وراثت کا مسئلہ چھ بیٹے اور تین بیٹیاں

    warasat ka masla chh betay aur teen betiyan

    تاریخ: 11 مئی، 2026
    مشاہدات: 22
    حوالہ: 1318

    سوال

    ہمارے والد کا انتقال ہوگیا ہے، والد کا پہلے اور والدہ کا بعد میں ، والدہ کے والدین ان س پہلے ہی وفات پا چکے ہیں ۔ وراثت میں ایک پلاٹ ہے جو کہ 80 گز کا ہے جسکی قیمت 31 لاکھ ہے ۔ ہم 6 بھائی اور 3 بہنیں ہیں ۔ ہر بہن بھائی کے حصے میں کتنے پیسے آئیں گے، شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    سائل:محمد احمد : کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    برتقدیرِ صدقِ سائل و انحصارِ ورثاء مرحوم کےکفن دفن کےاخراجات اورقرضوں کی ادائیگی اوراگرکسی غیروارث کےلئےوصیت کی ہوتواسکومرحوم کےتہائی مال سےپورا کرنےکےبعد مالِ وراثت کے کل 15 حصےکئےجائیں گے۔ جس میں سے ہر بیٹے کے 2 حصے اور ہر بیٹی کا ایک حصہ ہوگا ۔

    رقم کی صورت میں ہر ایک وارث کا حصہ:

    ہر بھائی کا حصہ: =/413333

    ہر بہن کا حصہ: =/206666

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:12 شوال المکرم 1444 ھ/03 مئی 2023 ء