مناسخہ چار بطن کا شرعی حکم

    manasikha chaar batn ka sharai hukm

    تاریخ: 25 اپریل، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 1226

    سوال

    ایک شخص بشیر احمد کا انتقال ہوا، اسکے ورثاء میں انتقال کے وقت4بیٹے(رشید، ظہیر، اعجاز، ریاض) اور دو بیٹیاں (شہناز، شاہین)تھی، بعدازاں ایک بیٹی (شاہین ) کا انتقال ہوگیا، انکا صرف شوہر (عرفان)موجود ہے جبکہ اولاد کوئی نہیں ہے، پھر ظہیر احمد کا انتقال ہوا، ورثاء میں ایک بیوی(ساجدہ بانو) تین بیٹے(اشعر، عبید، عمیر)اور دو بیٹیاں (سعدیہ، رابعہ) ہیں۔ اسکے بعد رشید احمد کا انتقال ہوا ، انکی زوجہ کا ان سے پہلے انتقال ہوگیا جبکہ ان بھی اولاد نہیں ہے۔

    وراثت میں والدکا پلاٹ تھا، والد کے انتقال کے بعد تمام بیٹوں نے مل کر تعمیر کیا ، اب یہ مکان 120 گزتین منزلہ ہے جسکی ویلیو ایک کروڑ سے ایک کڑور بیس لاکھ کے درمیان ہے، اب سب چاہتے ہیں کہ یہ خوش اسلوبی سے برابر برابر تقسیم ہوجائے ،آپ شرعی اعتبار سے تقسیم فرمادیں۔

    سائل:عبید بن ظہیر : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت یعنی مکان کو 28800 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،ہر ایک وارث کے حصہ کی تفصیل درج ذیل ہے:

    اعجاز ریاض شہناز عرفان ساجدہ اشعر، عبید، عمیر سعدیہ، رابعہ

    8512 8512 4256 1440 760 1330 1330 1330 665 665

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: بیویوں کےحصے بارے میں ارشاد ہے ۔قال اللہ تعالٰی :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُت :رجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    بیوی کا انتقال ہوجائے تو شوہر کا کتنا حصہ ہوگا اس بارے میں ارشادباری تعالٰی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ۔ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : آیت نمبر 11)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    فائدہ :جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل مال وراثت کی قیمت لگواکر اس کو مبلغ یعنی 28800 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے، اسے اپنے پاس محفوظ کرلیں پھر جو محفوظ اعداد ہیں اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:19 ذوالحج 1445ھ/ 26 جون 2024 ء