سوال
میری بیٹی اصفیاء حسین کی شادی کو تین سال ہونے والے ہیں ۔لڑکے کا نام امان خان ہے دو سال سے میری بیٹی اور داماد کی لڑائی چل رہی ہے گھریلو ناچاقی ہے شوہرشراب پیتا ہے ، گالیاں دیتا ہے اور اب ہاتھ بھی اٹھانے لگا ہے ۔ 20 اکتوبر 2003 کو اسکی 11 مہینے کی بیٹی کا انتقال ہوا ہے۔ اور اب یہ پھرسے امید سے ہے۔ پانچواں مہینہ چلا رہا ہے ۔ اب آپ میر ی رہنمائی فرمائیں کہ ایسی صورت میں اس کی طلاق یا خلع ہو سکتی ہے آپ مجھے شریعت کے حساب سے جواب دیں تا کہ قانونی کاروائی شروع کروائیں کیونکہ ہم یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ اب علحیدگی ہو جائے ؟
سائلہ: ثمینہ بیگم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شوہربیوی کو کسی بھی حالت میں طلاق دے ،طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ لہذا اگر شوہر حمل کی حالت میں طلاق دے ،یا آپ لوگ اس سے شرعی خلع لیں تو وہواقع ہو جائے گی۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حاملہ عورتوں کی عدت بیان کی ہے،اور طلاق کی عدت اسی کی ہوتی ہے جو مطلقہہو،لہذا حالت حمل میں بھی طلاق واقعہو جاتی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ۔ترجمہ کنزالایمان: اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں۔( الطلاق:4)
سنن کبری للبیہقی میں ہے:عن أم كلثوم بنت عقبة أنها كانت تحت الزبير فطلقها وهي حامل فذهب الى المسجد فجاء وقد وضعت ما في بطنها فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر له ما صنع فقال: بلغ الكتاب أجله ترجمہ:حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ وہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں ،انہوں نے حمل کی حالت میں انہیں طلاق دے دی ۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ مسجد نبوی کی طرف آرہے تھے ،وہ مسجد میں پہنچے ، تو ام کلثوم نے اپنے پیٹ میں موجود بچے کو پیدا کیا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اپنامعاملہ عرض کیا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کتاب اپنی مدت کو پہنچ گئی۔یعنی قرآن میں حاملہ کی عدت وضع ِ حمل ہے ،تو وہ عدت پوری ہوگئی۔ (سنن کبری للبیهقی،باب عدۃ الحامل المطلقۃ،جلد3،صفحہ154،مطبوعہ کراچی )
یاد رہے خلع نام ہے ملک نکاح کو کسی چیز (مال)کے ذریعے ختم کرنے کا جبکہ اس میں خلع کے الفاظ بھی ہوں۔چناچہ عالمگیری میں ہے:الخلع ازالۃ ملک النکاح ببدل بلفظ الخلع کذا فی فتح القدیر ۔ترجمہ:لفظ خلع کے ساتھ ملک نکاح کو کسی چیز کے عوض ختم کرنے کا نام خلع ہے۔(عالمگیری ،کتاب الطلاق الباب الثامن فی الخلع وما فی حکمہ ج1ص 519)
پھر فتح القدیر میں ہے:وفی الشرع اخذہ المال بازاء ملک النکاح ۔ترجمہ: شریعت میں خلع ملک نکاح ختم کرنے کے بدلے مال لینا ہے ۔( فتح القدیر کتاب الطلاق باب الخلع ج 4ص 188)
خلع کے لیے شوہر کا رضامند ہونا اور اسکا خلع کی ڈگری پر دستخط کرنا ضروری ہے ،آج کل عوام نے جو خلع کے معنیٰ سمجھے ہیں کہ عورت اگر مال دے دے تو بہر حال طلاق واقع ہوجاوے گی خواہ مرد طلاق دے یا نہ دے، یہ غلط ہے۔سیدی اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:خلع شرع میں اسے کہتے ہیں کہ شوہر برضائے خود مہر وغیرہ مال کے عوض عورت کو نکاح سے جدا کردے تنہا زوجہ کے کئیے نہیں ہوسکتا۔(فتاوی رضویہ ج13 ص 264رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمديونس انس القادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:03رمضان المبارک 1444 ھ/14مارچ 2024ھ