سوال
چند سال پہلے میں نےحج کے ارادے سے کمیٹی ڈالی تھی اور اس سال گورنمنٹ اسکیم کے تحت درخواست جمع کرائی تھی مگرکامیاب نہیں ہو سکا ،جبکہ میں پرائیویٹ حج کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ۔اب میرابیٹا مجھ سے کہتا ہے کہ اس رقم کو کاروبار میں لگاؤں ،اور وہ اپنے ماموں کے ساتھ ٹرانسپورٹ کا کام کرنا چاہتا ہے ،اس حولے دریافت طلب امر یہ ہے کہ میں حج کے لیئے رقم کو اگلے سال کے لیئے بینک میں رکھ دوں ،یا بیٹے کو کاروبار کے لیے دے دوں تا کہ اس کے روزگار میں اضافہ ہو اور اس کو نئی فیلڈ ملے؟
سائل :ندیم احمد :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
چونکہ آپ حج پر جانے کی استطاعت رکھتے ہیں جس کی وجہ سے آپ پر حج فرض ہو گیا ہے اور جہاں تک نام نہ نکلنےکامسئلہ ہے تو اس کی وجہ سے حج کی فرضیت ساقط نہیں ہوگی کیونکہ گورنمنٹ اسکیم میںنام نہ نکلناشرعا سلطان (حکومت)کی طرف سے حبس (یعنی روکنا )ہے جس کی وجہ سے اس سال آپ پر حج کی ادائیگی واجب نہیں ہے لیکن حج فرض ہی رہیگا لہذا اگلے سال آپ پر حج کی ادئیگی لازم ہو جائے گی ۔اور رہی ان پیسوں کو خرچ کرنے کی بات ہے تو اگر آپ اپنے بیٹے کو دیتےبھی ہیں پھربھی آپ پر حج فرض ہی رہے گا اور نہ کر نے یا جان بوجھ کے تاخیر کی صورت میں گنہگار ہونگے ،لہذا آپ کے لیئے بہتر یہ ہے کہ اس رقم کو اگلے سال کےلیئے چھوڑ دیں تاکہ آپ فریضہ حج ادا کر سکیں ۔
مناسک ملا علی قاری میں ہے:ومن لہ مال یبلغہ الی مکۃ ذھابا وایابا ،ولا مسکن لہ ولا خادم وھو محتاج الی کل منھما او احدھما ،فلیس لہ صرفہ الیہ ان حضر الوقت ای وقت خروج اہل بلدہ للحج ۔ترجمہ:جس شخص کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ مکہ جا اور آ سکے اور اس کے رہنے کے لیئے مکان یا خدمت کے لیئے بندہ نہ ہو جبکہ اس کو ان دونوں کی یا ایک کی ضرورت ہو تو (پھربھی )اس کے لیئے جائز نہیں ہے کہ وہ اس رقم کو خرچ کرے اگر وقت آگیا ہو یعنی اس کے شہر کے لوگوں کا حج کے لیئے نکلنے کا وقت آگیا ہو ۔(المناسک لعلی قاری باب شرائط الحج ،الشرط السادس،ص44)
اور اسی میں شرائط ادا کے بیان میں ص51 پر ہے :وحکمہا انہ لا یتوقف وجوب الحج علی وجودہا ،بل یتوقف وجوب ادائہا علیہا ۔ترجمہ: شرائط ادا کا حکم یہ ہے کہ حج کے وجوب کا حکم ان کے وجود پر موقوف نہیں ہے بلکہ ادائیگی کا وجوب ان پر موقوف ہے۔
اور ص 55پرشرط ثالث میں ہے:عدم الحبس بالفعل،والمنع ای باللسان من السلطان اللذی یمنع الناس من الخروج الی الحج :ترجمہ: اور تیسری شرط یہ ہے کہ اس بادشاہ کی طرف سے بالفعل یا زبان سے روکا نہ جائے جو لوگوں کو حج پر جانے سے روکتا رہتا ہے۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:14 رجب المرجب1440 ھ/22مارچ 2019ء