سوال
میں جس ادارے میں کام کرتا ہوں اس میں تقریبا 400افراد کا عملہ موجود ہے ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن کو ادارے کی طرف سے ملنے والی تنخواہ 15سے 25 ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ نہیں ہوتی ۔اور ان میں سے بعض مزدور ایسے ہیں جو Contractپر کام کرتے ہیں اسی لیئے اگر وہ ایک دن کی بھی چھٹی کرینگے تو ان کی تنخواہ کاٹ دی جائے گی ۔فی زمانہ اتنے پیسوں میں گھر چلانا کافی مشکل نظر آتاہے تا ہم یہ لوگ بھیک مانگنے کے بجائے محنت کر کے گزارہ کرتے ہیں ۔
اس حوالے سے چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں ۔
(1)ان لوگوں میں سے بعض ہم سےمدد یا قرض کا مطالبہ کر تے ہیں اور ان میں سے بعض سے قرضہ کی واپسی کی کوئی امید نہیں ہو تی ؛ تو کیا اس رقم کو زکوۃ کی مد میں شامل کر سکتے ہیں ؟عام طور پر یہ رقم 5سے 10ہزار تک ہو تی ہےاور کئی ملازم ہم سے اس طرح کی مدد کی توقع رکھتے ہیں اور ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ صاحب نصاب ہیں یا نہیں ۔
(2) کیا چند ایک ملازم کو ہر مہینے مدد کی نیت سے زکوۃ کا پیسہ دیا کریں ؛شرعا ایسا کرنا جائز ہوگا ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جواب سے قبل زکوۃ کے چند مسائل کو جاننا چاہیئے ۔
(۱)زکوۃ کی ادا ئیگی کے لیئے نیت کا ہونا ضروری ہےبغیر زکوۃ کی نیت جو کچھ دیا جائیگا اس سے زکوۃ کی اد ئیگی نہیں ہوگی اورنیت یا تو فقیر کو دیتے ہوئے یا پھر زکوۃ کا مال الگ کر تے ہوئے کیا جائے۔
بدائع الصنائع (کتاب الزکاۃ ،فصل شرائط رکن الزکاۃ ،ج:۳،ص:۴۰،طبع:دار الکتب العلمیہ )میں ہے:أَنَّ النِّيَّةَ شَرْطُ جَوَازِ أَدَاءِ الزَّكَاةِ فَالدَّلِيلُ عَلَيْهِ قَوْلُهُ: - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «لَا عَمَلَ لِمَنْ لَا نِيَّةَ لَهُ» وَقَوْلُهُ «إنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ» ؛ وَلِأَنَّ الزَّكَاةَ عِبَادَةٌ مَقْصُودَةٌ فَلَا تَتَأَدَّى بِدُونِ النِّيَّةِ كَالصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ.ترجمہ:بلا شبہ نیت زکوۃ کی اد ئیگی کے لیئے شرط ہے اور اس پر دلیل حضور علیہ الصلاۃ والتسلیم کےیہ احادیث ہیں کہ "جس کی نیت نہ ہو اسکا کوئی عمل نہیں ہے "اور دوسری حدیث میں ہے کہ "بیشک اعمال (کے ثواب) کا دارومدار نیت پر ہے ؛اور اس لیئے بھی (زکوۃ کی ادائیگی کے لیئے نیت شرط ہے )کہ زکوۃ عبادت مقصودہ ہے اور عبادۃ مقصودہ بغیر نیت کے ادا نہیں ہوتی جیسے نماز اور روزہ ۔
(۲)زکوۃ کے مصارف (یعنی وہ لوگ جن کو زکوۃ دیا جاسکتا ہےان کی تعداد )کو اللہ تعا لی نے قرآن مجید میں واضح کر دیا ہے لہذا ان کے علاوہ کو زکوۃ نہیں دیا جاسکتا۔اللہ تَعَالَى کا فرمان ہے : إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ [التوبة: 60] ترجمہ: زکوٰۃ تو انہیں لوگوں کے لئے ہے محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصیل کرکے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنیں چھوڑانے میں اور قرضداروں کو اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو، یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔
بدائع الصنائع (کتاب الزکاۃ ،فصل شرائط رکن الزکاۃ ،ج:۳،ص:۴۳،طبع:دار الکتب العلمیہ )میں ہے"الْفَقِيرُ الَّذِي يَمْلِكُ شَيْئًا يَقُوتُهُ وَالْمِسْكِينُ الَّذِي لَا شَيْءَ لَهُ"ترجمہ:فقیر وہ ہے جس کے پاس اتنا ہو جس سے گزارہ ہو سکے (یعنی نصاب سے کم ہو ) اور مسکین وہ ہےجس کے پاس کچھ بھی نہ ہو ۔
خلاصہ:
ان مسائل کو سمجھنے کے بعد جواب ملاحظہ فرمائیں:
(1)جی ہاں چند شرائط کے ساتھ کے ساتھ دےسکتے ہیں ؛
- رقم دیتے وقت زکوۃ کی نیت ہو،البتہ دینے والے کو بتا نا ضروری نہیں ہے ۔
- کسی بھی ملازم زکوۃ دینے سے پہلے اس کے بارے میں یہ اطمینان کر لیں کہ وہ مستحق ہے یعنی اس کے پاس ضروری خرچہ جات کے علاوہ ساڑھے باون تولہ(261گرام،4ملی گرام)چاندی کی قیمت یا اس کی مالیت نہ ہو۔
- زکوۃ دیتے وقت آپ کی یہ نیت نہ ہو کہ یہ خوش ہو کر زیادہ اچھا کام کریں یا ہمیشہ میرے پاس ہی رہیں وغیرہ بلکہ اللہ کی رضا ء اور صلہ رحمی کی نیت ہو ۔
- زکوۃ کی مد میں دی جانے والی رقم اس کی تنخواہ کے علاوہ ہو اورتنخواہ اس کو پوری ملنی چاہیئے ۔
اگر یہ شرائط نہیں پائے جائیں تو آپ ہر گزنہیں دے سکتے لہذاملازمین کوزکوۃدیتے وقت ان شرائط کا خوب خیال رکھا جائے ۔
(2)جی اوپر ذکر کئے گئےشرائط کے ساتھ کر سکتے ہیں لیکن دنیا میں اور بھی ضرورت مند موجود ہیں لہذا آپ زکوۃ ادا کر تے وقت زیادہ ضرورت مند کا خیال رکھیں ۔
واللہ تعالی اعلم باالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی
تاریخ اجراء:2محرم الحرام 1440 ھ/13ستمبر 2018 ء