سوال
عورت کا حیض روکنے والی دواؤں کا استعمال کرنا کیسا ہے ؟ جائز ہے یا نہیں ؟ رہنمائی فرمائیں ۔
سائل: سکندر: کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
حیض روکنے والی دوا ؤں کے استعمال کے جواز و عدمِ جواز کی درج ذیل تین صورتیں ہیں :
1: عام حالات میں استعمال ناجائز ہے ، جبکہ ان دواؤں کے استعمال سے عورت کی صحت کو ضرر لاحق ہونا یقینی ہو اور ڈاکٹر یا کسی ماہر حکیم نے استعمال سے منع کیا ہو۔ کیونکہ یہ خود کو اذیت اور ہلاکت پر پیش کرنا ہے جو کہ ناجائز و گناہ ہے۔
2: عام حالات میں شرائط کے ساتھ استعمال جائز مگر احتراز بہتر ، جب ان دواؤں کے استعمال سے عورت کی صحت کو ضرر لاحق ہونا یقینی نہ ہو، محض ضرر کا شبہ ہو اور کسی ڈاکٹر یا ماہر حکیم نے استعمال سے منع بھی نہ کیا ہو۔ کیونکہ حیض ایک قدرتی اور فطری عمل ہے ، اس قدرتی عمل کو روکنے میں کئی جسمانی اور فطری خطرات لاحق ہونے کا احتمال بہرحال موجود ہے۔
3: مخصوص حالات میں ضرورت کی بناء پر استعمال کی رخصت، مثلا ً حج وعمرہ کے موقع پر جاتے وقت ان دواؤں کا استعمال، کیونکہ اس صورت میں حیض آجانے کی وجہ سے عورت کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جسکی وجہ سے عورت کے لئے کئی مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں ۔لہٰذا حج و عمرہ کی ادائیگی کی ضرورت یا کسی اور ضرورت کی وجہ ان دواؤں کےاستعمال میں کوئی حرج نہیں بلکہ بلاکراہت جائز ہے۔
دلائل و جزئیات:
صورتِ اول:
اگر ممسکِ حیض ادویات کے استعمال سے عورت کی صحت کو ضرر لاحق ہونا یقینی ہو مثلاً ان دواؤں کے استعمال سے عورت کے ایام میں بے قاعدگی آجائے یا اسکے علاوہ کوئی اور بیماری لاحق ہوجائے تو اب انکا استعمال جائز نہیں ہے۔کیونکہ یہ خود کو ہلاکت پر پیش کرنا ہے جو کہ شرعاً ممنوع و حرام ہے۔قال اللہ تعالٰی : وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ.ترجمہ کنز الایمان: اوراپنی جانیں قتل نہ کرو۔ (النساء : 29)
وقال ایضا: وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ۔ ترجمہ کنز الایمان: اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔(البقرہ: 195)
حدیث پاک میں ہے: عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا ضرر ولا ضرار۔ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ نقصان پہنچاؤ اور نہ نقصان اٹھاؤ ۔(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 2341)
الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں ہے: لا يجوز للمرأة أن تمنع حيضها، أو تستعجل إنزاله إذا كان ذلك يضر صحتها، لأن المحافظة على الصحة واجبة۔ ترجمہ: عورت کے لئے(دواؤں کے ذریعے) حیض روکنا یا جلد لانا جائز نہیں ہے جبکہ کہ اسکی صحت کے لئے مُضِر ہو کیونکہ صحت کی حفاظت واجب ہے۔ (الفقہ علی المذاہب الاربعۃ جلد 1 ص 115،مرکز اہل السنہ برکات رضا)
سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں : ففی اقتحامہ تعریض النفس للاذی وھو لایجوز فیجب التحرز عن مثلہ۔ترجمہ:اس کے استعمال میں جان کو اذیت پر پیش کرنا ہے اور وہ نا جائز ہے لہٰذا اس طرح کی صورتوں سے بچنا واجب ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، کتاب البیع، جلد17 ص 370، بتصرف یسیر )
صورتِ ثانی:
ممسکِ حیض ادویات کے استعمال سے عورت کی صحت کو ضرر لاحق ہونایقینی نہ ہو، محض ضرر کا شبہ ہو اور کسی ڈاکٹر یا ماہر حکیم نے استعمال سے منع بھی نہ کیا ہو۔تو ایسی صورت میں ان دوا ؤں کا استعمال فی نفسہ اگر چہ مشروع ہےلیکن پھر بھی احتراز بہتر ہے کیونکہ حیض ایک قدرتی اور فطری عمل ہے ، اس قدرتی عمل کو روکنے میں کئی جسمانی اور فطری خطرات لاحق ہوسکتے ہیں ، لہذا بلاضرورت مانعِ حیض ادویات استعمال نہیں کرنی چاہییں ۔
الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ میں ہے: يجوز للمرأة شرب دواء مباح لقطع الحيض إن أمن الضرر۔ترجمہ: عورت کے لئے حیض روکنےکی مباح دوا استعمال کرنا جائزہےجبکہ دوا کے استعمال میں ضرر (کا یقین)نہ ہو۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ، جلد 18 ص 327)
صورتِ ثالث:
مخصوص حالات میں ضرورت کی بناء پر ان دواؤں کا استعمال جائز ہے ۔مثلا ً حج وعمرہ پر جانےکا مسئلہ(جیساکہ گزرا)۔ نیزضرورت کی ایک صورت یہ ہے مثلاً کوئی عورت ایسی ہے جسے حیض کا خون مسلسل جاری رہتا ہے ، منقطع نہیں ہوتا تو ایسی عورت کے لئے استعمال جائز ہے۔
اسکی دلیل اثرِجناب عبداللہ بن عمر اوراثرِ جناب عطاء بن رباح ہے۔ جہاں ان دو بزرگ شخصیات نے بعض مواقع پر مانعِ حیض اشیاء کے استعمال کی اجازت عطا فرمائی۔ چناچہ مصنف عبدالرزاق میں ہے کہ جناب عبداللہ بن عمر نے مدتِ حیض طویل ہونے کی صورت میں مانع حیض دوائی کے استعمال میں حرج نہ سمجھا بلکہ سائل کو حیض روکنے والی دوائی تجویز بھی فرمائی۔ واللفظ کذا : عن رجل، سأل ابن عمر عن امرأة تطاول بها دم الحيضة فأرادت أن تشرب دواء يقطع الدم عنها، فلم ير ابن عمر بأسا، ونعت ابن عمر ماء الأراك ۔ ترجمہ:ایک شخص نے جناب عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ایک ایسی عورت کے بارے میں سوال کیاجسکی مدت حیض دراز ہوگئی، پھر وہ عورت ایسی دوائی پینا چاہتی ہے جس سے خونِ حیض رک جائے ۔انہوں نے فرمایا:میں اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا ،پھر آپ نے اس عورت کواس سلسلہ میں پیلو کے پانی کا مشورہ دیا۔(مصنف عبدالرزاق، حدیث نمبر 1220)
یوں ہی جناب عطاء بن رباح نے مانع حیض دوائی کے استعمال پر نکیر نہ فرمائی بلکہ اسکے استعمال کے بعد طواف کی اجازت مرحمت فرمائی۔واللفظ کذا: سئل عطاء، عن امرأة تحيض يجعل لها دواء فترتفع حيضتها، وهي في قرئها كما هي۔ تطوف؟ قال: «نعم، إذا رأت الطهر فإذا هي رأت خفوقا ولم تر الطهر الأبيض فلا»۔ ترجمہ: عطاء بن رباح سے حیض والی عورت کے بارے سوال کیا گیا کہ جس کے لئے دوائی بنائی گئی جس سے اس کا حیض رک گیا حالانکہ وہ اپنی مدتِ حیض میں تھی ، کیا وہ طواف کرسکتی ہے؟ انہوں نے فرمایا ۔۔! ہاں جبکہ طہر آجائے ۔ اور اگر ابھی طہر نہ آیا تھا کہ اس نے کچھ خون دیکھا تو نہیں کرسکتی۔(مصنف عبدالرزاق، حدیث نمبر : 1219)
پھر یہاں ان دواؤں کے استعمال کی ضرورت کا تحقق بھی ہے کیونکہ فی زمانہ حج و عمرہ کے لئے حکومتوں نے اصول و ضوابط طے کئے ہیں ، جن کی پاسداری ہر شخص پر لازم ہے وگرنہ قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ آج کل جو شخص حج یا عمرہ کے لئے جاتا ہے پہلے پاسپورٹ بنواتا ہے اسکے بعد ویزا پروسس ہوتا ہے جس کے مطابق اسے چند مخصوص ایام میں اپنے ملک واپس آنا لازم ہے ایک دو روز کی تاخیر کی بھی گنجائش نہیں ہوتی ، حتٰی کہ اپنے ملک سے جانے سے قبل ہی واپسی کی فلائٹ اور اسکا وقت طے ہوتا ہے جس میں تبدیلی ممکن نہیں ہوتی ۔ سواس دوران اگر کوئی عورت حائضہ ہوجائے تو حج و عمرہ کی صورت میں طواف سے محروم رہے گی کیونکہ طواف کے لئے مسجد حرام میں دخول لازم ہے جبکہ واضح ہے کہ حائضہ عورت کو دخول فی المسجد حرام ہے ۔ لہذا اب حکمِ شرعی یہ ہے کہ جب تک پاک نہ ہو احرام میں رہے نماز اور طواف سے رکی رہے ۔ پاک ہونے کے بعد طواف ، سعی اور حلق کرے اور احرام کھول دے۔ لہٰذااس صورت میں ضرورت کی وجہ سے مانعِ حیض ادویات کا استعمال جائز ہے۔ وگرنہ حرج لازم آئے گاجبکہ شرع شریف میں حرج مدفوع ہے۔
1: ضرورت کی تفصیل تو گزری کہ حکومتوں کے مخصوص قوانین کی وجہ سے عورت کو پاک ہونے کا انتظار کرنا ممکن نہیں ، کیونکہ ایسا بارہا سننے میں آیا کہ دورانِ حج یا عمرہ عور ت کو حیض آگیا اور وہ طواف سے رکی رہی حتٰی کہ اسکی فلائٹ کا وقت آگیا اور عورت بلا طواف کئے حج و عمرہ کی تکمیل کے بغیر ہی واپس آگئی۔ یا اسی حالت میں مجبوراً عورت طوافِ زیارت کرلیا ، بعد ازاں اُس پر بَدَنَہ یعنی اونٹ یا گائے کی قربانی حدودِ حرم میں دینی واجب ہوگئی ۔سو اس ضرورت کی وجہ سے عورت مانعِ حیض دوائیاں استعمال کرنا جائز ہے۔کیونکہ شریعت مطہرہ کا قاعدہ ہے :الضرورات تبیح المحذارات: ترجمہ: ضرورت کی وجہ سے ممنوع چیزیں بھی جائز ٹھہر جاتی ہیں ۔( الاشباہ والنظائز لابن نجیم ص 73)
2:حرج کی تفصیل یہ ہے کہ اگر مانعِ حیض ادویات کا استعمال نہ کیا جائے اور دورانِ حج و عمرہ حیض آجائے تو عورت کے لئے کئی مشکلات کا باعث ہے،کیونکہ حیض کی وجہ سے عورت کو ایک لمبے عرصے تک احرام میں رہ کر اسکی پابندیاں ملحوظ رکھنی ہونگی ،اور یقیناً یہ باعثِ حرج معاملہ ہے کیونکہ عمرہ کی پابندیاں انسان کے روز مرہ کے معمولات سے مطابقت نہیں رکھتیں نیز حیض کی صورت میں ان پابندیوں کا دورانیہ ایک دن سے دس دن تک ہوسکتا ہے۔ تو لا محالہ عورت کو ان تمام ایام میں بھی احرام کی پابندیا ں ملحوظ رکھنی ہونگی جس میں شدید تنگی اور شدید حرج ہے ۔ جبکہ شریعت نے حرج و تنگی کو دفع کیا ہے ۔اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ۔ ترجمہ کنز الایمان : اور اس نے تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی۔ ( الحج: 78)
رد المحتار علی الدرالمختار میں ہے:الْحَرَجَ مَدْفُوعٌ بِالنَّصِّ،ترجمہ: نص قرآن کی وجہ سے حرج کو دور کیا گیا ہے۔( رد المحتار علی الدرالمختار، باب التیمم جلد 1 ص234)
پھر فقہ کا قاعدہ ہے:أَنَّ الْأَمْرَ إذَا ضَاقَ اتَّسِعَ۔ ترجمہ: جب کسی معاملے میں تنگی پیدا ہوجائے تو اس میں وسعت کر دی جاتی ہے۔( الاشباہ والنظائز لابن نجیم ص 72)
لہذا ان امور(ضرورت اور حرج) کے پیشِ نظر عورت کو ان مخصوص حالات میں مانعِ حیض ادویات کا استعمال بلاکراہت جائز ہے۔
چند فروعی مسائل:
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کی خواہ جائز صورت ہو یا ناجائز ، اگر کسی عورت نےمانع حیض ادویات استعمال کرلی تو اس پر احکام مرتب ہوجائیں گے اور اس استعمال سے نماز ، روزہ، تلاوت ، دخول مسجد کے احکام ثابت ہوجائیں گے کیونکہ فعل حرام ترتبِ احکام کے منافی نہیں ہے ۔ جیساکہ اصول الشاشی میں ہے: وَحُرْمَة الْفِعْل لَا تنَافِي ترَتّب الْأَحْكَام كَطَلَاق الْحَائِض وَالْوُضُوء بالمياه الْمَغْصُوبَة والإصطياد بقوس مَغْصُوبَة وَالذّبْح بسكين مَغْصُوبَة والصلوة فِي الأَرْض الْمَغْصُوبَة وَالْبيع فِي وَقت النداء فانه يَتَرَتَّب الحكم على هَذِه التَّصَرُّفَات مَعَ اشتمالها على الْحُرْمَة۔ترجمہ:فعل کا حرام ہونا احکام کے مترتب ہونے کے منافی نہیں ہے جیسے کہ حائضہ کا طلاق دینا، مغصوب پانی سے وضو، مغصوب کمان سے شکار، مغصوبہ چھری سے ذبح کرنا، مغصوب زمین میں نماز پڑھنا، جمعہ کے دن اذان کے وقت بیع ، حکم ان تمام تصرفات پر مترتب ہوگا باوجود اسکے کہ یہ تمام افعال حرام پر مشتمل ہیں۔ (اصول الشاشی، ص : 169)
پھر اگر کسی عورت نے مانعِ حیض ادویات استعمال کیں تو اسکی دو صورتیں ہیں :
اگر حیض آنے کے بعد استعمال کی تو خون بند ہونےکی صورت میں عورت پاک شمار نہ ہوگی بلکہ عورت اپنی عادت کے ایام مکمل کرکے خود کو پاک شمار کرے۔ کیونکہ حیض کا خون آنا ہی حکم کے لئے کافی ہے جیساکہ کوئی عورت ایسی ہو جسکی عادت سات دن ہو اسکو ایامِ عادت میں صرف پہلے دن حیض آیا پھر ساتوے دن تو کل حیض ہوگا اگرچہ درمیان میں خون نہ آیا۔
اور اگر حیض شروع ہونے سے پہلے استعمال کی اور ایامِ عادت میں حیض نہ آیا تو عورت پاک شمار ہوگی ، ان ایام میں نماز و روزہ لازم ہونگے ۔
فتاوٰی تاتار خانیہ میں ہے: یجب أن یعلم بأن حکم الحیض و النفاس و الاستحاضة لایثبت إلا بخروج الدم و ظهوره وهذا هو ظاهر مذهب أصحابنا و علیه عامة المشائخ ۔ ترجمہ: جاننا واجب ہے کہ حیض ، نفاس و استحاضہ کا حکم خون نکلنے اور ظاہر ہونے سے ہی ثابت ہوگا، یہی ہمارے اصحاب کا ظاہرِ مذہب ہے اور اسی پر اکثر مشایخ ہیں۔(الفتاوی التاتارخانیه،کتاب الحیض جلد 1 ص 330 )
ھندیہ میں ہے: لا یثبت حکم کل منها إلا بخروج الدم وظهوره وهذا هو ظاهر مذهب أصحابنا وعلیه عامة مشائخنا وعلیه الفتویٰ وهکذا فی المحیط۔ترجمہ: ان تمام(حیض و نفاس وغیرہ) میں حکم صرف خون نکلنے اور ظاہر ہونے سے ہی ثابت ہوگا، یہی ہمارے اصحاب کا ظاہرِ مذہب ہے اور اسی پر اکثر مشایخ ہیں اور اسی پر فتوٰی ہے اسی طرح محیط میں ہے۔ (فتاویٰ هندیة، فصل فی أحكام الحیض والنفاس و الاستحاضة، جلد 1 ص 38)۔
جس طرح مانعِ حیض ادویات کے استعمال سے حیض نہ آنے کی صورت میں احکام مترتب ہوتے ہیں یونہی اگر کسی نے حیض لانے کے لئے ادویات کا استعمال کیااور خون آگیا تو اس پر بھی حکم مترتب ہوگا یعنی اس خون کو حیض شمار کیا جائے گا۔اور اس پر نماز ، روزہ، تلاوت ، دخول مسجد ، عدت وغیرہ کے احکام ثابت ہوجائیں گے ۔ کتبِ احناف میں یہ بات بصراحت مذکور ہے، چناچہ شامی میں ہے: وقال في السراج: سئل بعض المشايخ عن المرضعة إذا لم تر حيضا فعالجته حتى رأت صفرة في أيام الحيض قال: هو حيض تنقضي به العدة۔ترجمہ:سراج میں ہے، بعض مشائخ سے دودھ پلانے والی(مطلقہ ) عورت کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جب اس نے حیض نہ دیکھا اور علاج کیا حتٰی کہ ایامِ حیض میں پیلا پانی دیکھا (توکیا حکم ہوگا) فرمایا :وہ حیض ہے، عورت اس کے ذریعے عدت پوری کرے گی۔ (شامی، کتاب الطہارۃ ، باب الحیض جلد 1 ص 304 )
الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ میں ہے: وقد صرح الحنفية بأنه إذا شربت المرأة دواء فنزل الدم في أيام الحيض فإنه حيض وتنقضي به العدة۔ترجمہ:حنفیہ نے تصریح کی ہے کہ جب عورت نے دوا پی پھر اسے ایام حیض میں خون اتر آیا تو وہ حیض ہی ہے ، عورت اس کے ذریعے عدت پوری کرے گی۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ، جلد 18 ص ، 328،327)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:25 شعبان المعظم 1443 ھ/22 مارچ 2022 ء