سوال
جیت گئے اور ان کی نوکری سلامت رہی لیکن دیگر جو بے نی فٹس (یعنی آلاؤنس،انکریمنٹ،بونس وغیرہ)تھے وہ ختم ہوگئے اب اس چیز کے لئے انہوں نے دوبارہ عدالت میں کیس لڑا اور 2023 میں جیت گئے اور 2015 سے 2023 تک کے سارے بے نی فٹس انہیں رقم کی صورت میں مل گئے ۔سوال یہ پوچھنا تھا کہ پچھلے 2015 تک (یعنی 8سال)کے جو بے نی فٹس رقم کی صورت میں ملے کیا ان پر پچھلے سالوں کی زکوۃ ہوگی؟
نوٹ:سائل کا کہنا ہے کہ ہمیں ان بے نی فٹس کے ملنے کی امید نہیں تھی۔ نیز بے نی فٹس رُکنےسے پہلے تنخواہ وہی رہی جو پہلے تھی۔
سائل: فرحان،کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں پچھلے سالوں کی زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ بے نی فٹس کے معاملے میں کمپنیز دو طرح کی ہیں:(۱)پہلی وہ جو بے نی فٹس کوتنخواہ کا حصہ قرار دیتی ہیں۔ (۲)دوسری وہ جو انہیں حصہ قرار نہیں دیتی بلکہ اسے اجیروں سے تبرع شمار کرتی ہیں۔
پہلی صورت میں یہ بے نی فٹس کمپنی پر ملازمین کی طرف سے دین ِضعیف ہوتے ہیں جن کی وجہ سے مالک پر قبضہ کے بعد پچھلے سالوں کی زکوۃ لازم نہیں ہوتی بلکہ قبضہ کے بعد سال گزرنے پرہی زکوۃ لازم ہوتی ہے۔جبکہ دوسری صورت میں بے نی فٹس تبرع گردانے جاتے ہیں جو کہ دین نہیں،لہذا ان پر بھی پچھلے سالوں کی زکوۃ لازم نہیں ہوتی۔یہاں دوسری صورت موجود ہے کہ بے نی فٹس رکنے سے پہلے اور بعد میں وہی تنخواہ رہنا اس بات کی مشیر ہے کہ بے نی فٹس تنخواہ کا حصہ نہیں تھے وگرنہ تنخواہ میں کمی آتی ہے۔
اشکال: یہاں ملازمین کا کورٹ میں کیس کرنا دلالت کر رہا ہے کہ یہ تنخواہ کا حصہ تھے تبھی کیس ہوا وگرنہ تبرع پر کوئی کیس نہیں ہوتا۔
جواب:کورٹ کیس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کمپنی میں بے نی فٹس تنخواہ کے حصہ تھے کیونکہ بعض اوقات کیس ایسے معاملات پر بھی ہوجاتے ہیں جو کہ خاص کمپنی کے واجبات سے نہیں ہوتے بلکہ حکومتی پالیسی کے تحت کیس ہوا ہوتا ہے۔مثلاً اگر حکومت کی پالیسی ہو کہ ملازمین کی کم از کم تنخواہ 30،000 ہزار لازم ہے لیکن کمپنی اور اجیر کے درمیان 25،000 ہزار تنخواہ طے پائی ہو،اور سالوں بعد کورٹ کیس کے ذریعے ملازم کو بقیہ ہر ماہ کے لحاظ سے 5000 ہزار وصول ہوں،تو وہ دین شمار نہیں کئے جائیں گے کہ دین وہ حق ہوتا ہے جو بیع،اجارہ،استہلاک یا کسی اور وجہ سے ذمے پر واجب ہو،جبکہ یہاں اجارہ میں زائد 5000 طے نہیں ہوئے تھے۔
بر سبیل تسلیم اگر بے نی فٹس کو دَین مان بھی لیا جائے تو یہ دینِ ضعیف ہی شمار ہونگے جن پر بھی پچھلے سالوں کی زکوۃ لازم نہیں ہوتی۔الغرض نتیجہ ایک ہی رہے گا۔
دین ضعیف پر پچھلے سالوں کی زکوۃ نہیں ہوتی،چنانچہ مجددِ دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ ضعیف کہ کسی مال کا بدل نہ ہو، جیسے عورت کا مہر کہ منافع بضع کا عوض ہے، یا وُہ دین جو بذریعہ وصیّت اسے پہنچا یا بسبب خلع عورت پر لازم آیا ، یا مکان زمین کہ بہ نیّت تجارت نہ خریدی تھی اُن کا کرایہ چڑھا قسم سوم کے دین پر، جب تک دین رہے اصلاًزکوٰۃ واجب نہیں ہوتی اگر چہ دس برس گزر جائیں ،ہاں جس دن سے اس کے قبضہ میں آئے گا شمارِزکوٰۃ میں محسو ب ہوگا یعنی اس کے سوا اور کوئی نصاب زکوٰۃ اسی کی جنس سے اس کے پاس موجود تھا اس پر سال چل رہا تھا تو جو وصول ہُوا اس میں ملا لیا جائے گا اور اسی کے سال تمام پر کل کی زکوٰۃ لازم ہوگی ،اوراگر ایسا نصاب نہ تھا تو جس دن سے وصول ہُوا اگر بقدرِنصاب ہے اُسی وقت سے سال شروع ہوا ورنہ کچھ نہیں‘‘۔(فتاوی رضویہ،10/162،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اور تنخواہ دین ضعیف ہے،کیونکہ آزادآدمی کی منفعت مال نہیں ہوتی اور یہی تعریف بیان ہوئی کہ جو کسی مال کا بدل نہ ہودین ضعیف ہے۔
شمس الآئمہ محمد بن احمد السرخسی (المتوفی:483ھ) فرماتے ہیں:"فأما الإتلاف فيقول: عندنا المنافع لا تضمن بالإتلاف بغير عقد ولا شبهة عقد، وعند الشافعي - رضي الله تعالى عنه - تضمن، ومنفعة الحر في ذلك سواء حتى لو استسخر حرا واستعمله عنده يضمن أجر مثله، وعندنا يأثم، ويؤدب على ما صنع، ولكنه لا يضمن شيئا".ترجمہ:باقی رہا ضائع کرنا تو فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک بغیر عقد کے منافع ضائع کرنے پر ضمان نہیں ہوگا اور نہ ہی شبہ عقد میں منافع ضائع کرنے سے ضمان ہوگا۔ امام شافعی کے نزدیک ضمان لازم ہے۔ اور آزاد آدمی کی منفعت اس مسئلہ میں برابر ہے حتی کہ اگر آزاد آدمی سے دباؤمیں عقد کیا اور اس سے کام لیا تو امام شافعی کے نزدیک اجرت مثل کا ضامن ہوگا ہمارے نزدیک گناہ گار اور اس کے اس فعل پر تادیبی کاروائی کی جائے گی لیکن ضمان نہیں ہوگا“۔(المبسوط للسرخسی،کتاب الغصب،11/78،دار المعرفۃ بیروت)
معلوم ہوا کہ آزاد آدمی کی منفعت مال نہیں کہ اتلافِ منافع پر ضمان لازم نہیں ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:14 محرم الحرام1445 ھ/2اگست 2023ء