وراثت کا مسئلہ چھ بہنیں

    warasat ka masla chay behnein

    تاریخ: 13 مئی، 2026
    مشاہدات: 1
    حوالہ: 1337

    سوال

    میرے والد صاحب نے ترکے میں ایک عدد مکان ہے، جس میں ہماری رہائش ہے ۔ وہ مکان کو 1991 میں فروخت کیا اور اس وقت دوسرا پلاٹ جو کہ والد صاحب کا تھا،اس پر مکان تعمیر کیا ہے،اب اس مکان کو فروخت کیا ہے۔ اس کی وراثت کا کیا طریقہ ہوگا۔؟میری 6 بہنیں ہیں ۔ 3 بہنوں کی شادی والد صاحب نے کی ہے اور تین بہنوں کی تمام کفالت میں نے کی ہے، شادی بھی کردی ہے۔

    اب تقسیم وراثت کس طرح کی جائے۔ ؟دوسرا مکان جو کہ پلاٹ پر بنایا تھا۔ پلاٹ کی قیمت پر تقسیم کی جائے یا مکان کی قیمت پر کی جائے ۔؟ وضاحت سے بیان کیجئے ۔

    سائل: نبی جان


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر تعمیرات آپ نے اپنے ذاتی پیسوں سے کی ہے اور اس میں وراثت کا مال بلاواسطہ یا بالواسطہ تعمیرات میں شامل نہیں کیا تو صرف پلاٹ وراثت میں تقسیم ہوگا عمارت نہیں ۔

    اور وراثت کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل وراثت کے 8 حصے کیے جائیں گے جس میں سے بھائی کو 2 حصے جبکہ ہر بہن کو ایک ،ایک حصہ ملے گا ،

    قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ :ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہےومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی