مناسخہ تین بطن کا شرعی حکم

    manasikha teen batn ka sharai hukm

    تاریخ: 25 اپریل، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 1224

    سوال

    ہمارے نانا کے چار بچے ہیں ، نانی ,نانا سے پہلے وفات پا چکیں، انکے دو بیٹے(الطاف، اشفاق)اور دو بیٹیاں (قیصرجہاں، شاھینہ پروین) تھی ، بعد ازاں ایک بیٹی (قیصر جہاں) کا انتقال ہوا، انکے شوہر کا ان سے پہلے ہی انتقال ہوچکا جبکہ وہ خود لاولد تھی، پھر ایک بیٹے (الطاف) کا انتقال ہوا ، انکے انتقال کے وقت انکی ایک بیوی(فرحت) 2 بیٹے(فرحان، فراز) اور 2 بیٹیاں (آفرین، ماہین)حیات تھی، پھر بیوی کا انتقال ہوگیا اسکے والدین پہلے وفات کرچکے، اسکے بعد ایک اور بیٹی (شاھینہ پروین) کا انتقال ہوا،انکے شوہر(اعجاز) کا پہلے انتقال ہوگیا، جبکہ تین بیٹے (سعادت، تراب، محمود) اور 2 بیٹیاں ( اقرا، عروج)ہیں۔ وراثت میں ایک مکان کی اسکی تقسیم کیسے ہوگی۔ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    سائل: سعادت علی : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت یعنی مکان کو 120حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،ہر ایک وارث کے حصہ کی تفصیل درج ذیل ہے:

    کل حصے: 120

    ہر وارث کا حصہ:

    اشفاق فرحان فراز آفرین ماہین سعادت تراب محمود اقرا عروج

    48 16 16 8 8 6 6 6 3 3

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کےمطابق ہے: لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ۔ ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(سورۃ النساء آیت نمبر 10، 11)

    اسی میں ہے :والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال ۔ ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہوجائے ۔(السراجی فی المیراث ص 9)

    فائدہ:رقم تقسیم کرنے کاحسابی طریقہ: مکان کی مارکیٹ ویلیو لگواکر کر فتوی میں بیان کردہ کل حصوں کو (120) پر تقسیم کریں جو جواب آئے اس جواب کو محفوظ کرلیں اور پھر اس محفوظ جواب کو ہر وارث کے حصہ سے ضرب کریں جو جواب آئے گا وہ ہر وارث کی رقم ہوگی جو بطورِ وراثت اسے اپنے مورث سے مل رہی ہے۔پھر آخر میں تمام ورثاء کی رقم کو ملاکر چیک کرلیں اگر وہ کل مجموعہ کل جائیداد کی رقم کے برابر ہے تو تقسیم درست ہے ورنہ نہیں۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:22 محرم الحرام 1445ھ/ 10 اگست 2023 ء