makan ki taqseem zindagi mein
سوال
میری پانچ بیٹیاں ہیں جن کی میں نے شادی کردی ہے ، چار صاحب اولاد ہیں اور ایک بیٹی جو سب سے چھوٹی سے اسکے شوہر نے بعض وجوہات کی بناء پر اسکو طلاق دے دی تھی ، میری بیوی اور بڑی بیٹی کا انتقال ہوچکا ہے ، میرا ایک ذاتی مکان ہے میں بوڑھا آدمی ہوں زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے مجھے ڈر ہے کہ میرے بعد حصے کے چکر میں میرے داماد میری بیٹی کو تنگ کریں گے ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔
سائل : قمر الزمان
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سب سے پہلے یہ بات یاد رکھیں کہ شرعی اصطلاح میں وراثت یا میراث اس جائیداد کو کہا جاتا ہے جو کوئی شخص وفات کے وقت چھوڑتا ہے، اور اس وقت موجود ہ ورثاء میں تقسیم ہوتی ہے۔
التعریفات ص 42 میں ترکہ کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے۔ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينه : ترجمہ: ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا ۔
اگرمکان آپ کی ذاتی ملکیت ہے تو آپ اپنے مکان کے مکمل مالک ہیں اور جب تک آپ بقید حیات ہیں آپ کے کسی وارث کا اس میں کوئی حق نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس جائیداد کی تقسیم کا مطالبہ کر سکتا ہے۔البتہ اگر آپ اپنی زندگی میں ہی اپنی بیٹیوں درمیان تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں لیکن یہ شرعا ََتقسیم میراث نہیں بلکہ گفٹ یا ہبہ کہلائے گا تواس میںبہتر یہ ہے کہ سب کوبرابر برابر دیا جائے لیکن اگر کسی خاص وجہ سے مثلاًاولاد میں سے کوئی زیادہ غریب، یا دین دار یا خدمت گذار ہے اس لیے اسے دوسروں سے زیادہ دیدے تو یہ بھی جائز ہے لیکن اس میں ضروری ہے کہ مکان کا قبضہ بھی دے دیں ، اگر بغیر قبضہ دیے صرف زبانی طور پر کہہ دیا تو اس سے ھبہ تام نہ ہوگا ۔ البحر الرائق میں ہے"يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ":ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکرہ ہے،لیکن اگر کسی دینی فضیلت کیوجہ سے دے تو جائز ہے اور اگر سارا مال اولاد میں سے کسی ایک کو دیا تو قضاء جائز ہے لیکن دینے والا گنہگار ہو گا ۔( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ،ج:۷،ص:۲۸۸)
خلاصہ یہ ہے کہ آپ اپنا مکان اپنی سب بیٹیوں میں برابر برابر تقسیم کرسکتے ہیں ، اور اس میں کسی کو کسی خاص وجہ سے زیادہ دینا چاہیں تو وہ بھی دے سکتے ہیں ۔
اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ اپنا مکان اپنی بیٹی کو نہایت سستے داموں میں فروخت کردیں مثلا چند ہزار کے عوض اپنی بیٹی کو ہی بیچ دیں اور انکے نام کروادیں اس طرح وہ آپ کی زندگی میں ہی اس مکا ن کی قانونی اور شرعی مالک بن جائیں گی پھر آپ کے بعد کوئی بھی شخص اس مکان میں کسی طرح کا کوئی دعوی نہیں کر سکے گا۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ:6محرم الحرام 1440 ھ/17ستمبر 2018 ء