warasat ka masla chay bhai do behnein
سوال
میں مقصود احمد کریمی ولد آفتاب کریمی اس مسئلہ پر شرعی فتوی چاہتا ہوں کہ میرے والد مرحوم پاکستان کسٹم میں ملازم تھے انہوں نے 1982 میں کسٹم پرونٹیو ہائوسنگ سوسائٹی لیمٹیڈ کراچی میں مبلغ5 ہزار روپے 200مربع گز پلاٹ کے لیے جمع کرائے تھے اور اسکے ممبر بن گئے تھے۔پھر 25 سال بعد جب کسٹم کو زمین الاٹ ہوئی تو مارچ 2007 میں تمام ممبران سے پہلی قسط مبلغ 25 ہزار روپے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ،تو والد صاحب نے پہلی قسط کی مد میں 25 ہزار جمع کروائے اسکے بعد جون 2007 میں والد صاحب کا انتقال ہوگیا ۔اسکے بعد دوسری اور تیسری قسط والدہ کی موجودگی میں والد صاحب کی پینشن سے جمع کرائی گئی جو کہ 25،25 ہزار کی تھی یعنی مبلغ 50 ہزار روپے اسکے بعد دسمبر میں والدہ کا بھی انتقال ہوگیا ۔ والدہ کے انتقال کے بعد سے لے کر اب تک 10 اقساط اسکے علاوہ سوسائٹی کے منٹینس چارجز میں نے جمع کرائے جسکی کل رقم 329250 روپے بنتی ہے ، اس لحاظ سے کل رقم 409250 جمع کرائی گئی جس میں سے 80 ہزار والد اور والدہ کی طرف سے اور بقیہ 329250 میری طرف سے۔
جس کی رسیدیں ہمارے پاس موجود ہیں ۔ابھی اس پلاٹ کا قبضہ نہیں ملا اور قبضہ ملنے کی صورت میں ہم کو لیزنگ اور سوسائٹی پزیشن فیس ادا کرنی ہوگی جو کہ /150000 ہوسکتی ہے۔
ہم چھ بھائی اور 2 بہنیں ہیں ۔اگر ہم اس پلاٹ کو اسی صورت حال میں فروخت کریں تو اس سے حاصل کردہ رقم کی کیا صورت حال ہوگی اس حوالے سے دو سوال پیدا ہوتے ہیں
1:۔ والدین کی طرف سے جو رقم ادا کی گئی اس میں ہم سب کا کتنا کتنا حصہ بنتا ہے؟
2:۔ اور جو رقم میری طرف سے ادا کی گئی اس میں بھی کسی کا حصہ ہوسکتا ہے یا نہیں ؟وضاحت کردیجیے۔
سائل:۔ مقصود احمد کریمی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1:۔پلاٹ آپکے والدہی کی ملکیت ہے اور آپ نے اقساط وغیرہ کی مد میں جو رقم جمع کرائی ہے پلاٹ فروخت کرکے وہ رقم آپکو ادا کی جائے گی اور بقیہ رقم تمام ورثاء میں بشمول آپکے ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کی جائے گی ،اور اگر آپکے والد صاحب کااس پلاٹ کے علاوہ کوئی ترکہ ہو یا مال وراثت ہوتو وہ بھی ورثاء میں انکے حصص شرعیہ کے مطابق تقسیم ہوگا ۔
مجلۃ الاحکام الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206 مادہ نمبر 1073 میں ہےتَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ.:ترجمہ:شرکۃ الملک میں مال مشترک کی تقسیم تمام لوگوں کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔
کیونکہ جو کچھ میت چھوڑ کر جائےکہ جس میں کسی غیر کا حق نہ ہو وہ ترکہ ہے اور ساراترکہ ورثاء کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے، التعریفات ص 42 میں ترکہ کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے۔
ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينه : ترجمہ: ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا ۔
اور اس تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ کل وراثت کے 14 حصے کئے جائیں گے جس میں سے ہر بھائی کو 2 حصے اور ہر بہن کو 1 حصہ ملے گا، قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ:ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے :ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
2:۔ اور جو رقم آپکی طرف سے ادا کی گئی اس میں کسی کا حصہ نہیں ہے وہ خالصتاََ آپکی ملکیت ہے، کیونکہ ملکیت کا ثبوت دو طریقوں سے ہوتا ہے ایک اختیاری یعنی بیع،ھبہ (گفٹ)اور وصیت کے ذریعے دوسرا اجباری یعنی وراثت کے ذریعے ، البنایہ شرح الہدایہ جلد 8ص216 میں ہےوجوه سبب الملك من قبول الهبة والوصية والإرث والشراء:ترجمہ:ملکیت کے اسباب ،ھبہ اور وصیت قبول کرنااور بیع ،اور وراثت ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی