kalala ki wirasat ka hukum
سوال
ایک شخص (گل حسن ) کا انتقال ہوا ، وہ لاولد تھا ورثاء میں ایک بیوی(اشرف النساء) ہے، اسکے علاوہ تین بھائی اور تین بہنیں تھی سب بھائی مرحوم سے پہلے فوت ہوگئے جبکہ بہنوں میں سے دو بہنیں پہلے فوت ہوگئیں اس وقت ایک بہن حیات ہے اسکے علاوہ تین بھتیجے ہیں ۔ انکی وراثت کی شرعی تقسیم فرمادیں۔
سائل:عبدالباری : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت یعنی مکان کو 12 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،جس میں سے بیوی کو 3 حصے بہن کو 6 حصے اور ہر بھتیجے کو الگ الگ ایک حصہ ملے گا۔
مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: بیویوں کےحصے بارے میں ارشاد ہے ۔قال اللہ تعالٰی :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُت رجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔
اگر ورثاء صرف ایک بہن ہو تو اس کےحصے بارے میں ارشاد ہے: إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ۔ترجمہ کنز الایمان : اگر کسی مرد کا انتقال ہو جو بے اولاد ہے اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں اس کی بہن کا آدھا ہے ۔(النساء :176)
السراجی فی المیراث میں عصبہ کی تعریف ہے :والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں)تو سارے مال کا مستحق ہو جائے۔(السراجی فی المیراث ص54مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:09 شعبان المعظم 1445ھ/ 20 فروری 2024 ء