makan pote ke naam kiya aur raqam tarka mein chhori
سوال
ہماری والدہ زبیدہ خاتون کا انتقال مورخہ 2018-11-27 کو ہوا ، اور والد 1986 میں وفات پاگئے تھے ۔ ورثاء میں ہم تین بیٹیاں (امینہ خاتون،عابدہ کوثر،شاہدہ کنول) اور پانچ بیٹے( بدرالدین، ندیم الدین،صلاح الدین،سلیم الدین،اور علیم الدین) حیات ہیں جبکہ ایک بیٹا (شجاع الدین ) کا وصال والدہ کی حیات میں ہی ہوگیا تھا۔ ہم سب بہن بھائی اپنے اپنے گھروں میں خوش و خرم ہیں ۔ ہماری والدہ کا ایک مکان تھا جو انکو انکے والد کی وراثت سے ملا تھا جسکی وہ اکیلی مالکہ تھیں ۔ اس مکان کا نمبر 18/C (22/C) واقع فردوس کالونی گولیمار نمبر 2، کراچی میں ہے۔
والدہ نے اپنی حیات میں ہی وہ مکان اپنے پوتے کاشف ولد شجاع الدین کے نام کردیا تھا جو ماشاء اللہ جوان ہیں انکی عمر بھی 40 سال ہے ۔اب وہ مکان مکمل طور پر کاشف کی ملکیت اور اسکے قبضے میں ہے اسکے علاوہ کسی کا اس میں کوئی بھی کسی طرح کا حق نہیں ہے۔ والدہ نے مکان جو نام کیا تھا اسکی کاپی منسلک ہے جس میں والدہ کی یہ تحریر اور انگوٹھے کے نشان موجود ہیں :
میں زبیدہ خاتون باہوش و ھواس اپنی مرضی و خوشی سے مذکورہ جائیداد (جس کا اوپر ذکر ہوا) بحق محمد کاشف ولد شجاع الدین مرحوم دستبردار ہوتی ہوں اور اپنی ملکیت کلی طور پر محمد کاشف کے نام منتقل کررہی ہوں اور اس جائیداد کا مکمل قبضہ محمد کاشف کے حوالے کردیا گیا ہے میرا یا میری کسی دیگر اولاد کا مذکورہ جائیداد میں کسی بھی قسم کا کوئی حصہ یا دعویٰ نہیں ہوگا۔
اب ہمارے چند سوالات ہیں :
1: اس جائیداد میں کسی اولاد کا ماں کی زندگی میں کوئی پیسہ تعمیر پر خرچ ہوا ہے تو کیا وہ واپس دیا جائے گا؟
2:گھر کے افراد میں سے کسی کے پاس زبیدہ خاتون کی نقد رقم بطور امانت کے موجود ہو تو کیا وہ رقم وراثت میں اولاد کو دی جائے گی یا نہیں ؟ اگر ہاں تو ہر ایک کا اس میں کتنا حصہ ہوگا وضاحت فرمادیں ۔
سائلین: اولاد زبیدہ خاتون
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر ہوا کہ زبیدہ خاتون نے مکان محمد کاشف کے نام کرکے انکو قبضہ کامل دے دیا تو اب وہ مکان خالصتا کاشف کی ملکیت ہے انکے علاوہ کسی اور کا اس مکان میں کسی طرح کا کوئی حق نہیں ہے۔اگر کسی اولاد نے اس جائیداد کی تعمیر پر پیسہ لگایا تووہ موجودہ رقم سے انہیں واپس دیا جائے گا۔اسکے علاوہ جو بھی رقم ہے جو خاص زبیدہ خاتون کی ملکیت میں ہے، وہ تمام رقم ورثاء میں انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی ۔ جسکا طریقہ یہ ہے کہ کل وراثت کے 13 حصے کیئے جائیں گے جس میں سے ہر بیٹے کو دو،دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک ایک حصہ ملے گا۔
کیونکہ تملیک عین بلا عوض ھبہ ہے ۔یعنی اگر کوئی شخص کسی کوکسی بھی چیز کا بغیر کسی عوض کے مالک بنادے تو یہ گفٹ اور ھبہ کہلاتا ہے ، جس کے لیے قبضہ ضروری ہے بغیر قبضہ کے ھبہ تام نہ ہوگا ، تنویرالابصارمیں ہے:
وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ):ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ) کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز) میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)
اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل :ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)
عالمگیریہ میں ہے : لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض :ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃالباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)
ہدایہ میں قبضہ کی شرط کی علت یوں بیان کی گئی ہے:والقبض لا بد منه لثبوت الملك لأنه عقد تبرع، وفي إثبات الملك قبل القبض إلزام المتبرع شيئا لم يتبرع به، وهو التسليم فلا يصح،ترجمہ: ھبہ میں ملکیت کے ثبوت کے لیے قبضہ ضروری ہے کیونکہ یہ مفت عطیہ کا عقد ہے ، جبکہ قبضہ سے قبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت کرنا تبرع کرنے والے پر ایسی چیز کو لازم کرنا جس کا ابھی اس نے تبرع نہیں کیا اور یہ قبضہ دینا تبرع ہے تو قبل قبضہ درست نہ ہوا۔(ہدایہ کتاب الھبہ جلد 3ص222)
مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے ، قال اللہ تعالی یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ :ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین :ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:24 ربیع الاول 1440 ھ/03 دسمبر 2018 ء