مناسخہ دو بطن اور تعمیرات کا حکم

    manasikha do batn aur tameerat ka hukm

    تاریخ: 25 اپریل، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 1225

    سوال

    میرا نام یونس ہے ،والدین کا انتقال ہوچکا ہے۔ ہم سات بھائی(یوسف، یونس، جاوید، پرویز، اورنگزیب،ظفر، مظفر ) اور چار بہنیں(فاطمہ، زینب، رقیہ، رابعہ) ہیں ۔ میرے والد کا ایک پلاٹ تھا جوکہ انتھرائزڈ تھا ۔ بعد میں ،میں نے اسے لیز کروایا اوروالد صاحب کی موجودگی میں مکمل تعمیرات بھی میں نے ہی اپنے پیسوں سے کی۔کسی بھائی یا بہن نے کوئی حصہ نہیں ملایا ۔ اور دو بہنوں کی شادی بھی کروائی۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ میری بہنوں کا اور بھائیوں کا کتنا کتنا حصہ بنے گا۔

    بھائیوں میں سے تین بھائیوں(پرویز، اورنگ زیب، مظفر) کا والد سے پہلے انتقال ہوگیا ۔اور ایک بھائی(جاوید) کا بعد میں انتقال ہوا۔ اسکے ورثاء میں ایک بیوی(بے بی) تین لڑکے(علی،شان،حسن) اورتین لڑکیاں(سحرش، سمینہ،ثبینہ) ہیں ۔ ہر ایک کا وراثت میں حصہ بتادیں۔

    سائل: یونس : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں مرحومین پراگرکوئی قرض تھا تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے پہلے اس کی ادائیگی اور اگر کوئی جائز وصیت کی تھی تو بقیہ مال کی تہائی سے وصیت نافذ کرنے کے بعد گھر،ان تمام ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کیا جائے گا،جو مورث کی موت کے وقت حیات تھے ۔ پہلے انتقال کر جانے والوں کو حصہ نہیں ملے گا۔

    مکان کی تقسیم یوں ہوگی کہ سب سے پہلے زمین اور عمارت دونوں کی الگ الگ ویلیو لگوائی جائے پھر جس بھائی اسکی مکمل تعمیرکی وہ تنہا تمام عمارت کا مالک ہوگا یہ عمارت وراثت میں تقسیم نہ ہوگی۔ اور زمین تمام ورثاء میں( بشمول اس بھائی کے )انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگی۔

    تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ زمین کی کل قیمت کو 432حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ہر وارث کا حصہ درج ذیل ہے:

    یوسف، یونس، ظفر، فاطمہ، زینب، رقیہ، رابعہ، بے بی، علی، شان، حسن، سحرش، سمینہ،

    72 72 72 36 36 36 36 9 14 14 14 7 7

    ثبینہ،

    7

    جس بیٹے نے والد کی زندگی میں انکی اجازت سےجوتعمیرات کی وہ خاص اسی کی ہے وہ وراثت میں تقسیم نہ ہوگی۔جیسا سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں :فی العقود الدریۃ من کتاب العاریۃ سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ و عن ورثۃ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ الجواب نعم کما صرح بذٰلک فی حاشیۃ الاشباۃ۔ترجمہ: العقود الدریۃ میں کتاب العاریۃ کے بیان میں مذکور ہے، ایک ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے باپ کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنے مال سے اپنے لئے گھر بنایا پھر باپ اس سمیت دیگر ورثاء کو چھوڑ کر فوت ہوگیا تو یہ عمارت اس بانی کی ہوگی۔الجواب، ہاں۔ جیسا کہ اس کی تصریح الاشباہ میں ہے۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب الوکالۃ ،جلد 19 ص 224 رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)

    وراثت صرف ان میں تقسیم ہوتی ہے جو مورث کے وصال کے وقت زندہ ہوں۔ ہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه :ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو ا س کی موت سےپہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے،(لہذا ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔( الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424)

    یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہے:وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت: أي وقت الحكم بالموت۔ ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث) کی موت کے وقت موجود ہوں۔ (البنایۃ ، شرح الہدایہ جلد 7ص367)

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے:قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔(النساء:12)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    فائدہ:رقم تقسیم کرنے کاحسابی طریقہ: گھر کی تمام رقم کو فتوی میں بیان کردہ کل حصوں کو (504) پر تقسیم کریں جو جواب آئے اس جواب کو محفوظ کرلیں اور پھر اس محفوظ جواب کو ہر وارث کے حصہ سے ضرب کریں جو جواب آئے گا وہ ہر وارث کی رقم ہوگی جو بطورِ وراثت اسے اپنے مورث سے مل رہی ہے۔پھر آخر میں تمام ورثاء کی رقم کو ملاکر چیک کرلیں اگر وہ کل مجموعہ کل جائیداد کی رقم کے برابر ہے تو تقسیم درست ہے ورنہ نہیں۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 22 صفر المظفر 1443 ھ/30 ستمبر 2021 ء