سوال
میری والد ہ صاحبہ ذہنی اور جسمانی مفلوج ہیں ان کی عمر تقریبا 90سال سے زائد ہے ان کا پاخانہ و پیشاب چار پائی پر ہی ہوتا ہے ،میری بیوی اپنی ہمت سے بڑھ کر ان کی خدمت کرتی ہیں،اور میری والدہ پوری رات جاگتی ہیں اوراونچی آواز سے اللہ تعالی کے مخصوص اسماء کا ذکر کرتی رہتی ہیں ،اور ان کی بیماری اور دماغی حالت کی وجہ سےان کے ساتھ ہی رہنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ساری رات جاگنا پڑتا ہے مگر نیند پوری نہ ہونے کے سبب بچے اور ہم بیزار رہتے ہیں اور اگر ان کوروکتے ہیں تو گناہ کا ڈر رہتا ہے تو اس مجبوری میں ہمارے لیئے کیا حکم ہے ۔
ہم عمرہ کرنے جانا چاہتے ہیں جبکہ میرا کوئی بھائی میری والدہ کو رکھنا نہیں چاہتے تو ہمارے لیئے کیا حکم ہے ؟ اور یہ بھی ارشاد فرمادیں کہ کیا مجھے اپنے بھائیوں کو والدہ کی خدمت کرنے کے لیئے کہنا چاہیئے یا نہیں ؟ ۔
سائل:محمد صفدر،لاہور۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جواب سے پہلے چند باتوں کو سمجھنا چاہیئے:
والدین سے حسن سلوک کو اسلام نے اپنی اساسی تعلیم قرار دیا ہے، اور ان کے ساتھ مطلوبہ سلوک بیان کرنے کے لئے‘‘احسان’’ کی جامع اصطلاح استعمال کی جس کے معانی کمال درجہ کا حسن سلوک ہے۔اسلام میں ہر مرد اور عورت پر اپنے ماں باپ کے حقوق ادا کرنا فرض ہے۔
یاد رہے!والدین کی خدمت و اطاعت اور تعظیم و تکریم عمر کے ہر حصے میں واجب ہے بوڑھے ہوں یا جوان، لیکن بڑھاپے کا ذکر خصوصیت سے ہے کہ اس عمر میں جاکر ماں باپ بھی بعض مرتبہ چڑچڑے ہوجاتے ہیں اور عقل و فہم بھی جواب دینے لگتی ہے اور انہیں طرح طرح کی بیماریاں بھی لاحق ہو جاتی ہیں۔ وہ خدمت کے محتاج ہوجاتے ہیں تو ان کی خواہشات و مطالبات بھی کچھ ایسے ہوجاتے ہیں جن کا پورا کرنا اولاد کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔
اس لئے قرآن حکیم میں والدین کی دلجوئی اور راحت رسانی کے احکام دینے کے ساتھ انسان کو اس کا زمانہ طفولیت (یعنی بچپن کا زمانہ) یاد دلایا کہ کسی وقت تم بھی اپنے والدین کے اس سے زیادہ محتاج تھے جس قدر آج وہ تمہارے محتاج ہیں تو جس طرح انہوں نے اپنی راحت و خواہشات کو اس وقت تم پر قربان کیا اور تمہاری بے عقلی کی باتوں کو پیار کے ساتھ برداشت کیا اب جبکہ ان پر محتاجی کا یہ وقت آیا تو عقل و شرافت کا تقاضا ہے کہ ان کے ان سابق احسان کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی خوب خدمت کرو۔جیساکہ اللہ سبحٰنہ و تعالی کاارشاد ہے۔
وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ جعِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلاً كَرِيمًاO وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًاّ (الاسراء:24،23)ترجمہ:اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں(اُف تک)نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دنوں نے مجھے چھٹپن(چھوٹی عمر) میں پالا۔
اسی طرح کئی احادیثِ مبارکہ میں بھی والدین کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
صحیح مسلم(کتاب البر و الصلة، باب رغم أنف من أدرک أبويه،ج: 4 ،ص: 1978، رقم : 2551،طبع:داراحیاءالتراث العربی،بیروت)میں ہےعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَغِمَ أَنْفُهُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهُ، قِيلَ مَنْ؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ، أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا، ثُمَّ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ۔ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :اس کی ناک غبار آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو (یعنی ذلیل و رسوا ہو) کسی نے عرض کیا :یا رسول اللہ! وہ کون ہے؟ حضور نے فرمایا کہ جس نے ماں باپ دونوں کو یا ایک کو بڑھاپے کے وقت میں پایا پھر (ان کی خدمت کر کے)جنت میں داخل نہ ہوا۔
اسی طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے والدین کی خدمت کرنے کو جہاد سے افضل قرار دیاصحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شریک جہاد ہونے کی اجازت لینے کے لئے حاضر ہوا، آپ نے اس سے دریافت کیا کیا تمہارے والدین ہیں؟ اس نے عرض کیا کہ جی زندہ ہیں آپ نے فرمایا فَفِيْھَا فَجَاِھد یعنی بس اب تم ماں باپ کی خدمت میں رہ کر جہاد کرو یعنی ان کی خدمت سے ہی جہاد کا ثواب مل جائے گا۔(صحیح بخاری،باب لایجاہد الا باذن الابوین،ج:8،ص:3، رقم : 2842،طبع:دار طوق النجاۃ)
ان باتوں کو جاننے کے بعد جواب ملاحظہ فرمائیں:
اس میں کوئی شک نہیں کہ عمرہ کرنا ایک بڑی عبادت اور کار ثواب ہے لیکن انسان پر عمرہ کرنا فرض نہیں ہے اگرکسی نے پوری زندگی میں ایک عمرہ بھی نہیں کیا تو گنہگار نہیں ہوگا ،لیکن !والدہ کی خدمت کرنا فرض ہے خصوصا بڑھاپے اور بیماری کی حالت میں اور اس کا ثواب یقینا عمرہ کی ادائیگی سے زیادہ ہے بلکہ محبت اور خلوص کے ساتھ والدین کے چہرے کے دیکھنے کا ثواب عمرہ نہیں بلکہ حج مبرور کے برابر ہے ۔
اور آپ کے بیان کے مطابق آپ کی والدہ کا خیال رکھنے والا آپ کے علاوہ کوئی نہیں ہے تو ایسی صورت میں والدہ کو چھوڑ کر جانا ان کی اذیت کا باعث ہوگا جو کہ گناہ کبیرہ ہے ،لہذاا ٓپ والدہ کی خدمت کرکے حج و عمرہ کا ثواب پاتے رہیں،فی الوقت عمرہ کی ادائیگی کو مؤخر کریں آئندہ اللہ تعالی آپ کو ان شاءاللہ عمرہ کی ادائیگی کے بہترین اسباب اور اچھا موقع عطاء فرمائے گا۔
اور رہی آپ کی یہ بات کہ‘‘والدہ کی خدمت کرنے کے لیئے بھائیوں کو کہنا چاہیئے یا نہیں’’تو شرعا آپ کہہ سکتے ہیں ،کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن یہ سعادت ہر کسی کو نہیں ملتی ، اللہ نےیہ سعادت آپ کو بخشی ہے لہذا آپ کوان معمولی تکالیف کے پیش نظر گھاٹے کا سودا نہیں کرنا چاہیئے ۔
مشکاۃ المصابیح (کتاب البر والصلۃ ،الفصل الثالث،ج:۳،ص:۱۳۸۳،رقم:۴۹۴۴،طبع:المکتب الاسلامی)میں ہے
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مامن وَلَدٍ بَارٍّ يَنْظُرُ إِلَى وَالِدَيْهِ نَظْرَةَ رَحْمَةٍ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ نَظْرَةٍ حَجَّةً مَبْرُورَةً» . قَالُوا: وَإِنْ نَظَرَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مرّة؟ قَالَ: «نعم الله أكبر وَأطيب»ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ بیشک رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ ‘‘نہیں ہے کوئی اپنے ماں باپ سے بھلائی کرنے والا لڑکا جو اپنے والدین کو ایک نظر رحمت سے دیکھےمگر الله اس کے لیے ہر نظر کی عوض مقبول حج لکھتا ہے عرض کیا کہ اگرچہ ہر دن سو بار دیکھے! فرمایا ہاں الله بہت بڑا اور بہت پاک ہے۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد
الجواب الصحیح :ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:29جمادی الاخری 1440 ھ/07مارچ 2019ء