maan ki wirasat mein bachon ka hissa
سوال
میری ساس(رضیہ) کا ایک ذاتی ملکیتی گھر ہے، جسکی تقسیم کے لئے فتوٰی درکار ہے، ساس کے شوہر کا پہلے انتقال ہوگیا انکی کل 5 اولاد ہیں جس میں ایک بیٹا اور چار بیٹیاں ہیں، بیٹے کا انتقال ساس کی زندگی میں ہوگیا اسی طرح بیٹے کی بیوی کا انتقال بھی ساس کی زندگی میں ہوا، جبکہ بیٹے کی اولاد میں ایک بیٹا (حسین)اور ایک بیٹی (بسمہ)ہے، اسی طرح ایک بیٹی کا بھی زندگی میں انتقال ہوگیا ۔ ساس کی وفات کے وقت صرف انکی تین بیٹیاں (ثمینہ، شبانہ، روبینہ) حیات تھی، بعد ازاں ایک بیٹی (ثمینہ )کا انتقال ہوگیا ، ثمینہ کے ورثاء میں شوہر(معراج)اور (حسن، حسنین)دو بیٹے ہیں۔مکان کی ویلیو 50 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں کس کس کا حصہ ہوگا اور کتنا کتنا؟ ارشاد فرمائیں۔
سائل:محمد زاہد : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیساکہ بیان کیاگیا تو امورِ متقدمہ علی الارث (تجہیز وتکفین، ادائے قرض ، وصیت از ثلث)کے بعدحکم شرع یہ ہےکہ جس بیٹی کا انتقال زندگی میں ہوا اسکی اولاد اپنی نانی کی وراثت سے کچھ حصہ نہ پائے گی ، جبکہ بیٹے کی اولاد دادی کی وراثت میں بطورِ عصبہ بنفسہ حقدار ہوگی۔ تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ گھر کو 36 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، ہر وارث کا حصہ درج ذیل ہے:
شبانہ:8 ، روبینہ:8 ،حسین:8 ، بسمہ:4 ، معراج:2 ، حسن:3 ،حسنین:3
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:04 ذوالعقدہ 1445ھ/ 13 مئی 2024 ء