سی جی ایم لگا ہوا ہو تو غسل واجب کا حکم
    تاریخ: 30 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 26
    حوالہ: 486

    سوال

    شوگر چیک کرنے کا ایک آلہ ہے ، جو شوگر کے مریضوں کو لگایا جاتا ہے ، جو دو پارٹس پر مشتمل ہوتا ہے جس میں سے ایک سینسر جو سٹرپ نما گولائی میں ہوتا ہے ، جو جسم کے کسی بھی حصہ میں 14 دن کے لیے لگایا جاتا ہے، جسکے دوسرا حصہ ایک ڈیوائس ہوتی ہے، جو سینسر کے قریب لانے سے شوگر لیول بتاتی ہے ، اگر سینسر جسم پر لگا ہو جس کا گولائی نما حصہ جسم سے باہر ہوتا ہے تو اس صورت میں واجب غسل کا کیا حکم ہے ؟ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔(بینوا و توجروا)

    سائل:محمد زبیر سونیجا : کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب سینسر جسم پر لگا ہو اور غسل فرض ہو جائے تو اس کا اتار ناواجب ہے ور نہ غسل نہیں ہو گا کیونکہ بدن کے جس جس حصے کو دھو نا بغیرحرج کے ممکن ہے اسے دھو نا فرض ہے۔

    سی جی ایم ( continuous Glucose Moniter) ایک ایسا آلہ جو خون میں گلوکوز کی مستقل بنیادوں پر نگرانی کیلیے انسولین کی کمی کے شکار افراد استعمال کرتے ہیں یہ آلہ تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے جلد کے نیچے پیوستہ ایک چھوٹا الیکٹروڈ ، ایک عدد ٹرا سمیٹر جو باقاعدہ وقفوں سے ریڈنگ بھیجتا ہے اور ایک علیحدہ ریسیور ہر ایک یا چند منٹ بعد یہ گلوکوز کا لیول چیک کرتا رہتا ہے اور بتاتا رہتا ہے کہ گلوکوز کا لیول اوپر کو جارہا ہے یا نیچے کو جا رہا ہے اس کو عام طور پر کہنی سے اوپر یا پیٹ پر چپکا دیا جاتا ہےجہاں تک سینسر لگا ہوتا ہے اس حصے تک پانی نہیں پہنچتا۔

    تو اس ساری معلومات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ سینسر نہ علاج ہےاور نہ دوائی کے طور پر لگایا جاتا ہے بلکہ اس کا مقصد گلوکوز لیول کی مانیٹرنگ کرنا ہے عموما یہ سینسر لگانا حرج اور ضرورت میں نہیں آتا با لخصوص اس صورت میں جب اسکا متبادل موجود ہو جیسےعام طور بلڈ گلوکوز میٹر سے شوگر چیک کر لی جاتی ہے۔

    ہاں اگر ایسا مریض ہے جس کو ڈاکٹروں نےدن میں چار سے پانچ بار شوگر لیول چیک کرنے کا کہا ہو اور اسکے مطابق ادویات و خوراک استعمال کرنے کا کہاہو اور اس سینسر کا استعمال اس کیلیے ضروری ہو جائے ،تو ایسا مریض حرج ومشقت میں آئے گالہذا ایسے مریض کیلیے رخصت ہے کہ غسل واجب کی صورت میں اسے اتارے بغیر غسل کرلےاسکا غسل ہوجائے گا۔ بالخصوص اس صورت میں جبکہ یہ بیش قیمت ہو کہ یہ مالی مشقت میں بھی داخل ہے۔

    ارشاد باری تعالٰی ہے:وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْاؕ " ترجمہ: اگر تمہیں نہانے کی حاجت ہو تو خوب ستھرے ہولو۔(المائدۃ، آیت6 ٓ)

    در مختارمیں ہے و(يجب) أي يفرض (غسل) كل ما يمكن من البدن بلا حرج مرة۔.ترجمہ:بدن کے جس حصے پر بغیر حرج کے پانی پہچانا ممکن ہے اسکو ایک مرتبہ دھونافرض ہے ۔(در مختار ج ۱ ص 152 مكتبه شامله)

    بدائع الصنائع میں ہے "و(أما) ركنه فهو إسالة الماء على جميع ما يمكن إسالته عليه من البدن من غير حرج مرة واحدة حتى لو بقيت لمعة لم يصبها الماء لم يجز الغسل، وإن كانت يسيرة۔ ترجمہ :باقی رہا غسل کا رکن تو پانی کو جسم کےہر اس حصے پر پہنچانا ہے جہا ں پانی پہنچانا بغیر حرج کے ممکن ہے یہاں تک کے اگر کوئی خشک جگہ باقی راہ گئی جہاں پانی نہ پہنچا تو غسل جائز نہیں ہےاگرچہ تھوڑی کیوں نہ ہو ۔( بدائع الصنائع ج1ص34)

    فتاوی ھندیہ میں ہے ""ولو الزقت المرأة رأسها بطيب بحيث لا يصل الماء إلى أصول الشعر وجب عليها إزالته ليصل الماء إلى أصوله " ترجمہ:اگر عورت اپنے سر پر خوشبو اس طرح چپکائی کہ پانی بالوں کی جڑوں تک نہیں پہنچتا تو عورت پر واجب کہ وہ اس کو اتارے تاکہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ سکے ۔(فتاوی ھندیہ ج 1 ص13)

    رد المحتار میں ہے "لا يجب غسل ما فيه حرج کعين ان اکتحل بکحل نجس و ثقب انضم و داخل قلفة.. و شعر المرأۃ المصفورۃ و..لا یمنع الطھارةخرء ذباب وبرغو لم یصل الماء تحته لان الاحتراز عنه غیر ممکن "ترجمہ: جس کے دھونے میں حرج ہے اسے دھونا واجب نہیں ہے جیسے آنکھ کا اندر والا حصہ اگرچہ ناپاک سرمہ لگالیا ہو ،اور ایسا سوراخ جو بند ہو گیا ہو اور ختنے کی کھال کا اندر کا نرم حصہ اور عورت کے گندے ہوئے بال اور مکھی اور مچھر کی وہ بیٹ جس کے نیچے پانی نہیں پہنچا طہارت کو مانع نہیں اس لیے کہ اس سے بچنا نہ ممکن ہے۔ ( رد المحتار علی الدر المختار ج1ص، 152، ناشر دار الفکر بیروت)

    مراقی الفلاح میں ہے " ولا بد من زوال ما یمنع من وصول الماء للجسد کشمع و عجین لا صبغ بظفر صباغ ولا بین الاظفار ولو لمدنی فی الصحیح " ترجمہ : ہر اس چیز کو زائل کرنا ضروری ہے جو پانی کو جسم تک پہنچنے سے مانع ہے جیسے موم بتی اور آٹا ، رنگ ریز کے ناخن پر رنگ کا جر م زائل کرنا اور ناخنوں میں بھری ہوئی مٹی زائل کرنا ضروری نہیں اگرچہ شہری ہی کیو نہ ہو ۔(مراقی الفلا ح ،ص،45،المکتبہ العصریہ)

    اعلیحضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خان بریلوی رحمه اللہ علیہ فرماتے ہیں حرج کی تین صورتیں ہیں:( 1 ) وہاں پانی پہچانے میں مضرت ہو جیسے انکھ کے اندر (2) مشقت ہو جیسے عورت کی گندھی ہوئی چوٹی (3) بعد علم و اطلاع کوئی ضر رو مشقت تونہیں مگر اس کی نگہداشت اس کی دیکھ بھال میں دقت ہے جیسے مکھی و مچھر کی بیٹ یا الجھا ہوا گرہ کھایا ہوا بال۔(فتاوی رضویہ ،ج 1ص612 ،رضا فاونڈیشن)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد سجاد سلطانی

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:22شوال المکرم1445 ھ/02 مئی2024ء