warasat se dast bardari ka hukm
سوال
میرےوالد ولی محمد کا انتقال 1985 میں ہوا ، اور والدہ کا انتقال 2014 میں ہوا ۔ میری چھ بہنیں ہیں ،اور میں اکیلا بھائی ہوں ایک بہن کلثوم کا انتقال 1980 میں والدین کی موجودگی میں ہی ہوا تھا وہ شادی شدہ تھی اسکے دو بچے ،ایک لڑکا اور ایک لڑکی دونوں بالغ ہیں اور انکے شوہر بھی فوت ہوچکے ہیں ۔ایک بہن ھاجرہ بانو غیر شادی شدہ ہے،اس کے علاوہ سب بہنیں شادی شدہ ہیں ،اپنے اپنے گھر کی ہیں،اور میرا بھی اپنا الگ گھر ہے۔ ہمارے گھر والے 1962 سے دھورا جی کالونی میں رہتے ہیں ۔ہماری دھوراجی جماعت نے میرے والد کو ایک کوارٹر 120گز کاعطا کیا تھا جو صرف دو کمروں پر مشتمل تھا ،والد صاحب کوئی کام وغیرہ نہیں کرتے تھے بیمار رہتے تھے ،والدہ صاحبہ نے اچار پاپڑ کا کام شروع کیا ان کے کام میں میری بہن ھاجرہ جو غیر شادی شدہ ہے نے ماں کی حیاتی تک ماں کا ساتھ دیا ۔اور انکے بعد یہ کام جاری رکھا جو ابھی تک جاری ہے۔ اور والد کے مکان میں والدہ اور بہن ھاجرہ رہتی تھیں ۔ 2009۔8۔11 کو والدہ نے یہ مکان کنواری ھاجرہ کے نام کردیا ، اور ہم سب بہن بھائیوں نے ھاجرہ کے حق میں دست برداری دے دی۔(حق دستبرداری نامہ سوال کے ساتھ لف کیا گیا ہے جس میں تمام شریک ورثاء کے دستخط یا انگوٹھے کے نشان موجود ہیں)والدہ کے انتقال کے بعد ھاجرہ نے اس مکان کو بنانے کا ارادہ ظاہر کیا ۔اس وقت اس کے پاس 40 لاکھ 40 ہزار روپے تھے جبکہ پروجیکٹ کے لیے یہ رقم ناکافی تھی تو اس نے بہن کے بیٹے سے کہا کہ فرسٹ فلور تمہیں 60 لاکھ میں دیتی ہوں بکنگ کرو گے لیکن کچھ دن بعد وہ 40 لاکھ پر راضی ہوا جس پر بہن نے منع کردیا ، میں نے کہا کہ بینک میں میرے پاس پیسے موجود ہیں جتنے ضرورت ہو لے لو ۔اس طرح 39 لاکھ میں نے اس پروجیکٹ میں لگائے کل رقم 94 لاکھ لگی اوپر کی رقم دیگر بہنوں سے قرض لے کر پروجیکٹ مکمل کیا ۔ اسکے بعد کرائے پر دے کر جو رقم آئی اس سے قرض اتار دیا ، میں نے اس پروجیکٹ میں 39 لاکھ روپے لگائے اور دس ماہ مکمل وقت دیا ۔ اس دوسری منزل کو 87 لاکھ میں بیچا ہے بہن کی خواہش ہے کہ یہ رقم وراثت میں تقسیم کردوں ، اسکے علاوہ جس بہن کا انتقال پہلے ہوا اسکے بچوں کو بھی کچھ دے دوں۔ تو کیا اسکو حق ہے کہ وہ ایسا کر سکتی ہے یا نہیں؟ اسکا کہنا ہے کہ اب جو منزل بکے گی اس سے جو رقم ملے گی تو بھائی کا قرض دے دوں گی اور یہ کہ جب والدہ حیات تھیں تو انہوں نے کہا تھا کہ کلثوم کے بچوں کو بھی کچھ رقم دینا ۔ برائے مہربانی شرعی رہنمائی فرمائیں۔
سائل: محمد اقبال ولد ولی محمد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ملکیت کا ثبوت دو طریقوں سے ہوتا ہے ایک اختیاری یعنی جس میں بندہ اپنے اختیار اور اپنے فعل کے ذریعے کسی چیز کا مالک بنتا ہے جیسے بیع(خرید وفروخت)،ھبہ (گفٹ)اور وصیت کے ذریعے ۔دوسرااضطراری یعنی جس میں انسان اپنے فعل اور اختیار کے بغیر کسی چیز کا مالک بنتا ہے جیسے وراثت کے ذریعے ،کیونکہ میراث اور وراثت شریعت کا حق ہے ، اللہ تعالیٰ نےیہ حق مقرر فرمایا ہے ، لہذا کسی کے ساقط کرنے سے ساقط نہ ہوگا حتیٰ کہ ورثاء صراحتاً کہہ دیں کہ ہم اپنے حق سے دست بردار ہوتے ہیں تب بھی وراثت میں انکی ملکیت ختم نہ ہوگی۔اگر چہ دست برداری کو کتنا ہی عرصہ کیوں نہ گزر جائے ۔ لہذا مذکورہ صورت میں بھی آپکے والد کا مکان آپ تمام ورثاء کا ہی ہے ،آپ کی،آپ کی سب بہنوں اوروالدہ کی دست برداری کی شرعا ًکوئی حیثیت نہیں ہے ۔جب معلوم ہوا کہ اس طرح سے دست برداری کی کوئی شرعی حیثیت نہیں تو وراثت کا مکان اگر تمام ورثاء کی رضامندی سے توڑا گیا ہے تو فبہا یعنی اس صورت میں والد صاحب والے گھر کی عمارت کی قیمت آپ کی بہن پر نہیں آئے گی ،اور اگر وراثت کا مکان ورثاء کی مرضی سے نہیں توڑا گیا تو اس وقت جو عمارت تھی اس کی مالیت آپ کی بہن پر آئے گی۔پھر والد کے متروکہ مکان پرجو رقم لگائی گئی ،وہ رقم موجودہ عمارت کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے قیمت لگا کر اس قیمت سے منہا (جدا) کر لیں اور باقی رقم آپ کی بہن سمیت تمام ورثاء کو انکے مقرر کردہ شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔
ہاں ۔! اگر واقعتا تمام ورثاء اپنا اپنا حصہ بہن کو ہی دینا چاہتے ہیں تو یوں کریں کہ تمام ورثاء اپنا اپنا حصہ لے کر اپنی بہن کو ہبہ کامل کردیں۔
اور جو رقم پروجیکٹ میں آپ نے لگائی اسکی ادائیگی بھی بہن کے ذمے لازم ہے۔
رہی وہ بہن جس کا انتقال والدین کی حیات میں ہی ہوگیا تھا تو شریعت کے اعتبار سے انکو وراثت سے تو حصہ نہیں ملے گا کیونکہ وراثت صرف ان ورثاء میں تقسیم ہوتی ہے جو مورث(جسکی وراثت ہے )کی موت کے وقت موجود ہوں جبکہ آپکی بہن (کلثوم)والدین کے وصال سے پہلے وصال کرچکی ہیں لہذا وہ ورثاء میں شامل نہ ہونگی ، اور نہ ہی انکی اولاد کو ملے گا کیونکہ دیگر قریبی ورثاء کی موجودگی میں دور والے رشتہ دار کو بھی نہیں ملتا ۔ البتہ اگر تمام ورثاء یا جو چاہے باہمی رضامندی سے اس بہن کی اولاد کو کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں ، یقینا یہ کام باعث اجر و ثواب اور صلہ رحمی ہے۔
اب موجودہ ورثاء یعنی پانچ بہنیں اور بھائی میں وراثت اس طرح تقسیم ہوگی کہ کل وراثت کے 8 حصے کئے جائیں گے جس میں سے 2 حصے بھائی کو اور ایک،ایک حصہ ہر بہن کو ملے گا۔
البنایہ شرح الہدایہ میں ہے:وجوه سبب الملك من قبول الهبة والوصية والإرث والشراءترجمہ:ملکیت کے اسباب ،ھبہ اور وصیت قبول کرنااور خریدنا ،اور وراثت ہیں۔( البنایہ شرح الہدایہ جلد 8ص216 الشاملہ)
الاشباہ والنظائر لابن نجیم میں ہے:لایدخل فی ملک الانسان شیئ بغیر اختیارہ الا الارث اتفاقاترجمہ:انسان کی ملکیت میں اس کے اختیار کے بغیر کوئی شیئ داخل نہیں ہوتی مگر میراث بالاتفاق داخل ہوتی ہے ۔( الاشباہ والنظائر لابن نجیم الفن الثالث ص299)
قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار میں فتاویٰ بزازیہ کے حوالے سے ہے :وفيهَا: وَلَو قَالَ تركت حَقي من الْمِيرَاث أَو بَرِئت مِنْهَا وَمن حصتي لَا يَصح وَهُوَ على حَقه، لَان الارث جبري لَا يَصح تَركه ترجمہ:اور بزازیہ میں ہے کہ اگر کسی وارث نے کہا کہ میں نے وراثت سے اپنا حق چھور دیا ، یا میں وراثت سے دست بردار ہوا،یا میں اپنے حصے سے دست بردار ہوا، تو یہ درست نہیں بلکہ اسکا حصہ ابھی بھی باقی ہے، کیونکہ وراثت ایک جبری چیز ہے اسکا ترک درست نہیں ہے۔(قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار جلد 12 ص 116 امدادیہ)
سیدی اعلیٰ حضرت فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں:فان الارث سبب ضروری للملک حتی ان الوارث یرث ویملک سھمہ ولوقال الف مرۃ انی ترکت حقی والمسئلۃ فی الاشباہ وغیرھا۔ترجمہ: بلاشبہ وارث ہونامِلک کے لئے سبب ضروری ہے یہاں تک کہ وارث اپنے حصے کاوارث ومالک بن جاتاہے اگرچہ ہزار بار کہے ہے کہ میں نے اپنا حق چھوڑدیاہے اور یہ مسئلہ اشباہ وغیرہ میں مذکورہے۔( فتاوی رضویہ کتاب المداینات جلد 25 ص 311)
سیدی اعلیٰ حضرت سے اسی طرح کا ایک سوالکیا گیا ،(سوال مع جواب)سوال :''خورشید حسن خاں ایک بیٹا امدادحسن خاں اوردوبیٹیاں وجیہ النساء اور تنربیگم چھوڑ کرانتقال کرگیا امدادحسن خاں اپنے حصہ سے دستبردار ہوگیا اب تقسیم ترکہ کیسے ہوگا؟الجواب : حق میراث حکم شرع ہے کہ رب العالمین تبارک وتعالٰی نے مقررفرمایا کسی کے ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوسکتا۔قال علماؤنا کما فی الاشباہ وغیرہ الارث جبری لایسقط بالاسقاط، ہمارے علماء نے فرمایا جیساکہ اشباہ وغیرہ میں ہے کہ حق میراث جبری ہے کسی کے ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتا۔اوروجہ اس کی ظاہرہے کہ بیٹا مثلاً اپنے باپ کا اس لئے وارث ہوتاہے کہ یہ اس کابیٹاہے تو جس طرح یہ اپنے بیٹے ہونے کونہیں مٹا سکتا یونہی اپنے حق میراث کونہیں ساقط کرسکتا، پس امدادحسن خاں کاترکہ متوفی سے دستبردارہوناہرگزمعتبرنہیں، اور وہ اس وجہ سے زنہار کالعدم نہیں ہوسکتا اگرلاکھ باردست برداری کرلے شرع تسلیم نہ فرمائے گی اور اسے اس کے حصہ کامالک ٹھہرائے گی ہاں اگراسے لینامنظورنہیں تو یوں کرے کہ لے کراپنی بہن خواہ بھاوج خواہ جسے چاہے ہبہ کامل کردے اورجومال قابل تقسیم ہواسے منقسم کرکے قبضہ دلادے اس وقت البتہ اس کاحق منتقل ہوجائے گا ورنہ مجرد دست برداری کچھ بکارآمدنہیں ملخصا( فتاوی رضویہ کتاب الفرائض جلد 26 ص 132)
اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں :''ارث جبری ہے، کہ موت مورث پر ہروارث خواہ مخواہ اپنے حصہ شرعی کامالک ہوتاہے مانگے خواہ نہ مانگے، لے یانہ لے، دینے کاعرف ہویانہ ہو، اگرچہ کتنی ہی مدت ترک کوگزر جائے، کتنے ہی اشتراک دراشتراک کی نوبت آئے اصلاً کوئی بات میراث ثابت کوساقط نہ کرے گی، نہ کوئی عرف فرائض اﷲ کوتغیرکرسکتاہے، یہاں تک کہ نہ مانگنا درکنار اگر وارث صراحۃً کہہ دے کہ میں نے اپناحصہ چھوڑ دیا جب بھی اس کی مِلک زائل نہ ہوگی ۔'' ( فتاوی رضویہ کتاب الفرائض جلد 26 ص 115)
الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ)تھے اور جو ا س کی موت سے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے ۔(الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص424)
یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحتہےو:قسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت) ش: أي وقت الحكم بالموت۔ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اسکی موت کے وقت موجود ہوں۔( البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367)
اسی طرح السراجی فی المیراث ص36میں ہے:''اولاہم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم بنوہم وان سفلوا'' ترجمہ: میت کی وراثت کے زیادہ حقدار میت کا جزء یعنی بیٹے ہیں ،(اگر بیٹے نہ ہوں تو)اسکے بعد پوتے ۔(السراجی فی المیراث ص36)
تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے ''(وَیُقَدَّمُ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ مِنْہُمْ) بِہَذَا التَّرْتِیبِ فَیُقَدَّمُ جُزْء ُ الْمَیِّتِ (کَالِابْنِ ثُمَّ ابْنِہِ وَإِنْ سَفَلَ'' ترجمہ: اور (میت کے رشتے داروں میں سے)قریب کے رشتے دار کو وراثت دینے میں مقدم کیاجائے گا پھر جو اسکے بعد زیادہ قریب ہو اسکو مقدم کیاجائے گا ،اسی ترتیب سے آگے تک لہذا میت کے جزء یعنی بیٹے کووراثت دینے میں مقدم کیا جائے گا ۔ (اگر بیٹا نہ ہوتو)پھر اسکا بیٹے(یعنی پوتے کو )وراثت دینے میں مقدم کیا جائے گا۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الفرائض باب العصبات جلد6ص774)
وراثت کی تقسیم قرآن کریم میں بیان کردہ اُصولوں کے مطابق ہے:بیٹے اور بیٹیوں کے حصے بارے میں ارشاد ہے: یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء: 10)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
خلاصہ یہ ہے کہ والد کا مکان آپ تمام ورثاء کا ہی ہے ،ورثاء کی دست برداری کی شرعا ََکوئی حیثیت نہیں ہے ۔لہذا والد کے متروکہ مکان پرجو رقم لگائی گئی ،وہ رقم موجودہ عمارت کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے قیمت لگا کر اس قیمت سے منہا (جدا) کر لیں اور باقی رقم آپ کی بہن سمیت تمام ورثاء کو انکے مقرر کردہ شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔اگر تمام ورثاء اپنا اپنا حصہ بہن کو ہی دینا چاہتے ہیں تو ورثاء اپنا اپنا حصہ لے کرپھر اپنی بہن کو دےدیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:07ربیع الاول 1440 ھ/16 نومبر 2018 ء