سوال
میں سٹے اور جوا بازی کی لعنت میں گرفتار تھا، میری بیوی نے مجھ سے قرآن پر حلف لیا کہ میں آئندہ یہ کام نہیں کرونگا مگر میں نے حلف توڑ ڈالا اور یہ کام شروع کردیا ۔ گزارش ہے کہ مجھے بتائیں کہ اسکا کیا کفارہ ہے؟
سائل:شیخ طارق مجید:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1:قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائے یا دس مسکینوں کوکپڑے پہنائے یا غلام آزاد کرے ان تینوں میں سے جو چاہے کرسکتا ہے اگر ان میں سے کچھ نہیں کرسکتا یعنی اگر غلام آزاد کرنے یا10مِسکین کو کھانا یا کپڑے دینے پر قادِر نہ ہو توپے دَرپے (یعنی لگا تار) تین روزے رکھے۔قال اللہ تعالٰی :فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ :ترجمہ: تو ایسی قسم کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا دینا اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے یااِنہیں کپڑے دینا یاایک بردہ(غلام) آزاد کرنا تو جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے یہ بدلہ ہے تمہاری قسموں کا جب قسم کھاؤ۔(الانعام : 89)
قرآن پاک کی قسم شرعا قسم ہوتی ہے ۔تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے :قَالَ الْکَمَال: وَلَا یَخْفَی أَنَّ الْحَلِفَ بِالْقُرْآنِ الْآنَ مُتَعَارَفٌ فَیَکُونُ یَمِینًا۔ترجمہ : علامہ کمال نے کہا کہ قرآن کی قسم اب اس زمانے معروف ہے لھذا قرآن کی قسم کھانا قسم ہے۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الایمان جلد 3ص712)
سیدی اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں :وقد تعورف الحلف بہ فکان کالحلف بعزتہ وعظمتہ وجلالہ ۔ترجمہ:قرآن کی قسم کھانا متعارف ہے لہذا قرآن کے ساتھ قسم کھانا ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالی کی عزت ،عظمت اور جلال کی قسم کھانا۔( فتاویٰ رضویہ جلد 13ص575رضا فاؤنڈیشن لاہور)
سیدی اعلٰی حضرت سے سوال کیا گیا : ایک شرابی نے نے چار گواہوں کے سامنے قراٰنِ کریم اُٹھا کر قسم کھائی کہ آیَندہ شراب نہ پیوں گا مگر پھر پی لی۔آپ مفصلا جواب عنایت فرمانے کے بعد لکھتے ہیں:اگر اس نے قراٰن اٹھا کر قراٰن کے نام سے قسم کھائی یا اللہ تَعَالٰی کے نام سے قسم کھائی اور زبان سے ادا بھی کی ہو پھر قسم توڑدی ہے تو اس پر کفّارہ لازم ہے۔ اور اگراُس نے قراٰنِ مجید اٹھا کر قسم کھائی ہے اوربَہُت سخت مُعامَلہ ہے
کہ قراٰن اُٹھا کر اُس نے اِس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پھر سے شراب نَوشی کی ہے جس سے قراٰنِ پاک کی توہین تک مُعامَلہ پہنچا۔(فتاوٰی رضویہ، جلد 13 ص 609، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح: ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21 شعبان المعظم 1442 ھ/05 اپریل 2021 ء