر صغیر سے مراد وہ ہے جو دہ در دہ نہ ہو۔(حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح فصل فی مسائل الاٰبار ص 36)

    2:۔ دہ در دہ کی تعریف یہ ہے کہ اسکا کل رقبہ یعنی لمبائی اور چوڑائی دونوں کا حاصل ضرب 100 ہاتھ ہویعنی حوض کے کسی بھی دو جانب کو آپس میں ضرب دیا جائے تو اسکا جواب 100 ہاتھ آئے ۔جوکہ گز کے اعتبار سے 25 گز اور فٹ کے اعتبار سے 225 اسکوائر فٹ بنتی ہے۔

    اسکی تفصیل یہ ہے کہ دہ در دہ یعنی 10x10یہ کل سو ہاتھ ہوئے ۔اور دس ہاتھ کے پانچ گز ہیں کیونکہ ایک ہاتھ نصف گز ہے ۔ لہذا پانچ ہاتھ لمبا پانچ ہاتھ چوڑا ہونا ضروری ہے تو 5x5=25 معلوم ہوا کہ دہ در دہ گزوں کے اعتبار سے 25 گز ہے۔ اب اگر اسکو فٹ میں دیکھیں تو ایک گز تین فٹ کا ہے لہذا 5 گز 15 فٹ ہوا ، 15 فٹ لمبا اور پندرہ فٹ چوڑا تو 15x15جواب آیا 225 معلوم ہوا کہ دہ در دہ فٹ کے اعتبار سے 225 اسکوائر فٹ ہے۔ فتاویٰ مصطفویہ میں مفتی اعظم ہند محمد مصطفی رضا خان قادری نوری رقمطراز ہیں :دہ در دہ وہ حوض ہے جس کی مساحت ہاتھ سے سو ہاتھ ،گز سے 25 گز ،فٹ سے سوا دو سو فٹ ہو۔(فتاویٰ مصطفویہ کتاب الطہارۃ ص 139 ناشر شبیر برادرز لاہور)

    پھر یہ ضروری نہیں کہ حوض مربع ہی ہو اسکے علاوہ اگر کوئی اور صورت ہو مثلا مستطیل ہو یعنی وہ چار ضلعوں کی شکل جسکے چاروں زاوئے قائم ہوں اور مقابل کے دو دو ضلعے برابر ہوں اس میں بھی بس یہ ضروری ہے کہ کل لمبائی چوڑائی کا حاصل 100 ہاتھ ہوں جیسے کوئی حوض ہو جو 20 ہاتھ لمبا اور 5 ہاتھ چوڑا ہو تب بھی دہ در دہ ہی ہے، یونہی 25 ہاتھ لمبا 4 ہاتھ چوڑا ہو تب بھی دہ در دہ ہی ہے کیونکہ 20x5=100ہیں یونہی 25x4=100ہیں۔اسی طرح اگر کوئی حوض ایک چوڑا اور سو ہاتھ لمبا ہو تب بھی وہ دہ در دہ ہی ہے، اور دو ہاتھ چوڑا اور پچاس ہاتھ لمبا ہو تب بھی دہ در دہ ہی ہے۔ وعلی ھذاالقیاس

    فتاوی تاتار خانیہ میں ہے:وفی فتاوی العتابیہ ان کان عرضہ ذرا عایجب أن یکون طولہ مائۃ ذراع حتی یصیر فی معنی عشر فی عشر ، وان کان عرضہ ذرا عین یجب ان یکون طولہ خمسین ذراعا:ترجمہ: اور فتاوی عتابیہ میں ہے اگر اسکا عرض (چوڑائی )ایک ذراع ہو تو ضروری ہے کہ لمبائی سو ذراع ہو تاکہ دہ در دہ ہوجائے، اور اگر اسکا عرض (چوڑائی )دو ذراع ہو تو ضروری ہے کہ لمبائی پچاس ذراع ہو۔( فتاوی تاتار خانیہ،کتاب الطہارۃ جلد 1 ص 130،قدیمی)

    اسی طرح الدرالمختار میں ہے : وَلَوْ لَهُ طُولٌ لَا عَرْضٌ لَكِنَّهُ يَبْلُغُ عَشْرًا فِي عَشْرٍ جَازَ تَيْسِيرًا ترجمہ:اور اگر صرف لمبائی ہو چوڑائی نہ ہو لیکن وہ دہ در دہ تک پہنچ جائے تو آسانی کے مد نظر جائز ہے۔(الدر المختار مع رد المحتار،کتاب الطہارۃ ،باب المیاہ جلد 1ص193)

    یونہی فتاویٰ مصطفویہ میں ہے:مربع ہونا کچھ ضرور نہیں اگر مثلا سو ہاتھ طول ہو اور ایک ہاتھ عرض جب بھی دہ در دہ ہی ہوگا۔(فتاویٰ مصطفویہ کتاب الطہارۃ ص 139 ناشر شبیر برادرز لاہور)

    اور گول حوض میں صحیح معتمد و مفتی بہ قول کے مطابق 35.449ہاتھ ہے اور گز کے اعتبار سے 17.7245 اور فٹ کے حساب سے 53.1735فٹ ہے ۔

    سیدی اعلیٰ حضرت اس مسئلہ پر سیر حاصل بحث کرنے کے بعد فرماتے ہیں اقول: تحقیق یہ ہے کہ اُس کادور تقریباًساڑھے پینتیس ہاتھ چاہئے ۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الطہارۃ جلد 2 ص 288 رضا فاؤنڈیشن لاہور )

    3:۔ جب تک نجاست کا وقوع (گرا ہونا)یقینی نہ ہو اس وقت تک وہ کنواں پاک ہے اس سے وضو و غسل سب جائز ہے، کیونکہ شک یقین سے زائل نہیں ہوتا ۔الاشباہ میں ہے:الْقَاعِدَةُ الثَّالِثَةُ: الْيَقِينُ لَا يَزُولُ بِالشَّكِّ۔ترجمہ: یقین شک سے زائل نہیں ہوتا ۔

    اسی میں ہے :وَقَعَ الشَّكُّ فِي قِيَامِ النَّجَاسَةِ،فَلَا يَقْضِي بِالنَّجَاسَةِ بِالشَّكِّ كَذَا، أَوْرَدَهُ الْإِسْبِيجَابِيُّ فِي شَرْحِ الْجَامِعِ الْكَبِيرِترجمہ: نجاست کے قیام میں شک ہوا تومحض شک کی بناء پر نجاست کا حکم نہیں ہوگا۔(الاشباہ والنظائز لابن نجیم مصری القاعدہ الثالثہ ص48)

    4:۔ اسم جلالت کے لکھنے کی مذکورہ صورت جائز ہے۔کیونکہ صرف قرآن کی کتابت کے بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ اسکو عربی میں بلکہ رسم عثمانی میں لکھنا فرض ہے اسکے علاوہ غیر عربی میں تو درکنار عربی میں ہی غیر رسم عثمانی میں لکھنا حرام ہے۔(انظر کتاب مسمیٰ '' مجلس شرعی کے فیصلے'' جامعہ اشرفیہ مبارکپور انڈیا)

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:25 محرم الحرام 1440 ھ/06اکتوبر 2018 ء