وراثت کا مسئلہ آٹھ بہن بھائی

    warasat ka masla aath behen bhai

    تاریخ: 11 مئی، 2026
    مشاہدات: 22
    حوالہ: 1309

    سوال

    جناب مفتی صاحب!السلام علیکم

    عرض یہ ہے کہ میں محمد شیر محمد صدیقی مجھےاپنے والد کے مکان کے ترکہ کے بارےمیں معلوم کرنا ہے مکان نمبر 132/8 نیو کراچی ہے اور ایک آدھا مکان تھا اس مکان میں دو بہنیں رہتی ہیں ایک بیوہ ہے دوسری شادی شدہ ہے ہم آٹھ بہن بھائی ہیں پانچ بھائی اور تین بہنیں ابا کے مرنے سے پہلے ایک بھائی کا انتقال ہوگےا تھا ان کے مرنے کے چار سال بعد ابا کا انتقال ہوگےا اب یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ اس بھائی کے دوبچے ہیں دونوں شادی شدہ ہیں ایک لڑکا اور ایک لڑکی ،لوگوں کے کہنے کے مطابق جو بھائی مرچکا ہے اسکے بچوں کا کوئی حصہ نہیں ہے آپ سے یہی معلومات کرنی ہیں کہ اسلامی رو سے ان کا کیا حصہ بنتا ہے ،دوسری یہ کہ ہم بہن بھائیوں کا کیا حصہ ہونا چاہیےے رہنمائی فرمائیں کہ ہمارا ایک مکان سے کتنا حصہ بنتا ہے اور آدھا مکان بہنیں پہلے ہی بیچ چکی ہیں اور والدہ کا زیور تینوں بہنیں آپس میں بغیر کسی کو بتائے تقسیم کرچکی ہیں ،اور ایک مکان میں رہتی ہیں بیچنے کو تیار نہیں ہیں ،یاد رہے کہ سب سے بڑا بھائی ماں باپ کے مرنے سے پہلے انتقال کرچکا ہے انکے دو بچے ہیں ترکہ میں ان کا کیا حصہ ہے اب سات بہن بھائی ہیں۔

    سائل: شیر محمد صدیقی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بر تقدیرِ صدقِ سائل مذکورہ صورت میں جو بھائی باپ کی وفات سے پہلے انتقال کرگےا باپ کی وراثت سے اس کی اولاد کو کچھ نہیں ملے گا ،کیونکہ مسائل میراث کا اصول ہے کہ قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دور والا رشتہ دار محروم رہتا ہے۔ لھذا جب اس میت کی اولاد یعنی سگے بیٹے موجود ہیں ان کی موجودگی میں پوتے یا پوتی کو اسکی وراثت سے کچھ حصہ نہیں ملے گا۔

    چناچہ السراجی فی المیراث ص36میں ہے''اولاہم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم بنوہم وان سفلوا'' (السراجی فی المیراث ص36)

    ترجمہ: میت کی وراثت کے زےادہ حقدار میت کا جزء ےعنی بیٹے ہیں ،(اگر بیٹے نہ ہوںتو)اسکے بعد پوتے ۔

    تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الفرائض باب العصبات جلد6ص774پر ہے ''(وَیُقَدَّمُ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ مِنْہُمْ) بِہَذَا التَّرْتِیبِ فَیُقَدَّمُ جُزْء ُ الْمَیِّتِ (کَالِابْنِ ثُمَّ ابْنِہِ وَإِنْ سَفَلَ'':ترجمہ: اور (میت کے رشتے داروں میں سے) قریب کے رشتے دار کو وراثت دینے میں مقدم کیاجائے گا پھر جو اسکے بعد زیادہ قریب ہو اسکو مقدم کیاجائے گا ،اسی ترتیب سے آگے تک لہذا میت کے جزء یعنی بیٹے کووراثت دینے میں مقدم کیا جائے گا ۔ (اگر بیٹا نہ ہوتو)پھر اسکا بیٹے(یعنی پوتے کو )وراثت دینے میں مقدم کیا جائے گا۔

    اور بقیہ چار بھائی اور تین بہنوں میں کل وراثت گیارہ حصوں میں تقسیم ہوگی جس میں سے ہر بھائی کو دو دو حصہ جبکہ ہر بہن کو ایک ایک حصہ ملے گا،قال اللہ تعالیٰ للذکر مثل حظ لانثیین(النساء : 11) ترجمہ : مرد کے لئے عورت کے حصہ سے دگنا ہے۔اور ماں نے جو وراثت چھوڑی وہ بھی مذکورہ تناسب سے تقسیم ہوگی یعنی ہر بھائی کو دو دو حصہ جبکہ ہر بہن کو ایک ایک حصہ۔اور ماں کے جو زیورات بہنوں نے بیچے ان پر لازم ہے کہ اسکے قیمت ترکے میں ملائیں اور حسب دستور تقسیم کریں۔ یونہی جس مکان میں وہ رہتی ہیں وہ اگر پاب یا ماں کا ہے وہ ترکہ میں شامل ہوگا ۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:2 جمادی الثانی 1439ھ 19 فروری 2018