مکان والدہ کے نام کیا بھائیوں نے

    makan walida ke naam kiya bhaiyon ne

    تاریخ: 25 اپریل، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 1223

    سوال

    ہم سب بھائیوں نے پیسہ کما کر ایک مکان خریداجو کہ سب کی رضامندی سے اپنی امی کے نام کروایا تھا ، اب امی کا انتقال ہوگیا ہے۔ اور ورثاء میں 4 بھائی 2 بہن اور ہمارے ابو بھی حیات ہیں۔ آیا اس مکان میں سے جو صرف ہم بھائیوں کی کمائی سے خریدا گیا تھا اس میں سےہماری بہن اور ابو کو بھی حصہ ملے گا یا نہیں؟اگر ملےگا تو کتنا کتنا ملے گا۔

    سائل: جواد


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    آپکا سوال مبہم ہے ، بہرحال والدہ کے نام مکان کرنے سے مراد اگر یہ ہے کہ صرف زبانی بول دیا کہ یہ مکان والدہ کے نام ہے یا نام تو کردیا لیکن وہ مکان ان کے قبضے میں نہیں دیا ان دونوں صورتوں میں مکان ابھی تک ان لوگوں کی ملکیت میں ہی ہے جنہوں نے خریدا تھا یعنی تمام بھائیوں کی ملکیت میں اس میں والد یا بہنوں کا حصہ نہیں ہے۔

    لیکن اگر والدہ کے نام کیا تھا اور انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اس مکان پر قبضہ بھی کرلیا بایں طور کہ اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ رہا یعنی وہ مکان خالصتا ان کا ہی ہوگیا تھا تو اس صورت میں انکی وفات کے بعد وہ مکان ان کے تمام ورثاء کے ما بین تقسیم ہوگاکیونکہ کسی کے نام مکان کرنا اسے مکان گفٹ کرنا کہلاتا ہے جسکو شرعی اصطلاح میں ھبہ کرنا کہتے ہیں چناچہ اگر کسی ایک شخص کے لیے پورا مکان گفٹ کیا جائے تو ضروری ہے کہ وہ شخص اس پر قبضہ بھی کر لے اگر اس نے اپنے قبضے میں لے لیاتو یہ ھبہ تام ہوجاتا ہے یعنی اس میں اس شخص کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے جس کے لیے وہ مکان ھبہ کیاگیا، اور اگر قبضہ نہیں کیا تو وہ ھبہ کرنے والے کی ملکیت میں باقی رہتا ہے ۔

    تنویرالابصارمیں ہےوَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ):ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ) کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز) میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)

    بدائع میں ہے

    (ومنها) القبض وهو أن يكون الموهوب مقبوضا، روي عن سيدنا أبي بكر وسيدنا عمر وسيدنا عثمان وسيدنا علي وابن عباس - رضي الله عنهم - عنهم أنهم قالوا لا تجوز الهبة إلا مقبوضة محوزة ولم يرد عن غيرهم خلافه وروي عن سيدنا أبي بكر وسيدنا عمر وابن عباس ومعاذ بن جبل - رضي الله عنهم - أنهم قالوا لا تتم الصدقة إلا بالقبض ولأن التصدق عقد تبرع فلا يفيد الحكم بنفسه كالهبة (ملخصا)(بدائع الصنائع کتاب الھبہ باب شرائط ما يرجع إلى الموهوب جلد 6 ص 123) ترجمہ: اور موہوب (جو چیز ھبہ کی گئی ہے ) اس کی شرط یہ ہے کہ وہ موہوب لہ (جسکو ھبہ گفٹ کیا گیا ہے)کےقبضے میں ہو ۔چناچہ سيدناابوبكر،سيدناعمر ،سيدناعثمان،سيدناعلي،سیدنا ابن عباس، اور سیدنا معاذ بن جبل رضي الله عنهم سے مروی ہے کہ انہوں سب نے فرمایا کہ ھبہ صرف قبضہ کے ساتھ ہی جائز ہے ۔اور دیگر صحابہ نے ان کے اس قول کا رد نہیں فرمایا، اور دوسری حدیث سيدناابوبكر،سيدناعمر ،سیدنا ابن عباس، اور سیدنا معاذ بن جبل رضي الله عنهم سے ہی مروی ہے کہ صدقہ قبضہ کے بغیر تام نہیں ہوتا اور یہ اس لیے بھی ہے کیونکہ صدقہ ایک عقد تبرع ہے لہذا یہ از خود حکم کا افادہ نہیں کرے گا جیسے ھبہ۔

    بہر حال اگر یہاں دوسری صورت حال ہو یعنی مکان والدہ کے نام کیا تھا اور انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اس مکان پر قبضہ بھی کرلیا بایں طور کہ اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ رہا اور وہ مکان خالصتا ان کا ہی ہوگیا تھاتو اب ان کی وفات کے بعد یہ مکان ان کے ورثاء میں تقسیم ہوگا۔تقسیم کا طریقہ یہ ہوگا کہ اس مکان کے کل 40 حصے کیے جائیں گے جس میں سے 10 حصے شوہر کو 6حصے ہر بیٹے کو اور 3 حصے ہر بیٹی کو ملیں گے۔

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے ، قال اللہ تعالی یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہےومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    بیویوں اور شوہروں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے، جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:15محرم الحرام 1440 ھ/26ستمبر 2018 ء