سوال
اسلامی بنک میں پیسے رکھوا کر جو نفع لیا جاتا ہے کیا وہ سودہوتا ہے؟ ۔ سائل: محمد متین
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اسلامی بنک میں جو رقم رکھوا کر نفع حاصل کیا جاتا ہے وہ سود نہیں ۔اسلامی بنک جو نفع دیتا ہے وہ مختلف عقود (contracts) مثلاً مضاربہ ،مشارکہ ،مرابحہ وغیرہ کی صورت میں دیتا ہےجو کہ شرعی لحاظ سے درست ہیں ۔
سوداس مشروط منفعت کو کہتے ہیں جو کسی عوض سے خالی ہومثلاً مقروض کو قرض دیا اور یہ طے کیا کہ جتنے دیے واپس اس سےاضافی لوں گا ۔امام اہلسنت احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :وہ زیادت کہ عوض سے خالی ہو اور معاہدہ میں اس کا استحقاق قرار پایا ہو سود ہے مثلاً سو روپے قرض دئے اور یہ ٹھہرالیا کہ پیسہ اوپر سولے گا تویہ پیسہ عوض شرعی سے خالی ہے لہٰذا سود حرام ہے ۔(فتاوی رضویہ جلد 17صفحہ325 ،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ: محمد يونس انس قادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنين مفتي وسيم اختر المدني
تاريخ اجراء: 08ربیع الاول ا1444 ھ/05اکتوبر2022 ء