مکان بیچ کر زندگی میں تقسیم کرنا

    makan bech kar zindagi mein taqseem karna

    تاریخ: 25 اپریل، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 1220

    سوال

    میں محمد شفیع ولد محمد خان کے ای ایس سی کا ریتائرڈ ملازم ہوں میرا جو ذاتی گھر ہے میں اسکو بیچنے کا ارادہ رکھتا ہوں ، میری بیوی انتقال کرچکی ہے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں سب شادی شدہ ہیں ۔ شرعی اعتبار سے بتائیں کہ کیسے تقسیم کروں ۔ اور خود کتنا رکھ سکتا ہوں۔

    سائل: محمد شفیع: شاہ فیصل ٹاؤن کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سب سے پہلے یہ بات یاد رکھیں کہ شرعی اصطلاح میں وراثت اس جائیداد کو کہا جاتا ہے جو انسان چھوڑکر مرتا ہے، اور وہ اس وقت اسکے موجود ہ ورثاء میں تقسیم ہوتی ہے۔اس کو ترکہ بھی کہا جاتا ہے۔التعریفات ص 42 میں ترکہ کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے: ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينه ترجمہ: ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا ۔

    لہذا اگر جائیداد آپ کی ذاتی ملکیت ہے تو آپ اسکے مکمل مالک ہیں اور جب تک آپ بقید حیات ہیں ، کسی اولاد کا اس میں کوئی حق نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس جائیداد کی تقسیم کا مطالبہ کر سکتا ہے۔البتہ اگر آپ اس جائیدادیا مکان کو بیچ کر اپنی زندگی میں ہی اپنی اولادکے درمیان تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں،اور یہ تقسیم ، وراثت کی تقسیم نہیں بلکہ آپ کی طرف سے اولاد کے لیے ھبہ و گفٹ ہوگا۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے آپ اپنے لیے جتنا مناسب سمجھیں رکھ سکتے ہیں ،اس کے بعد جو بچے وہ سارا مال سب اولاد خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں سب کوبرابر برابر دے دیا جائے۔ لیکن اگر کسی خاص وجہ سے مثلاًاولاد میں سے کوئی عالم دین یا دوسروں کی بنسبت خدمت گذار ہے اسے دوسروں سے زیادہ دیدے تو یہ بھی جائز ہے، بلا وجہ شرعی کسی ایک کو دوسری اولاد سے زیادہ دینا گناہ ہے۔

    البحر الرائق میں ہے:"يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ"ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکرہ ہے،لیکن اگر کسی دینی فضیلت کیوجہ سے دے تو جائز ہے اور اگر سارا مال اولاد میں سے کسی ایک کو دیا تو قضاء جائز ہے لیکن دینے والا گنہگار ہو گا ( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ،ج:7،ص:288)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:16 شوال المکرم 1440 ھ/20 جون 2019 ء