حیّ علی الفلاح پر کھڑا ہوناسنت ہے یا مستحب
    تاریخ: 20 نومبر، 2025
    مشاہدات: 21
    حوالہ: 193

    سوال

    1:حی علی الفلاح پر کھڑے ہونا سنت ہے یا مستحب؟ صحیح حدیث سے حوالہ درکار ہے؟

    2:قضاء عمری پڑھنا حدیث سے ثابت ہے تو حوالہ درکار ہے؟

    3:تمام نمازوں کی نیت کرنا اور قضاء عمری کی نیت کرنا حدیث سے ثابت ہے تو اس کا بھی حوالہ چاہیے?سائل: کاشف خان : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: اہل السنہ کے نزدیک حی علی الصلوۃ پر کھرا ہونا مستحب ہے اور یہ رسول اللہ ﷺ کے قول مبارک سے مبرہن ہے چناچہ بخاری شریف میں ہے:حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلم: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ، فَلاَ تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي»ترجمہ: (امام بخاری فرماتے ہیں )ہم سےمسلم بن ابراہیم نے بیان کیا،کہاکہ ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا،کہا مجھے یحییٰ نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے یہ حدیث لکھ کربھیجی کہ وہ اپنے باپ سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے تکبیر کہی جائے تو اس وقت تک نہ کھڑے ہو جب تک مجھے نکلتے ہوئے نہ دیکھ لو۔اس حدیث کے مزید حوالہ جات درج ذیل ہیں :

    1. صحیح البخاری، کتاب الاذان،باب متی یقوم الناس اذا رأوا الامام عند الاقامۃ حدیث نمبر 637
    2. صحیح المسلم کتاب المساجد ومواضع الصلوۃ ،باب متی یقوم الناس للصلوۃ حدیث نمبر 604
    3. سنن الترمذی ،باب کراھیۃ ان ینتظرالناس الامام وھم قیام عند افتتاح الصلوۃ حدیث نمبر 517
    4. سنن ابی داؤد ،کتاب الصلوۃ ، باب فی الصلوۃ تقام ولم یات الامام ینتظرونہ قعودا حدیث نمبر 539
    5. صحیح ابن حبان ،کتاب الصلوۃ ، باب صفۃ الصلوۃ حدیث نمبر 1755

    پھر یہی حدیث صحیح ابن خزیمہ، میں کچھ الفاظ کی زیادتی کے ساتھ اس طرح ہے :عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي» . وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ: قَالَ: «إِذَا أَخَذَ الْمُؤَذِّنُ فِي الْأَذَانِ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي»ترجمہ: حضرت ابو قتادہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے تکبیر کہی جائے تو اس وقت تک نہ کھڑے ہو جب تک مجھے نکلتے ہوئے نہ دیکھ لو، اور احمد بن سنان نے کہا کہ انہوں نے فرمایا جب موذن (مکبر) اذان (تکبیر ) کہنا شروع ہو تو اس وقت تک نہ کھڑے ہو جب تک مجھے نکلتے ہوئے نہ دیکھ لو۔(صحیح ابن خزیمہ، کتابالصلوۃ ، باب النھی عن قیام الناس الی الصلوۃ قبل رؤیتھم امامھم حدیث نمبر )

    اس حدیث کی تشریح میں حافظ الحدیث علامہ ابن حجر فرماتے ہیں :وَذَهَبَ الْأَكْثَرُونَ إِلَى أَنَّهُمْ إِذَا كَانَ الْإِمَامُ مَعَهُمْ فِي الْمَسْجِدِ لَمْ يَقُومُوا حَتَّى تَفْرُغَ الْإِقَامَةُ وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُومُ إِذَا قَالَ الْمُؤَذّن قد قَامَت الصَّلَاة .ترجمہ: اکثر علماء کا نظریہ یہ ہے کہ جب امام مقتدیوں کے ساتھ مسجد میں موجود ہو تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوں جب تک موذ ن اقامت سے فارغ نہ ہوجائے، جبکہ حضرت انس سے مروی ہے کہ وہ اس وقت کھڑےہوتے تھے جب مؤذن قد قامت الصلوۃ کہتا تھا ۔(فتح الباری شرح صحیح البخاری جلد 2 ص120)

    علامہ عینی اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں :واختلف العلماء من السلف فمن بَعْدهم متى يقوم الناس للصلاة؟ فمذهب الشافعي وطائفة: أنه يستحب أن لا يقوم حتى يفرغ المؤذن من الإقامة , وهو قول أبي يوسف. وقال مالك: السنة في الشروع في الصلاة: بعد الإقامة وبداية استواء الصف وكان أنس يقوم إذا قال المؤذن: قد قامت الصلاة، وبه قال أحمد وقال أبو حنيفة ومحمد: يقومون في الصف إذا قال: حيّ على الصلاةترجمہ:علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ لوگ نماز کے لیے کب کھڑے ہوں تو امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ جب تک مؤذن تکبیر سے فارغ نہ ہوجائے اس وقت تک کھڑا نہ ہونا مستحب ہے۔ یہی امام ابو یوسف کا قول ہے اور امام مالک نے فرمایا اقامت کے بعد نماز شروع کونا اور صف درست کرنا سنت ہے،اور حضرت انس اس وقت کھڑےہوتے تھےجب مؤذن قد قامت الصلوۃ کہتا تھا اور اسی کی مثل امام احمد نے کہا اور امام ابو حنیفہ اور امام محمد نے فرمایا اس وقت صف میں کھڑے ہوں جب مؤذن حی علی الصلاۃ کہے۔(عمدۃ القاری بشرح صحیح البخاری، جلد 3 ص 225)

    امام قاضی عیاض بن موسی مالکی متوفّٰی544ھ لکھتے ہیں :وروی عن انس انہ کان یقوم اذا قال المئوذن قدقامت الصلوۃ وذھب الکوفیون الی انھم یقومون فی الصف اذا قال حی علی الفلاح ۔ ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ وہ مئوذن کے قول قدقامت الصلوۃ کے وقت کھڑے ہوتے تھے اورعلمائے کوفہ اسی بات پر ہیں کہ وہ صف میں مئوذن کے قول ’’ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ ‘‘کے وقت کھڑے ہوتے تھے ۔(اکمال المعلم بفوائد مسلم شرح مسلم قاضی عیاض ، جلد2صفحہ557مطبوعہ دار الوفاء بیروت )

    امام ابو الحسن علی بن خلف المالکی(متوفّٰی449 ھ )لکھتے ہیں :وقال ابو حنیفۃ ومحمد یقومون فی الصف اذا قال المئوذن حی علی الفلاح واذا قال قد قامت الصلوۃ کبر الامام وھو فعل اصحاب عبد اللہ والنخعیترجمہ : امام اعظم ابو حنیفہ و امام محمد قدس سرھما فرماتے ہیں : کہ لوگ صف میں اس وقت کھڑے ہونگے جب مئوذن حی علی الفلاح کہے اور جب قد قامت الصلوۃ کہے امام تکبیر کہے اور یہ عبد اللہ بن مسعود اور امام نخعی کے ساتھیوں (یعنی صحابہ اور تابعین ) کافعل ہے ۔( شرح ابن ابطال شرح صحیح بخاری جلد 2، صفحہ 331 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت )

    حی علی الفلاح پر کھڑے ہونے پر حدیث مذکور فلاتقوموا۔۔۔۔الخ احناف کا مستدل ہے جیسا کہ امام ابوعمرابن عبدالبر الاستذکار، شرح مؤطا امام مالک میں رقمطراز ہیں: قال ابو حنیفۃ وابویوسف ومحمد اذا کان الامام معھم فی المسجد فانھم یقومون فی الصف اذا قال المؤذن حی علی الفلاح وحجتھم حدیث ابی قتادۃ عن النبی انہ اذا اقیمت الصلوۃ فلاتقوموا حتی ترونیترجمہ: امام اعظم ابو حنیفہ ،امام ابو یوسف،امام محمد رحمہم اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، جب امام مسجد میں موجود ہو اور مؤذن حی علی الفلاح کہے تو لوگ صف میں کھڑے ہونا شروع ہوجائیں ۔ان حضرات کی دلیل حضرت ابو قتادہ والی حدیث ہے۔(جو ابھی گزری ہے) (الاستذکار لابی عمر یوسف بن عبداللہ بن عبد البر للنمری ،کتاب الصلوۃ ،باب ماجاء فی النداء للصلوۃ)

    حضرت قتادہ والی حدیث کے تحت شیخ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں :قال الفقھا ء یقومون عند قولہ حی علی الصلاۃ ولعل ذالک عند حضور الامام ویحتمل انہ ﷺ کان یخر ج عند ھذا القول۔۔۔۔۔ الخترجمہ:فقہاء فرماتے ہیں : نماز کی جماعت کو شروع کرنے کے لئے حی علی الصلاۃ پر کھڑا ہونا چائیے اور شاید یہ حکم اما م کے حاضر ہونے کے وقت کا ہے یہ بھی احتما ل ہے کہ حضور ﷺ حی علی الصلاۃ کے وقت حجر ہ مقدسہ سے باہر تشریف لاتے تھے ۔ ( اشعۃ اللمعات جلد 1 ص 339 )

    نیز یاد رہے احناف سےحی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح دونوں پرکھڑا ہونامروی ہےجن میں تطبیق بایں طورممکن ہے کہ حی علی الصلوۃ پر کھڑا ہونا شروع کیا جائے اور حی علی الفلاح پر مکمل کھڑا ہوجائے۔

    ان احادیث کے بعد اوربالخصوص جب کہ یہ صحابی رسول عبد اللہ بن مسعود سے ثابت ہے کما مر عن ابن بطال اور حضرت انس جیسے جلیل القدر صحابی حی علی الصلاۃ کے بعد قد قامت الصلوۃ پر کھڑے ہوتے تھے ۔

    بلکہ امام سرخسی نے امام ابو یوسف کے حوالے سے جو دلیل بیان کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر کا عمل یہ تھا کہ وہ تکبیر ختم ہونے کے بعد کھڑے ہوتے تھے۔چناچہ لکھتے ہیں :وَأَبُو يُوسُفَ، احْتَجَّ بِحَدِيثِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ - فَإِنَّهُ بَعْدَ فَرَاغِ الْمُؤَذِّنِ مِنْ الْإِقَامَةِ كَانَ يَقُومُ فِي الْمِحْرَابِترجمہ: امام ابو یوسف نے حضرت عمر کی حدیث سے دلیل پکڑی کہ حضرت عمر مؤذن کے اقامت مکمل کرنے کے بعد محراب میں کھڑے ہوتے تھے۔(المبسوط للسرخسی باب افتتاح الصلوۃ جلد 1 ص 39 الشاملہ)

    ان تمام تر احادیث ،اقوال محدثین واقوال قفہاء اور بالخصوص شیخ محقق کی تصریح کے باوجود اگر کوئی نہ مانے تو اس کے بارے میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ بریں عقل و دانش بباید گریست( کہ ایسی عقلمندی پر ماتم کرنا چاہیے)۔

    2:۔ اگر قضاء عمری سے مراد یہ ہے کہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو قضائے عمری کے نام سے صرف چار رکعتوں کو مخصوص طریقے سے ادا کر لی جائیں تو اس سے ساری عمر کی نمازیں ادا ہو جائیں گی۔تواس بات کی شریعت میں کوئی اصل موجود نہیں ہے ۔یہ محض جاہلانہ اور عوام کے منہ کی بات ہے جس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    اور اگر قضاء عمری سے مراد یہ ہے کہ زندگی میں جو نمازیں کسی عذر، بیماری یا کسی مجبوری کی وجہ سے نماز کے وقت میں ادا نہ کر سکیں، ان کی قضا لازم ہے اور اس باتکا حدیث سے حوالہ درکار ہے تویاد رکھیں قضاء شدہ نمازیں نہ تو محض توبہ سے ذمہ سے ساقط ہوتی ہیں اور نہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو چار رکعات کی مخصوص نماز کو ادا کرلینے سے ساری نمازیں ادا ہوتی ہیں۔ بلکہ قضاء شدہ نمازوں کو ادا کرنا ضروری ہے ۔بخاری شریف کی حدیث پاک ہے :عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ نَسِيَ صَلاَةً فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَهَا، لاَ كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ ترجمہ : جو شخص نماز کو) اپنے وقت پر پڑھنا (بھول جائے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ جب بھی اس کو یاد آئے)کہ اس نے فلاں نماز نہیں پڑھی (تو اسے چاہیے کہ وہ نماز پڑھے اس کے علاوہ اس کا کوئی کفارہ نہیں ۔(بخاری کتاب الصلوۃ باب من نسی عن صلوۃ حدیث نمبر 597)

    صحیح مسلم میں یہی حدیث الفاظ کے تغیر کے ساتھ ہے :عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَاإِذَا ذَكَرَهَا۔ ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نمازپڑھنا بھول جائے یا سوتا رہ جائے تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب یاد آجائے تو نماز پڑھلے۔( مسلم کتاب الصلوۃ باب قضاء الصلوۃ الفائتۃ حدیث نمبر680 )

    البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:فالاصل فیہ ان کل صلوٰۃفاتت عن الوقت بعد ثبوت وجوبہا فیہ فانہ یلزم قضاؤھا۔ سواء ترکھا عمدا او سھوا او بسبب نوم وسواء کانت الفوائت قلیلۃ او کثیرۃ۔ترجمہ : اصول یہ ہے کہ ہر وہ نماز جو کسی وقت میں واجب ہونے کے بعد رہ گئی ہو ، اس کی قضاء لازم ہے خواہ انسان نے وہ نماز جان بوجھ کر چھوڑی ہو یا بھول کر ، یا نیند کی وجہ سے نماز رہ گئی ہو ۔ چھوٹ جانے والی نمازیں زیادہ ہوں یا کم ہوں (بہر حال قضا لازم ہے )۔( البحر الرائق شرح کنز الدقائق کتاب الصلوۃ باب الترتیب بین الفائتۃ جلد2 ص86)

    3:اسلام کے سارے اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور نیت کا تعلق دل کے ساتھ ہے گویا کہ دل سارے اعمال کا سر چشمہ اور منبع ہے دل اور اس کا ارادہ اعمال و افعال میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے اس لئے اسلام میں جا بجا نیت کی درستگی کے متعلق ارشادات و اقوال موجو دہیں ، چناچہ بخاری شریف کی پہلی حدیث میں اس بات کی تشریح کی گئی ہے : أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى المِنْبَرِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ»ترجمہ: علقمہ بن وقاص لیثی کابیان ہےکہ میں نے مسجدنبوی میں منبررسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی زبان سے سنا، وہ فرما رہےتھےکہ میں نےجناب رسول اللہ ﷺسے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھےکہ تمام اعمال کادارومدارنیت پرہے اورہرعمل کانتیجہ ہرانسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا۔ پس جس کی ہجرت( ترک وطن )دولت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض ہو۔پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کے لیے ہو گی جن کے حاصل کرنے کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے۔

    چونکہ نماز بھی ایک عمل ہے بلکہ افضل الاعمال ہےاس لیے اس حدیث کی وجہ سے نماز میں بھی نیت ضروری ہے خواہ وہ نماز اداء ہو یا قضاء ۔یعنی نیت کے معاملے میں ہر نماز کا ایک ہی حکم ہے۔

    لہذا نماز صحیح ہونے کے لئے ارادہ قلب یعنی دل سے نیت کرلینا کہ میں فلاں نماز پڑھ رہا ہوں! ضروری ہے۔ اس کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوگی،اسی کو نیت کہتے ہیں۔دل کے ارادہ کےساتھ زبان سے نیت کرلینا مستحب و بہتر ہے، تاکہ فعل اور قول میں یکسانیت پیدا ہوجائے۔

    البحر الرائق میں ہے:وقد اختلف کلام المشایخ في التلفظ باللسان، فذکر فی منیۃ المصلي: أنہ مستحب، وہو المختار، وصححہ في المجتبی، وفي الہدایۃ والکافي والتبیین أنہ یحسن ۔ ترجمہ:زبان سے نیت کے بارے میں مشایخ میں اختلاف ہے منیۃ المصلی میں مذکور ہے کہ یہی مختار ہے۔ اسی کو مجتبیٰ میں صحیح کہا ہے، ہدایہ ،کافی اور تبیین میں ہے کہ یہ( زبان سے نیت کرلینا) اچھی بات ہے ۔ (البحرالرائق، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، جلد 1 ص 473، کوئٹہ)

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ: محمدزوہیب رضاقادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنين مفتي وسيم اختر المدني

    تاريخ اجراء: 28محرم الحرام 1440 ھ/09اکتوبر 2018 ء