سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ:
میرے پاس ساڑھے سات تولہ سونا تھا ،اب میں نے اپنا بڑا سیٹ صرف اپنے چاروں بچوں کے نام کردیا ہے ان کو دیا نہیں ہے ،توفی الوقت میرے پاس چھ تولہ سونا ہے ،اس کے علاوہ میرے پاس کوئی کیش نہیں ہے ،میرے شوہر مجھے ہر ماہ 1000روپے دیتے ہیں جو کبھی خرچ ہو جاتے ہیں اور کبھی بچ جاتے ہیں اور باقی گھر کا خرچہ وہ خود چلاتے ہیں تو کیا مجھ پر زکوۃ واجب ہوگی ٍ؟اور قربانی کا کیا حکم ہوگا ؟
بعض کہتے ہیں کہ آپ کے پاس 5جوڑوں سے زیادہ پہنے کے جوڑے ہوں تو قربانی میں اس کا حساب ہوگا !میں نے شادی اور ولیمہ کا شرارہ تو مستحق کو دے دیا ہے ،اس کے علاوہ جہیز کا کے دو ڈنر سیٹ ہیں ،ایک کا استعمال زیادہ ہوتا ہے اور ایک کا کم ،باقی میرے پاس بارہ ، تیرہ جوڑے ہیں جو آنے جانے میں پہنے کے لیئے ہیں اس کے علاوہ بھائی کی شادی میں امی نے دو بھاری جوڑے سلواکے دیئے تھے ۔
براہ مہربانی مجھے بتائیں میرے لیئے زکوۃ اور قربانی کا کیا حکم ہے ۔
سائلہ:شازیہ ،کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جواب سے پہلے چند باتوں کو جاننا چاہیئے :
(1)شرعاصرف نام کر دینےسے ملکیت ٹرانسفر نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے گفٹ کرنے کے ساتھ قبضہ دینا اور موہوب لہ(جس کو گفٹ دیا گیااس)اگر بالغ ہے تو اس کا قبضہ کرنا بھی ضروری ہے اور اگر نابالغ ہے تو والد کا قبضہ بچے کا قبضہ شمار ہوگا ،اسی طرح اگر وہ ایسی چیز ہے جو قابل تقسیم ہے تو اس کو تقسیم کر کے قبضہ بھی دینا۔
تنویرالابصار مع الدرالمختار( کتاب الھبہ جلد: 5،ص:688،طبع: دارالفکر،بیروت)میں ہےوَ شَرَائِطُ صِحَّتِهَا فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ۔۔۔۔۔ وَتَتِمُّ الْهِبَةُ بِالْقَبْضِ الْكَامِلِ وَلَوْ الْمَوْهُوبُ شَاغِلًا لِمِلْكِ الْوَاهِبِ لَا مَشْغُولًا بِهِ وَالْأَصْلُ أَنَّ الْمَوْهُوبَ إنْ مَشْغُولًا بِمِلْكِ الْوَاهِبِ مُنِعَ تَمَامَهَا۔ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ) کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو۔۔۔۔۔اورہبہ قبضہ کامل کے ساتھ مکمل ہو جاتا ہے ،اور اگر موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)گفٹ کرنے والے کی ملک میں استعمال ہورہا ہو ،نہ کہ وہ خود اس میں مشغول ہو ،قاعدہ یہ کہ اگر موہوب ( گفٹ کی گئی چیز) گفٹ کرنے والے کی ملک میں استعمال ہورہی ہوتو ہبہ تمام نہیں ہوگا۔
(2)سونے کا نصاب بیس مثقال (ساڑھے سات تولہ ،تقریباً87 گرام، 48ملی گرام)ہےاور چاندی کا نصاب دوسو درہم (ساڑھے باون تولہ،تقریباً 612گرام ،41ملی گرام)ہے۔
سنن ابی داؤد (کتاب الزکوۃ باب زکاۃ السائمۃ ج 1ص143حدیث نمبر1573)عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَإِذَا كَانَتْ لَكَ مِائَتَا دِرْهَمٍ، وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ، فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ فَإِذَا كَانَ لَكَ عِشْرُونَ دِينَارًا، وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ، فَفِيهَا نِصْفُ دِينَارٍ، فَمَا زَادَ، فَبِحِسَابِ ذَلِكَ»حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہارے پاس دو سو درہم ہوجائیں اور ان پر سال گزر جائے تو ان میں سے پانچ درہم زکوۃ ہے اور جب تمہارے پاس بیس دینار ہوجائیں اور ان پر سال گزر جائے تو ان میں سےنصف دینار زکوۃ ہے۔
تنویرالابصار مع الدر المخا ر(کتاب الزکوۃ ،باب الاموال ،ج:2 ،ص:295)میں ہے‘‘نِصَابُ الذَّهَبِ عِشْرُونَ مِثْقَالًا وَالْفِضَّةِ مِائَتَا دِرْهَمٍ’’ ترجمہ:سونے کا نصاب بیس مثقال (ساڑھے سات تولہ )ہے اور چاندی کا نصاب دوسو درہم (ساڑھے باون تولہ)ہے۔
(3)اگر کسی کے پاس صرف سونا ہے اور اس کے علاوہ کچھ چاندی یا پیسہ یا مال تجارت ہے تو ان کو ملایا جائے گا اور وہ سب ملاکے ادنی نصاب(فی زمانہ چاندی کا نصاب ہےاگر اس) کو پہنچے تو زکاۃ واجب ہوگی ۔
یاد رہے! اگر صرف دس روپے بھی اضافی ہوں تو بھی ان کو ملایا جائےگا۔
تنویرالابصار مع الدرالمختار(کتاب الزکوۃ ،باب الاموال: ۲،ص:۳۰۳،طبع: دارالفکر،بیروت)میں ملتطاًہےوَ يُضَمُّ الذَّهَبُ إلَى الْفِضَّةِ وَعَكْسُهُ بِجَامِعِ الثَّمَنِيَّةِ قِيمَةً۔ترجمہ:اور سونے کو چاندی ساتھ اور چاندی کو سونے کےساتھ ملایا جائے گاایسی چیز کے ساتھ جو قیمت کے اعتبار سے ثمنیت کو جمع کرنے والی ہو۔
اس کے تحت علامہ شامی فرماتے ہیں :
مَا ذُكِرَ مِنْ وُجُوبِ الضَّمِّ إذَا لَمْ يَكُنْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نِصَابًا بِأَنْ كَانَ أَقَلَّ، فَلَوْ كَانَ كُلٌّ مِنْهَا نِصَابًا تَامًّا بِدُونِ زِيَادَةٍ لَا يَجِبُ ۔کتب فقہ میں جو دو نصابوں کو جمع کرنے کی وجوب کا ذکر ہے وہ اس صورت میں ہے کہ جب کوئی بھی نصاب پورا نہ ہوبلکہ کم ہو ،پس اگر ہر نصاب کچھ ملائے بغیر پورا ہو تو ملانا واجب نہیں ہے ۔
(4)اور نصاب کے پورا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سال کی شروع اور آخر کا اعتبار کیا جائے گا اگرچہ سال کے بیچ میں پیسے نصاب سے کم بھی ہو۔ تنویرالابصار مع الدرالمختار(کتاب الزکوۃ ،باب الاموال: ۲،ص:۳۰۳،طبع: دارالفکر،بیروت)میں ہے
وَشَرْطُ كَمَالِ النِّصَابِ فِي طَرَفَيْ الْحَوْلِ فِي الِابْتِدَاءِ لِلِانْعِقَادِ وَفِي الِانْتِهَاءِ لِلْوُجُوبِ فَلَا يَضُرُّ نُقْصَانُهُ بَيْنَهُمَا. ترجمہ:اور نصاب کا پورا ہونا سال کے ابداء اور انتہاء میں شرط ہے ،ابتداء میں نصاب کےانعقاد کے لیئے اور انتہاء میں زکاۃ کےوجوب کے لیئے،لہذا بیچ میں کم بھی ہو جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔
ان باتوں کو جاننے کے بعد جواب ملاحظہ فر مائیں:
آپ نے جو سیٹ اپنے چار بچوں کے نام کردینا در اصل گفٹ کرنا ہے اورصرف نام کر دینےسے شرعا ملکیت ٹانسفر نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیئے گفٹ
کرنے کے ساتھ قبضہ دینا اور موہوب (جس کو قبضہ دیا گیااس)کا قبضہ کرنا بھی ضروری ہے ،جبکہ یہاں آپ نے قبضہ نہیں دیا کیوں کہ آپ نےپورا سیٹ گفٹ کے طور پرصرف نام کردیا ہےلیکن اس میں جو جو زیورات ہیں ان میں ہر ایک کا کتنا حصہ ہے ؟یہ نہیں بتایا گیا،جس کی وجہ سے گفٹ کرنا صحیح نہیں ہوا ،لہذا وہ سونا ابھی تک آپ کی ملکیت ہے پس اگر اس پر سال گزر گیا ہے تو اس سال کی زکوۃ کی ادئیگی لازم ہوگی ۔
اس کے بعد اگر آپ وہ سیٹ بچوں شرعی طور پر گفٹ کرتی ہیں تو آپ کا سونا نصاب سے کم ہو جائےگا لہذا آپ پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی ،لیکن اگر آ پ کے پاس کچھ پیسے بچ جاتے ہیں اور اس پر سال بھی گزر جاتا ہے تو اس پر زکوٰۃ کی ادئیگی لازم ہوجائے گی ۔فرض کریں کہ یکم رجب کو آپ کے پاس سو روپے اضافی بچ گئے اور اگلے مہینے پچاس بچے اور اس سے اگلے مہینے دس بچے لیکن ختم نہیں ہوئے اگلےسال کے رجب تک تو وہ پیسے چاہے پانچ روپے کیوں نہ ہو ملایا جائے گا ،اگر بیچ میں کچھ بھی نہیں بچا تو نصاب ختم ہوجائے گا لہذا اس صورت میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی ۔
اور جہاں تک بات ہے قربانی کی تو قربانی کرنا آپ پر لازم ہے ،کیوں کہ آپ کے پاس قربانی کا نصاب مکمل ہے ۔اور یہ بات درست ہے کہ سردی و گرمی کے تین کپڑوں کے علاوہ جتنے ہوں انکی قیمت کو نصاب میں شامل کیا جائے گا۔
المبسوط للسرخسی (کتاب الصوم ،باب صدقۃ الفطر،ج:۳،ص:۱۰۲،طبع:دارالمعرفۃ ،بیروت)میں ہےثُمَّ الْيَسَارُ الْمُعْتَبَرُ لِإِيجَابِ زَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ يَمْلِكَ مِائَتِي دِرْهَمٍ فَضْلًا عَنْ حَاجَتِهِ وَيَتَعَلَّقُ بِهَذَا الْيَسَارِ أَحْكَامٌ ثَلَاثَةٌ حُرْمَةُ أَخْذِ الصَّدَقَةِ وَوُجُوبُ زَكَاةِ الْفِطْرِ وَالْأُضْحِيَّةُ.ترجمہ:پھر وہ تونگری جو صدقہ فطر کے وجوب میں معتبر ہے وہ یہ کہ دو سو درہم کا مالک ہونا جو حاجت اصلیہ (یعنی ایک مہینے کے کھانے پینے کے اخرجات ،اور سردی ،گرمی کے دو ،دوسوٹ اور سواری کی گاڑی وغیرہ )سے خالی ہوں ۔اور کسی کے پاس اس قدر مالیت ہوتو اس کے لیئے تین طرح کے احکام ثابت ہونگے ۔۱:صدقہ لینے کی حرمت ،۲:صدقہ فطر کی ادائیگی کا وجوب،۳:قربانی کا وجوب۔
فتاوی قاضی خان (کتاب الصوم ،فصل فی صدقہ الفطر ،ج:۱،ص:۲۰۰،طبع:قدیمی کتب خانہ)میں ہےالغنی اللذی ہو شرط لوجوب صدقۃ الفطر ان یملک نصابا او مالا قیمتہ قیمۃ نصاب فاضلا عن مسکنہ و ثیاب بدنہ و اثاثہ و فرسہ و سلاحہ ، وما زاد علی الدارالواحدۃ والد ستجات الثلثۃ من الثیاب یعتبر فی الغناء۔ترجمہ:وہ تونگری جو صدقہ فطر کے وجوب کے لیئے شرط ہے وہ یہ کہ بندہ نصاب یا نصاب کی قیمت کا مالک ہو ،جو کہ اس کے رہنے کے مکان ،بدن کے کپڑے ،گھر کے ضروری سامان ،سواری کا گھوڑا(فی زمانہ گاڑی وغیرہ)اور حفاظت کا اسلحہ وغیرہ سے فاضل ہو ،اور جو ایک گھر اور تین جوڑے لباس سے زائد ہوں تو وہ غناء میں شمار ہوں گے ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:13رجب المرجب1440 ھ/21مارچ 2019ء