سوال
میں ہر سال رمضان کے آخر عشرے میں فرض اعتکاف میں بیٹھتی ہوں ۔ اس سال میرے گھر میں کوئی بھی نہیں ہے ۔ گھر میں شوہر اور بھتیجا رہتا ہے جن کی سحری اور افطاری بنانا میرا کام ہے کیاایسا ممکن ہے کہ میں فرض اعتکاف میں بیٹھ جاؤں اور سحری اور افطاری کے لئے اعتکاف سے اٹھ کر آجاؤں اور اس وقت وہ دونوں دوسرے پورشن میں چلے جائیں شرعی رہنمائی فرمائیں۔
سائلہ:ناہید قمر: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
یاد رہے کہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنا سنت ہے فرض نہیں ہے۔در اصل اعتکاف کی تین اقسام ہیں ،1: اعتکافِ واجِب۔ 2: اعتکافِ سُنّت۔ 3:اعتکافِ نَفل۔ اعتکاف واجب یہ ہے کہ اعتِکاف کی نذرمانے یعنی زَبان سے یوں کہے:''میں اللہُ کیلئے اتنے دن کااِعتِکاف کرو ں گا۔'' تواب جتنے بھی دن کا کہا ہے اُتنے دن کا اعتکاف کرناواجِب ہوگیا۔اور اعتکافِ سنت یہ ہے کہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرے۔ اور سنت اور واجب اعتکاف کے لئے جو اعتکاف کیا جائے وہ نفلی اعتکاف ہے جیسے مسجد میں داخل ہوتے وقت اعتکاف کی نیت کرلینا ۔
مرد کے لئے ضروری ہے کہ اعتکاف سنت مسجد میں کرے اور عورت مسجد بیت میں اعتکاف کرے یعنی وہ جگہ جو اس نے نماز کے لئے مخصوص کر رکھی ہے۔ اگر گھر میں نماز کے لئے کوئی جگہ مخصوص نہیں کی تو اعتکاف سے قبل مخصوص کرکے اس میں اعتکاف بیٹھ جائے ۔ سو جب مرد و عورت اعتکاف میں بیٹھ جائیں تو مرد کو عین مسجد و فنائے مسجد سے اور عورت کو مسجد بیت سے بلا ضروت شرعی و طبعی نکلنا جائز نہیں ہے۔ضرورت شرعی سے مراد یہ ہے کہ مثلا جس مسجد میں موجود ہے وہاں جمعہ نہیں ہوتا تو جامع مسجد میں ادائیگی جمعہ کے لئے جانا ۔ اور ضرورت طبعی سے مراد ہے کہ وضو،غسل، یا قضاء حاجت کے لئے مسجد سے باہر جانا۔
مذکورہ صورت میں آپ اگر سحری و افطاری بناتی ہیں تو آپکا اعتکاف فاسد ہوجائے۔
کیونکہ اگر مرد ضرورت شرعی یا طبعی کے علاوہ مسجد یا فنائے مسجد سے نکلے یا عورت مسجد بیت سے نکلے تو انکا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے : (وحرم عليه) أي على المعتكف(الخروج إلا لحاجة الإنسان) طبيعية كبول وغائط وغسل لو احتلم (أو) شرعية كعيد و (الجمعة) ۔ ترجمہ:اور معتکف کو حاجت طبعی جیسے قضاء حاجت یا غسل جنابت یا حاجت شرعی جیسے اداء جمعہ و عید کے علاوہ مسجد سے
نکلنا ناجائز ہے۔
اسکے تحت شامی میں ہے: (قوله الخروج) أي من معتكفه ولو مسجد البيت في حق المرأة ، فلو خرجت منه ولو إلى بيتها بطل اعتكافها۔ ترجمہ:معتکف کا نکلنا ناجائز ہے اگر چہ وہ مسجد بیت ہو جیساکہ عورت کے حق میں ہے۔ لہذا اگر عورت مسجد بیت سے بلاضرورت شرعی و طبعی گھر کے کسی حصہ کی طرف گئی تو اسکا اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔(تنویرالابصار مع الدرالمختار و حاشیہ ابن عابدین شامی باب الاعتکاف، جلد 2 ص 444، مطبوعہ بیروت)
اسی طرح عالمگیری میں ہے:إذا اعتكفت في مسجد بيتها فتلك البقعة في حقها كمسجد الجماعة في حق الرجل لا تخرج منه إلا لحاجة الإنسان۔ ترجمہ:جب عورت مسجد بیت میں اعتکاف بیٹھ جائے تو وہ حصہ اس اسکے حق میں مسجد ہی ہے جیساکہ مرد کے حق میں مسجد ہے۔ اس سے عورت بلاحاجت انسانی اس سے نہ نکلے۔(فتاوٰی عالمگیری ، الباب السابع فی الاعتکاف، جلد 1 ص 211 )
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21 شعبان المعظم 1441 ھ/15 اپریل 2020 ء