کمیشن /بروکری کی شرعی حیثیت
    تاریخ: 1 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 16
    حوالہ: 319

    سوال

    میرا اسٹیٹ ایجنسی کا کام ہے،مجھے بروکری اور ٹاپ لگانے کے حوالے سے پوچھنا ہے کہ یہ جائز ہے۔نیز ہمیں اس حوالے سے کیا کیا احتیاطیں کرنی چاہئیں؟۔برائے کرم جواب ارشاد فرما دیں!

    سائل:عارف عطاری /ویسٹ گارڈن


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بروکر(دلال)کی اجرت کوضرورت کے پیش ِنظر فقہائے کرام نے چند شرائط کے ساتھ جائز قرار دیا ہے،اس سے حاصل ہو نے والی کمائی حلال اور طیب ہے۔

    شرائط و ہدایات:

    1:۔بروکر عملی طور پر (physically) بھاگ دوڑ کرے،محض صلاح و مشورہدے دینا ناکافی ہے۔

    2:۔بروکری(commission) عقد سے پہلے متعین کی جائے،مثلاً بروکر مالک ِ مکان کو کہے کہ اس مکان کو بکوانے کے میں اتنے روپے یا اتنے فیصد لوگوں لوں گا ۔اور اگراجرت متعین نہیں کی تو پھر اجرتِ مثل (اس طرح کا کام کرنے والوں کو جو اجرت ملتی ہے)لے گا ۔

    3:۔اگر کسی جگہدونوں جانب (بائع و مشتری )سے بروکری لینے کا رواج ہو تو دونوں جانب سے بروکری لے سکتے ہیں لیکن اس میں ضروری ہے کہ بھاگ دوڑ بھی دونوں جانب سے ہو ۔لہذا دونوں فریقوں کوملانے میں کردار ادا کیا تودونوں طرف سے کمیشن لے سکتا ہے۔اگرصرف ایک کا ایجنٹ بن کر معاملات کیے ہیں تو جس کا ایجنٹ بنا،صرف اسی سے لے سکتا ہے دوسرے سے نہیں ۔

    4:۔ بروکری امانت کامعاملہ ہے،اس لیے بروکر کو صداقت وامانت اور خیرخواہی سے کام کرنا چاہیے۔نیز جھوٹ اور دھوکہ دہی بچنا لازم ہے ۔بعض اوقات بروکر اپنے مفادات کی خاطر جھوٹ بولتے ہیں ،زیادہ نفع کی خاطر معاہدہ توڑ دیتے ہیں ، جو کہ سودے میں بے برکتی کاسبب بنتا ہے ،اور سخت گناہ ،عذاب جہنم کی طرف لے جانے والاکام ہے۔

    5:۔اپنے کام کے حوالے سے وقتًا فوقتًا شرعی معلومات لیتے رہیں تا کہ آپ کا معاشہر طرح کے حرام سے پاک رہے،نیز قانونی معلومات بھی ہونی چاہیے کہ اس طرح کاکام قانونی معلومات کے بغیر کرناخطرے سے خالی نہیں۔

    6:۔بروکری میں ٹاپ کی صورت بھی ناجائز ہے ،جس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ مثلاً بروکر مالک سے کہتا ہے کہ آپ کا مکان نوے لاکھ کابک رہا ہے جبکہ خریدار سے کہتا ہے یہ مکان ایک کروڑ کا ہے۔ یوں ایک کروڑ کا بیچ کر نوے لاکھ مالککو دیتا ہے اور بقیہ دس لاکھ روپے خود رکھتا ہے،نیز کمیشن الگ سے لیتا ہے ۔اس کے لیے کمیشن کے علاوہ دس لاکھ لیناناجائز و حرام ہے ۔

    7:۔ مالک بروکر سے کہتا ہے کہ آپ میری پراپرٹی جتنے میں چاہیں فروخت کریں مجھے بس اتنے روپے دے دیجیے گا ۔مطلوبہ فگر سے جتنے زیادہ ہوئے وہ آپ کےہوں گے ۔مثلاً مالک کہتا ہےکہ میری یہ دکان بیچ دو،مجھےستر لاکھ دے دینا ،اس سے اوپر جتنے ہوئے وہ آپ کے ہوں گے ۔بعض اہل علم نے اس صورت کو ناجائز قراردیا ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ اجرت کا متعین ہونا ضروری ہے جبکہ یہاں پر اجرت کی تعییننہیں ہے۔

    صحیح یہ ہے کہ اگر اس میںجھوٹ اور دھوکہ نہ ہو تو جائزہے ۔اس لیے کہ اس پر عرف جاری ہو چکا ہے ،جس سے روکنا ناممکن ہے،نیزاجرت کی تعیین اگرچہ ابتداءً نہیں لیکن انتہاءً ضرور پائی جا رہی ہے ،اور اجرت میں جہالت بھی ایسی نہیں کہ جونزاع(جھگڑے )کا باعث بنتی ہو اورفساد میں اعتبار اس جہالت کا ہے جو مفضیالی النزاع ہو۔

    دلائل و جزئیات :

    شامی میں ہے:وَفِي الدَّلَّالِ وَالسِّمْسَارِ يَجِبُ أَجْرُ الْمِثْلِ، وَمَا تَوَاضَعُوا عَلَيْهِ أَنَّ فِي كُلِّ عَشَرَةِ دَنَانِيرَ كَذَا فَذَاكَ حَرَامٌ عَلَيْهِمْ. وَفِي الْحَاوِي: سُئِلَ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أُجْرَةِ السِّمْسَارِ، فَقَالَ: أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ وَإِنْ كَانَ فِي الْأَصْلِ فَاسِدًا لِكَثْرَةِ التَّعَامُلِ وَكَثِيرٌ مِنْ هَذَا غَيْرُ جَائِزٍ، فَجَوَّزُوهُ لِحَاجَةِ النَّاسِ إلَيْهِ كَدُخُولِ الْحَمَّامِ ترجمہ:دلال و سمسار کے مسئلہ میں اجرت مثل لازم ہو گی،اور جو لوگ اس بات پر متفق ہو گئے کہ ہر دس دینار میں اتنا اتنا ہے ،تو یہ ان پر حرام ہے ۔حاوی میں ہے :امام محمد بن سلمہ سے سمسار(دلال)کی اجرت کے متعلق سوال کیاگیا تو آپ نے فرمایا :میں امید کرتا ہوں کہ کثرت تعامل کی وجہ سے اس میں کوئی حرج نہیں اگرچہ اصل میں یہ فاسد ہے۔اس جیسی بہت سی چیزیں ناجائز ہیں جنھیں فقہائے کرام نے لوگوں کی حاجتکی بنا پر جائز قرار دیا ہے، جیسے حمام میں داخل ہونا۔(رد المحتار جلد 6 صفھہ 63دار الفکر بیروت )

    اعلی حضرت علیہ الرحمہ دلالکی اجرت کے حوالے سے لکھتے ہیں:اگر کارندہ نے اس بارے میں جو محنت وکوشش کی وہ اپنے آقا کی طرف سے تھی بائع کے لئے کوئی دوادوش نہ کی، اگر چہ بعض زبانی باتیں اس کی طرف سے بھی کی ہوں، مثلاً آقا کو مشورہ دیا کہ یہ چیز اچھی ہے خرید لینی چاہئے یا اس میں آپ کا نقصان نہیں اور مجھے اتنے روپے مل جائیں گے، اس نے خرید لی جب تو یہ شخص عمرو بائع سے کسی اُجرت کا مستحق نہیں کہ اجرت آنے جانے محنت کرنے کی ہوتی ہے نہ بیٹھے بیٹھے، دو چار باتیں کہنے، صلاح بتانے مشورہ دینے کی۔ ردالمحتار میں بزازیہ وولوالجیہ سے ہے: الدلالۃ والاشارۃ لیست بعمل یستحق بہ الاجر، وان قال لرجل بعینہ ان دللتنی علی کذا فلک کذا، ان مشی لہ فدلہ فلہ اجر المثل للمشی لاجلہ، لان ذٰلک عمل یستحق بعقد الاجارۃ۔ترجمہ محض بتانا اور اشارہ کرنا ایسا عمل نہیں ہے جس پر وہ اجرت کا مستحق ہو، اگر کسی نے ایک خاص شخص کو کہا اگر تو مجھے فلاں چیز پر رہنمائی کرے تو اتنا اجر دوں گا، اگر وہ شخص چل کر رہنمائی کرے تو اس کو مثلی اجرت دینا ہوگی کیونکہ وہ اس خاطر چل کرلے گا کیونکہ چلنا ایسا عمل ہے جس پر عقد اجارہ میں اُجرت کا مستحق ہوتاہے۔ (فتاوی رضویہ جلد19 صفحہ 452 تا454 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    یک طرفہ یا دو طرفہ بروکری لینے کے حوالے سے فتاوی تنقیح حامدیہ میں ہے:وَلَوْ سَعَى الدَّلَّالُ بَيْنَهُمَا وَبَاعَ الْمَالِكُ بِنَفْسِهِ يُضَافُ إلَى الْعُرْفِ إنْ كَانَتْ الدَّلَالَةُ عَلَى الْبَائِعِ فَعَلَيْهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى الْمُشْتَرِي فَعَلَيْهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَيْهِمَا فَعَلَيْهِمَا ۔ترجمہ:اگر دلال نے جانبین(بائع و مشتری)کو(ملانے میں کردار )ادا کیا ہو اور پھر مالک نے(اپنی چیز)خود فروخت کی،تواجرت کے معاملے کو عرف کیپھیرا جائے گا:پس اگر(عرف میں)دلالت بائع پر ہو تو(اجرت)بائع پر ہو گی،اوراگر (عرف میں)دلالت مشتری پر ہو تو (اجرت)مشتری پر ہو گی،اورعرف میں دلالت دونوں(بائع و مشتری)پر ہو تو اجرت بھی دونوں پر ہو گی ۔(العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ،جلد1،صفحہ 247 دار المعرفة)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمديونس انس القادري

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 19 رجب المرجب 1442ھ/05مارچ 2020ء