سوال
میں اپنے بچوں کے استعمال شدہ کپڑے ،یونیفارم وغیرہ کسی مستحق کو دے سکتا ہوں ؟ مستحقین میں رشتہ دار بھی شامل ہیں ۔میں نے سنا ہے کہ بچوں کی اجازت کے بغیر ان کی استعمال کی چیزیںنہیں دے سکتے ۔اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیے !!
سائل:محمد افتخار
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
نابالغ اولاد کو ملنے والی اس طرح کی چیزیں دو طرح کی ہو سکتی ہیں :
ملکیت کے قبیل سے
اباحت کے قبیل سے
اگر وہ چیزیں اباحت کے قبیل سے ہوں تو ان میں مالک اور مالک کے اجازت سے دوسرے لوگ بھی تصرف کر سکتے ہیں نیز مالک جب چاہے انہیں واپس لے لے یا کسی دوسرے کو مالک بنا دے اسے اپنی ملکیت میں تصرف کا مکمل اختیار ہے۔
اگر وہ چیزیں بچوں کی ملکیت میں ہوں یعنی بچے ان کے مالک ہوں تو پھر والدین کے لیے انہیں استعمال کرنے یا نہ کرنے کے حوالہ سے ضابطہ یہ ہے کہ اگر وہ چیزیں کھانے پینے یا اس قسم کی ہیں جن سے احتراز مشکل ہے تو والدین کے لیے انہیں استعمال کرنے کی اجازت و رخصت ہے۔البتہ یہ چیزیں کسی دوسرے کو ہبہ کرنے کی اجازت ماں کو تو سرے سے نہیں اس لیے کہ اس کو ولایت حاصل نہیں جبکہ باپ کے لیے تصدق کرنا اس طور پر جائز نہیں کہ ہبہ یا صدقہ کرنے میں بچے کے لیے دنیا میں ضررِ محض ہے اور جو عقود ضررِ محض پر مشتمل ہوں ان میں تصرفات کی (نابالغ اور اس کے سرپرست) کو اجازت نہیں۔
اگر یہ کپڑے،یونیفارم وغیرہ والدین نے اباحت کے طور پر دلائے یعنی دلاتے وقت نیت یہ تھی کہ ایک عرصہ تک بچہ استعمال کرے گا جب اسے چھوٹے ہو جائیں گے یا اس کے پہننے کے قابل نہیں رہیں گے تو ہم کسی اور استعمال میں لے آئیں گے یا کسی کو دے دیں گے اور ان کپڑوں کی بابت زبانی کلامی کبھی بھی ہبہ کا دعوی نہیں کیا تو اس صورت میں والد کا ان کپڑوں کو صدقہ کرنا بلکل جائز ہے۔اور اگر نابالغ بچوں کو کپڑے کسی رشتہ دار نے تحفے میں دیے یا والدین نے ہی دیے مگر تحفہ میں دیے تو اب ان کپڑوں کو شرعی لحاظ سے تصدق کرنا جائز نہیں۔
شرعی حل:
شرع مطہر کی جانب سے عائد کردہ یہ حدود و قیود حقوقِ اولاد کے پیشِ نظر تھیں کہ انہیں کسی قسم کی مالی اعتبار سے مضرت نہ پہنچے جبکہ مانحن فیہ مسئلہ میں دیکھا جائے تو وہ کپڑے جو بچوں کے استعمال کے قابل نہیں رہے بلکہ پڑے پڑے پرانے ہو جائیں گے ،ان کی قدر و قیمت ختم ہو جائے گی تو ان کےپڑے رہنے سے بہتر ہے کسی دوسرے کے کام آ جائیں سو دائرہ مذہب میں رہتے ہوئے فقہائے کرام متعنا اللہ بفیوضھم نےاس طرح کے موقع پر حل پیش فرمایا ہے کہ :
ولی(سرپرست)ان کپڑوں کو نابالغ اولاد سے لے کر دوسرے کپڑے وغیرہ ضرورت کی کوئی چیز عوض میں دلا دے تو یہ بچے سے بیع ہو جائے گی جو کہ جائز ہے اور پھر تصدق کرنا چاہے تو بلکل جائز ہے کہ یہ اپنی ملکیت میں تصرف ٹھہرے گا ۔صدقہ نافلہ اصول و فروع غنی و فقیر سب کو دے سکتے ہیں لہذا رشتہ داروں میں سے جسے چاہیں دیں۔
دلائل جزئیات :
وہ چیزیں جن پرنابالغ کو ملکیت حاصل ہو جائے اگر وہ کھانے پینے کی ہوں تو انہیں استعمال کرنے کے حوالے سےقول مشہور تو یہی ہے کہ انہیں استعمال نہیں کر سکتے البتہ اگر والدین محتاج ہوں تو بقدرِ ضرورت استعمال کر سکتے ہیں جیسا کہ علامہ شامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : ولو أمر صبيا أبوه أو أمه بإتيان الماء من الوادي أو الحوض في كوز، فجاء به لا يحل لأبويه أن يشربا من ذلك الماء إذا لم يكونا فقيرين، لأن الماء صار ملكه ولا يحل لهما الأكل من ماله بغير حاجة ترجمہ :اگر کسی بچّہ کو اپنے باپ یا ماں نے وادی یا حوض سے لوٹے میں پانی لانے کو کہا پھر وہ پانی لے آئے تو اس کے ماں باپ کیلئے اس پانی کو پینا جائز نہیں بشرطیکہ وہ فقیر نہ ہوں، کیونکہ پانی اُس بچّہ کی مِلک ہوگیا اور اُن دونوں کیلئے اس کے مال سے بلاحاجت کھانا پینا جائز نہیں۔ (ردالمحتار فصل فی الشرب جلد 06،صفحہ639دار الفکر بیروت)
لیکن اس قول پر عمل کرنے میں تنگی و دشواری تھی سو فقہائے کرام علیہھم الرحمہ نے دفعِ حرج کی خاطرامام محمد علیہ الرحمہ کی روایت کی طرف گئے اور اسی پر فتوی ہے کہ والدین محتاج ہوں یا مالداروہ نابالغ اولاد کے مال میں سے کھا پی سکتے ہیں علامہ شامی قول مشہور کے بعد حموی کے حوالہ سے لکھتے ہیں :وعن محمد: يحل لهما ولو غنيين للعرف والعادة۔ترجمہ:امام محمد علیہالرحمہ سے روایت ہے کہ عرف و عادت کی وجہ سےوالدین کے لیے نابالغ بچہ کے مال سے (کچھ کھا پی لینا)جائز ہےاگرچہ وہ غنی ہی کیوں نہ ہوں۔(ردالمحتار فصل فی الشرب جلد 06،صفحہ639دار الفکر بیروت)
امام اہلسنت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے اس مسئلہ پر اپنے رسالہ( عطاء النبی لافاضۃ النبی )میں تحقیق انیق فرماتے ہوئے عرف و عادت اور دفع حرج کے پیش نظر امام محمدعلیہ الرحمہ کے قول کو اختیار فرمایا ،لکھتےہیں : والدین وہ بحالت حاجت مطلقاً اور بے حاجت حسبِ روایت امام محمد اُن کو جائز ہے کہ اُس سے بھروائیں اور اپنے صرف میں لائیں باقی صورتوں میں اُن کو بھی رواہ نہیں مگر وہی بعد شرا۔(فتاوی رضویہ ج 4ص527)
اس سے آگے چل کر محاکمہ فرماتے ہیں: بالجملہ قول سوم خلاف اصول ومخالف منقول ہے اور قول اول میں حرج بشدت اور دوم کہ نص محررالمذہب سے ماثور مؤید بعرف وکتاب وسنت لہٰذا فقیر اُسی کے اختیار میں اپنے رب عزوجل سے استخارہ کرتا ہے وباللہ التوفیق ۔(فتاوی رضویہ ج 4ص525)
فائدہ: نابالغ اولاد کی وہ چیزیں جو کھانے پینے کی نہیں مگر ان کا استعمال خاص بچوں کے ساتھ نہیں تو والدین کے لیے انہیں استعمال کرنے کی بھی رخصت قول ِ امام محمد علیہ الرحمہ کے تحت ہونی چاہیے کہ اس میں بھی ابتلائے عام ہے۔
جس تصر ف سےبچےکومحض نقصان ہواس کی بابت رد المحتار میں ہے:’’و ان ضار کالطلاق و العتاق و الصدقۃ و القرض لا و ان اذن بہ ولیھما و کذا لاتصح من غیرہ کابیہ و وصیہ و القاضی للضرر۔ ترجمہ:اور اگربچہ یا معتوہ ایسا تصرف کریں،جس سے انہیں محض ضررہو جیسے طلاق دینا،غلام آزاد کرنا،صدقہ کرنا یا قرض دینا ،تو یہ صحیح نہیں ہےاگر چہ ان کا ولی اس کی اجازت دے اور اسی طرح اگریہ تصرفات بچے کا غیرکرے جیسے اس کا باپ ،وصی یا قاضی ،تو بھی ضرر کی وجہ سے درست نہیں ۔(الدرالمختار مع رد المحتار،کتاب المأذون،جلد 9،صفحہ 253،مطبوعہ ملتان)
صدر الشریعہ علیہ الرحمہ بہار شریعت میں ضرر محض کے متعلقرقم طراز ہیں:ضارمحض جس میں خالص نقصان ہو یعنی دنیوی مضرت ہو اگرچہ آخرت کے اعتبار سے مفید ہو جیسے صدقہ و قرض ،غلام کو آزاد کرنا،زوجہ کو طلاق دینا۔اس کا حکم یہ ہے کہ ولی اجازت دے تو بھی نہیں کر سکتا بلکہ خود بھی بالغ ہونے کے بعد اپنی نابالغی کے ان تصرفات کو نافذ کرنا چاہے نہیں کر سکتا ۔اس کا باپ یا قاضی ان تصرفات کو کرنا چاہیں تو یہ بھی نہیں کر سکتے ۔ (بہار شریعت ،جلد3،حصہ 15،صفحہ 204،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)
ماں کو تو نابالغ بچے کے مال میں تصرفِ ولایت اصلاً حاصل نہیں کی بابت تنویر الابصارمع الدرالمختار میں ہے: ثم القاضی او وصیہ دون الام او وصیھا ھذا فی المال۔ترجمہ:پھر قاضی یا اس کا وصی بچے کا ولی ہے ،ماں یا اس کا وصی ولی نہیں ،یہ حکم مال میں تصرف کا ہے۔(الدرالمختار مع رد المحتار،کتاب المأذون،جلد 9،صفحہ255،مطبوعہ ملتان)
فتاوی رضویہ شریفمیں ہے:مالِ اولادِ نابالغ میں ماں کو کسی طرح کی ولایت حاصل نہیں سوا اس کے کہ حفظ ونگہبانی کرے یا ضروری چیزیں انھیں خرید دے۔(فتاوی رضویہ جلد 17صفحہ 99 کتاب البیوع رضا فاؤندیشن لاہور)
باپ کا نابالغ بچے کی چیزخود کو بیچنا کے متعلق در مختار میں ہے: اپنی وبيع الاب مال صغیر من نفسہ جائز بمثل القیمۃ وبما یتغابن فیہ ترجمہ :باپ اگرنابالغ کے مال کی بیع اپنی ذات سے کرے تومثلی قیمت کے ساتھ اورمعمولی غبن کے ساتھ جائزہے۔( تنویرالابصار مع الدر المختار کتاب الوصایا جلد 06،صفحہ 709 دار الفکر بیروت)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:04رجب المرجب 1444 ھ/27جنوری 2023 ء