وراثت کا مسئلہ دس بہن بھائی

    warasat ka masla das behen bhai

    تاریخ: 11 مئی، 2026
    مشاہدات: 22
    حوالہ: 1320

    سوال

    السلام علیکم مفتی صاحب

    عرض یہ ہے کہ میرے والد صاحب محمد قاسم ولد محمد حمید کا انتقال 2ربیع الاول 2005میں ہوا اور والدہ صاحبہ فاطمہ بائی کا انتقال 14ربیع الاول 2009میں ہوا ہم 10بہن بھائی ہیں جن میں 6بھائی(نور محمد، انور علی ، اکبر علی، اصغر علی،حمید اللہ،حیدر علی) اور4بہنیں (شیر بانو ، روشن بانو ،گل بانو، صوفیہ) ہیں، ان میں سے ایک بہن کنواری ہے ۔ترکے میں والد صاحب نے ایک عدد بنگلہ چھوڑا جوکہ گرومندرمیں واقع ہے ، اور وہ 1100 گز کا ہے ۔ جس میں ہم بہن بھائی رہتے ہیں، والدین کے انتقال کے بعد گھر میں گیس، بجلی اور Propertyٹیکس کے مسئلے ہونے لگے ،تو سب بھائیوں نے یہ طے کیا کہ بنگلے کو بلڈنگ بنا دی جائے تاکہ والدین کی جگہ بھی رہے اور سب بہن بھائیوں کو حصہ بھی مل جائے ۔ والد صاحب نے اپنی زندگی میں تین بہنوں کو تحفہ میں کچھ پراپرٹی دی تھی دو بہنوں کو گھر اور ایک بہن کو کچھ رقم دی تھی ، اب جب بنگلے کو بلڈینگ بنانے کا وقت آیا تو بلڈر سے یہ طے ہوا کہ ہمیں سب کو پوری بلڈینگ میں سے سات فلیٹ ملیں گے ، اور ہم نے ان سات فلیٹوں میں سے ایک ایک سب بھائیوں نے رکھا اور چار بہنوں کو ایک فلیٹ دے دیا ۔اور بلڈنگ کے اوپر کی چھت ہماری ہی تھی ۔لیکن دو بڑے بھائیوں نے کہہ دیا کہ چھت میں ہمارا حصہ زیادہ ہوگا اگر زیادہ حصہ دیتے ہوتو ٹھیک ورنہ ہم دستخظ نہیں کریں گے۔کیونکہ کاروبار میں ہم نے والد کا ہاتھ بٹایا تھا، لیکن اس پر بہنیں راضی نہیں تھیں مگر بہت مشکلوں کے بعد یہ مسئلہ بھی حل ہوگیا اور سب بہن بھائی راضی ہوگئے ۔ اور بلڈنگ بن گئی اب چھت پر دوبارہ ایک فلور بن رہا ہے اب دونوں بھائی دوبارہ یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ بہنوں کوصرف ایک حصہ ملے اور باقی چھ حصے بھائیوں کو ملیں ، لیکن بہنیں کہہ رہی ہیں کہ ہمیں شریعت کے مطابق حصہ چاہیے ،قانونی طور پر جب تک سب بہن بھائیوں کے دستخط نہیں ہونگے چھت پر فلور نہیں بن سکے گا ۔اور بہنیں کہہ رہی ہیں کہ اس چھت سے اوپر والی چھت پر ہمارا حصہ نہیں ہوگا مگر اس چھت پر ہم کو شریعت کے مطابق حصہ دو۔ مہربانی آپ ہماری رہنمائی شریعت کے مطابق کریں،

    سائل :۔ حیدر علی ولد حاجی محمد قاسم


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ مذکور ہواور ان کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں ہے ا تو آپ کے والد نے جو کچھ بھی چھوڑا ، اسکو 16حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے ہر بھائی کو 2حصے ملیں گے اور ہر بہن کو ایک حصہ ملے گا ۔قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ :ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیںحکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین :ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    اور آپ کے والد صاحب نےاپنی زندگی میں آپکی جن بہنوں کو رقم یا گھر بطور تحفہ دیا اسکا مالِ وراثت سے کوئی تعلق نہیں ہے اس تحفے کے باوجود، وہ بہنیںاور انکے علاوہ جو ہے وہ بھی مالِ وراثت میں اپنا حق رکھتی ہیں ،اور آپ نے پہلے جو تقسیم کی تھی وہ از روئے شرع غلط تھی لہذا ان بہنوں کا حصہ لگاکر مکمل وراثت کو دوبارہ تقسیم کیا جائے۔اوراگر اب نئے بننے والے فلور میں آپ کی بہنیں اپنے حق کا مطالبہ کررہی ہیں تو انکا مطالبہ حق ہے اور آپ تمام بھائیوں پر واجب ہے کہ انکو انکا حصہ دیں ۔ ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وراثت کے مستحق لوگوں کو انکا حصہ نہیں دیاجاتا جیسا کہ عموماََ بہنوں کا حصہ دبا لیا جاتا ہے ایسے کرنا کفار کا طریقہ ہے قرآن مجید میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے :وَتَأْکُلُونَ التُّرَاثَ أَکْلًا لَمًّا وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاکَلَّا إِذَا دُکَّتِ الْأَرْضُ دَکًّا دَکًّا وَجَاء َ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِیء َ یَوْمَئِذٍ بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّی لَہُ الذِّکْرَی یَقُولُ یَا لَیْتَنِی قَدَّمْتُ لِحَیَاتِی فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ عَذَابَہُ أَحَدٌ وَلَا یُوثِقُ وَثَاقَہُ أَحَدٌ ( سورۃ الفجر آیت ١٧تا ٢٥)

    ترجمہ کنز الایمان :۔اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے گی اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار (ہونگے)اور اس دن جہنّم لائی جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آ گے بھیجی ہوتی تو اس دن اس کا سا عذاب کوئی نہیں کرتا اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا۔

    آپ تمام بھائیوں نے اگر وراثت میں سے بہنوں کو انکا مقررہ حصہ نہیں دیا تو یہ کسی مسلمان کا حصہ غصب کرنے کے زمرے میں آئے گا ،اور احادیث میں کسی مسلمان کا حصہ ناحق غصب کرنے کی سخت وعیدیں آئی ہیں

    بخاری شریف کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین جلد 2ص388حدیث نمبر 3198:فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِینَ:ترجمہ:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ناحق لی تو روز قیامت اسکو سات زمینوں کا طوق پہناےا جائے گا۔

    خلاصہ یہ ہے کہ آپ کے والد نے ترکہ میں جو کچھ بھی چھوڑا ، اسکو 16حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے ہر بھائی کو 2حصے ملیں گے اور ہر بہن کو ایک حصہ ملے گا ۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح: مفتی محمد عمران شامی

    تاریخ اجراء:28 جمادی الثانی 1439ھ 16 مارچ 2018