جنازہ گاہ پر مدرسہ بنانا
    تاریخ: 1 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 12
    حوالہ: 317

    سوال

    ہمارا علاقہ جھنڈا پیچی راولپنڈی جو کہ کم و پیش اہل علاقہ کے پرانے لوگوں کے بقول چار سو سال پرانی آبادی ہے۔ اس کی مشرقی سائیڈ پر اتنا ہی پرانا قبرستان ہے جو کہ سرکاری اراضی شاملات دیہہ پر واقع ہے اس کا سرکاری پروف فوٹو کاپی ساتھ منسلک ہے۔ اس قبرستان کی مغربی سائیڈ پر ایک چھوٹی چار دیواری بنی ہوئی تھی جس پر لوگ نمازہ جنازہ پڑھتے تھے پھر اہل علاقہ نے تقریبا 2000 عیسوی میں دو منزلہ عمارت جنازہ پڑھنے کے لیے بنادی کچھ عرصہ پہلے 2017 عیسوی میں اس عمارت کے دوسرے پورشن پر مدرستہ المدینہ المنین بنایا جس میں تا حال کم و پیش 50 طالب علم حفظ قرآن کی سعادت پارہے ہیں جو کہ غیر رہائشی ہیں اب ضرورت ہوئی بچوں کے لیے درس نظامی کا مدرسہ بنانے کی تو اہل علاقہ نے اس عمارت کے اُو پر تیسرا پورشن بنایا جس میں چھوٹے بڑے 9 کمرے بنائے وضو خانہ واش روم وغیرہ تمام ضروریات مکمل کر کے اس میں اسی سال ماہ شوال 1445 ہجری میں درس نظامی سال اول کے داخلے ہوئے اور بفضل تعالی 25 طالب علم درس نظامی درجہ اولی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں یہ بھی سب غیر رہائشی ہیں اور یہ سب تعلیم فی سبیل اللہ ہے۔یہ سارا کام دین متین کی خدمت اور اہل قبرستان کے ایصال ثواب کے لیے کیا گیا ہے اہل محلہ کی گزارش ہے کہ یہ کام شریعت کے خلاف تو نہیں ہوا شرعا یہ درست ہے کیا اہل علاقہ و معاونین ثواب کے مستحق ہیں؟

    سائل: اہل علاقہ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں مذکورہ اراضی کا واقف معلوم نہیں لیکن عوام الناس میں اس اراضی کا وقف ہونا مشہور ہے تو یہ شہرت ہی اس اراضی کے موقوفہ اراضی ہونے کے لیے کافی ہے ،اس میں وقف کے احکام جاری ہوں گے ۔جواراضی جس مقصد کے لیے وقف کی جائے اسے اسی مقصد کےتحت استعمال کرنا چاہیے کہ اس میں کسی قسم کی تغیر و تبدل جائز نہیں مگر کسی ضرورت دینی کی وجہ سے اسمیں اضافہ جس سے وقف کا مقصد اصلی نہ فوت ہوتا ہو نا ہی اس کی وجہ سے کوئی خرابی و نقصان لازم آ رہا ہو تو اس کی گنجائش موجود ہے ۔

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ :اگر وہ زمین بنام وقف مشہور ہوتو بلا شبہ وقف ہے کہ وقف شہرت سے ثابت ہوجاتا ہے اگرچہ پتا نہ چلے کہ کب اور کس نے وقف کیا جیسے قدیم مساجد کہ بلاشبہ وقف ہیں اگرچہ نہیں بتاسکتے کہ کس نے کب بنائیں، درمختار میں ہے: تقبل فیہ الشھادۃ بالشھرۃ(ملخصاً)ترجمہ: وقف میں شہرت کی بنیاد پر شہادت مقبول ہے(ملخصاً)۔(فتاوی رضویہ،کتاب الوقف ، جلد: 14،صفحہ:476 ،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”مسجد قدیم لبِ مقبرہ واقع ہے، یہ بیرون حدودمقبرہ ستون قائم کر کے اوپر کافی بلندی پر پاٹ کر چھت کو صحن مسجد سابق سے ملا کر مسجد کردینا چاہتا ہے، اس طرح کہ زمین مقبرہ نہ رکے، نہ اس میں دفن مَوتٰی کرنے اور اس کی غرض سے لوگوں کے آنے جانے کی راہ رکے ،نہ اس چھت کے ستون قبور مسلمین پر واقع ہوں، بلکہ حدود مقبرہ سے باہر ہوں کہ اس میں حرج نہیں، جبکہ وہ زمین جس میں ستون قائم کیے گئے، متعلق مسجد ہو اور کاروائی اہل محلہ کی یا ان کے اذن سے ہو یا وہ زمین اس بانی سقف یا کسی دوسرے مسلمان کی ملک ہو اور مالک اسے ہر کام کے لیے وقف کردے یا وہ زمین افتادہ بیت المال کی ہو اور اس میں اس کاروائی سے مسلمانوں کے راستے وغیرہ کو ضرر نہ ہو کہ ان حالتوں میں اس نے کوئی بے جا تصرف نہ کیا، نہ وقف کو روکا، نہ اس کی زمین کو کسی دوسرے کام میں صرف کیاصرف بلائی ہوامیں کہ نہ موقوف تھی، نہ مملوک، ایک تصرفِ غیر مضرنفع مسلمین کے لیےکیا ۔

    ہندیہ میں حق عام کی شے پاٹ کر اس پر مسجد اس طرح بنانے کا جس سے ان حقوق کو ضرر نہ پہنچے جزئیہ یہ ہے: "فی نوادر ھشام سألت محمد الحسن عن نھر قریۃ کثیرۃ الأھل لا یحصی عددھم و ھو نھر قناۃ أو نھر واد لھم خاصۃ، و أراد قوم أن یعمروا بعض ھٰذا النھر و یبنوا علیہ مسجدا و لا یضر ذٰلک بالنھر و لا یتعرض لھم أحد من أھل النھر، قال محمد رحمہ اللہ تعالیٰ یسعھم أن یبنوا ذٰلک المسجد للعامۃ أو المحلۃ کذا فی المحیط" ہشام نے نوادر میں کہا کہ میں نے امام محمد بن حسن رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے دریافت کیا: ایک کثیر آبادی والے قصبہ میں ایک نہر ہے، جو کہ جنگل یا پہاڑ کے نالے کی صورت میں ہے اور وہ خاص انہی لوگوں کی ہے، اب کچھ لوگوں کا ارادہ ہوا کہ وہ نہر کے کچھ حصہ پر تعمیر کر کے مسجد بنا دیں، اس سے نہ تو نہر کو کوئی نقصان ہے اور نہ ہی نہر والوں میں سے کسی کو کوئی اعتراض ہے؟ تو امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ان لوگوں کو ایسی مسجد بنانے کا اختیار ہے، چاہے وہ مسجد اہل محلہ کے لیے بنائیں یا عام لوگوں کے لیے، جیسا کہ محیط میں ہے۔

    اور یہیں سے ظاہر ہو گیا کہ وہ سقف بھی مسجد ہو جائے گی اور اس میں نمازی کو ثواب مسجد ملے گا اور اس کے نیچے قبریں ہونا اس بنا پر کہ ہمارے علماء نے قبروں کے سطحِ بالائی کو حقِ میت لکھا ہے اور مسجد کا جمیع جہات میں حقوق العباد سے منقطع ہونا لازم ہے، ہر گز مانع مسجدیت نہ ہو گا کہ اس حق سے مراد کسی کی ملک یا وہ حق مالکانہ ہے، جس کے سبب وہ اس مسجد میں تصرف سے مانع آ سکے کہ جب ایسا ہو گا تو وہ خالص لوجہ اللہ نہ ہوئی، اور مسجد کا خالص لوجہ اللہ ہونا ضرور ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ ،16-303-305،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی (المتوفی:1422ھ) فرماتے ہیں:’’وقفی قبرستان مسلمانوں کے مردوں کو دفن کے لئے موقوف ہوتا ہے۔ لہذا اس کے کسی حصہ کو مدرسہ بنا دینا سخت نا جائز و حرام ہے اس لئے کہ یہ ابطال غرض وقف ہے اور وہ ہر گز جائز نہیں... البتہ اگر قبرستان کی حدود سے باہر ستون قائم کریں اور اس کی چھت اتنی بلندی پر ڈھالیں کہ اس میں دفن کی غرض سے لوگوں کے آنے جانے میں رکاوٹ نہ ہو اور نہ قبرستان کی زمین کا کچھ حصہ ستون کے قائم کرنے میں لیں تو اس صورت میں اس کی چھت پر مدرسہ اور دکانیں بنا سکتے ہیں ورنہ نہیں ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد ششم ص ۳۹۹ پر ہے اور قبرستان میں ہر وہ بات جائز نہیں جو اس کے وقف کی غرض کے خلاف ہو یا مردہ کی اذیت کا سبب ہو‘‘۔(فتاوی فیض رسول،3/374،شبیر برادرز لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمديونس انس القادري

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:06رجب المرجب 1444 ھ/18جنوری 2024ھ