وراثت کا مسئلہ ایک بیوی ایک بیٹا دو بیٹیاں

    warasat ka masla aik biwi aik beta do betiyan

    تاریخ: 18 مئی، 2026
    مشاہدات: 27
    حوالہ: 1369

    سوال

    ایک شخص (عمران پولانی) کا وصال ہوا ،ورثاء میں ایک زوجہ(ارم بانو) ایک بیٹا(محمد طلحہ) اور دو بیٹیاں (عاطفہ عمران احمد رضا، عافیہ مزمل) ہیں۔

    جائیداد کی تفصیلات:

    1: پلاٹ نمبر 59بلاک نمبر ایس کمرشل 400 اسکوائر۔

    2: پلاٹ نمبر ڈی- 280 فیز ، V 120 اسکوائر۔

    3: پلاٹ نمبر اے- 6 فیز ، V 120 اسکوائر۔

    4: آدھا ایکڑ زیر کھاتہ نمبر 1/1 خسرہ نمبر قطعہ 8 موضع ڈھور گھٹی۔

    5: پلاٹ نمبر ای 500 پی اے پی۔ IV ریزیڈنشل 1000 اسکوائر۔

    6: پلاٹ نمبر اے - 153، VI ریزیڈنشل 1000 اسکوائر۔

    شرعی اعتبار سے وراثت کی تقسیم فرمادیں۔

    سائل:محمد طلحہ : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بر تقدیرِ صدقِ سائل و انحصارِ ورثاء کل جائیداد کو 32 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے بیوی(ارم بانو) کو 4 حصے، بیٹے (محمد طلحہ) کو 14 حصے اور ہر بیٹی (عاطفہ عمران احمد رضا، عافیہ مزمل) کو 7 حصے ملیں گے۔

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کےمطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ۔ ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(سورۃ النساء آیت نمبر 10، 11)

    فائدہ:رقم تقسیم کرنے کاحسابی طریقہ: گھر کی مارکیٹ ویلیو لگواکراور کل رقم ملا کر فتوی میں بیان کردہ کل حصوں کو (32) پر تقسیم کریں جو جواب آئے اس جواب کو محفوظ کرلیں اور پھر اس محفوظ جواب کو ہر وارث کے حصہ سے ضرب کریں جو جواب آئے گا وہ ہر وارث کی رقم ہوگی جو بطورِ وراثت اسے اپنے مورث سے مل رہی ہے۔پھر آخر میں تمام ورثاء کی رقم کو ملاکر چیک کرلیں اگر وہ کل مجموعہ کل جائیداد کی رقم کے برابر ہے تو تقسیم درست ہے ورنہ نہیں۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:11 ربیع الثانی 1444 ھ/07 نومبر 2022 ء