وراثت کا استحقاق و جائیداد پر قبضہ

    warasat ka istihaqaq o jaidad par qabza

    تاریخ: 8 مئی، 2026
    مشاہدات: 14
    حوالہ: 1296

    سوال

    میں اپنے والد(فقیر محمد) کی اکلوتی بیٹی ہوں ، میری والدہ کو انہوں نے زندگی میں ہی طلاق دے کر الگ کردیا تھا۔ اور وہ خود ایک Sea Men Shipping میں ملازم تھے۔ سال یا دو سال میں گھر میں چکرلگاتے تھے،انکا بھی 18 یا 19 سال پہلے انتقال ہوگیا ہے، میرے والد کی صرف پانچ بہنیں تھیں جس میں سے دو کا ان سے پہلے انتقال ہوگیا۔ والدہ کے بعد میں اپنی پھپو(مریم عرف صفوراں بائی ) کے پاس رہی حتی کہ انہوں نے جلد میری شادی کرکے مجھ سے ہر قسم کا رشتہ ناتا ختم کرکے میرے والد کے گھر پر قبضہ کرلیا جس میں تین عدد کمرے آر سی سی کے بنے ہوئے تھے۔ والد کے انتقال کے بعد انہوں نے ایک کمرا دوکان کے طور پر بنواکر کرائے پر بھی دے دیا جسکا کرایہ بھی وہی وصول کررہی ہیں۔انتقال کے بعد میری پھپو نے میری جعلی والدہ بن کر والد کے نام کے سارے فنڈز ، مراعات اور ماہانہ وظیفہ بھی وصول کررہی ہیں۔ میں اسلامی و شرعی حوالے سے جاننا چاہتی ہوں کہ کیا میں اپنے والد کی جائیدا د میں حقدار نہیں، درج بالا میراث ، دکان کا کرایہ، والد کے فنڈز ، ماہانہ وظیفہ کی تقسم کیسے ہوگی۔

    سائل: عاصمہ : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    یہاں چند امور ہیں ، ہر ایک کا حکم الگ الگ تحریر کیا جاتا ہے:

    1: گھر پر قبضہ:

    مذکورہ عورت(مریم عرف صفوراں بائی )کا اکیلے اس گھرپر قبضہ کرکے باقی ورثاء بالخصوص نسبی بیٹی کو وراثت سے کلیۃً محروم کردینا ناجائز، حرام ، جہنم میں لےجانے والا کام اور صریح ظلم ہے، اس پر لازم ہے فوراً اس گھر کو شرعی حصص کے اعتبار سے تمام ورثاء (بشمول خود)کے مابین شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کرے وگرنہ دنیا و آخرت میں بالخصوص بروزِ حشر سخت رسوائی و عذاب کے سامنے کے لئے خود کو تیار رکھے۔کسی عام اجنبی مسلمان کے ساتھ ایسا کرنا بھی مطلقا ناجائز تھا چہ جائیکہ اپنی سگی بھانجی کے ساتھ ۔ یقیناً اسکا یہ عمل ایک اور الگ گناہ یعنی قریبی رشتہ دار سے بدسلوکی اور قطع تعلقی پر مبنی ہے ۔جسکا دنیا میں نقصان رزق میں اور عمر میں کمی ہے اور آخرت کا عذات نہایت درد ناک و سخت ہے۔ (العیاذ باللہ)

    کسی کا مال ناحق کھانے اورکسی کا حق دبانے کے حوالے سےقرآن وحدیث میں شدید مذمت آئی ہے :چناچہ فرمان باری تعالٰی ہے: : یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَکُمْ بَیۡنَکُمْ بِالْبٰطِلِ ترجمہ: اے ایمان والو! باطل طریقے سے آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ۔(النساء:29)

    اور ظلم کرنے والوں کے بارے میں ارشاد ربانی ہے: إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ترجمہ: مُواخَذہ تو انھیں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں اُن کے لیے دردناک عذاب ہے۔(الشورٰی:42)

    ایک اور مقام پر ارشاد ِربّانی ہے : وَالظَّالِمُونَ مَا لَهُمْ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍترجمہ: اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ مددگار ۔(الشورٰی:08)

    احادیث میں کسی مسلمان کا حصہ ناحق مال کھانے کی سخت وعیدیں آئی ہیں ،بخاری شریف میں ہے :فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِینَ ترجمہ:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ناحق لی تو روز قیامت اسکوسات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔( بخاری شریف کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین جلد 2ص388حدیث نمبر 3198)

    بخاری میں ہے:عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ۔ترجمہ: حضرت سالم اپنے والد عبد اللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی زمین میں سے اس کا حق دار ہوئے بغیر کچھ ہڑپ لے تو وہ بروز قیامت اس (زمین )کے ساتھ ساتویں زمین تک دھنسا دیا جائے گا۔( بخاری شریف باب اثم من ظلم شیئا من الارض جلد جلد 3ص130)

    چناچہ مسند ابی یعلی کی حدیث ہے: مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حِلِّهِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ، لَا يَقْبَلُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا ترجمہ: جو زمین کے کسی ٹکڑے پرناجائز طریقے سے قابض ہوا تواسے سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا اور اس کا نہ کوئی فرض قبول ہوگا نہ نفل۔(مسند ابی یعلی،رقم الحدیث:744)

    مسند امام احمد میں ہے:نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا خُسِفَ بِهِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ ترجمہ:جو ظلم کرتے ہوئے کسی کی زمین ہتھیا لیتا ہے ،اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔

    (مسند امام احمد،رقم:5740)

    مسلم شریف کی حدیث ہے: مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ، فَقَدْ أَوْجَبَ اللهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ ترجمہ: جس شخص نے قسم کی وجہ سے کسی مسلمان شخص کا حق دبا لیا تو بِلاشُبَہاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ا س کے لئے جہنم کو واجب کردیااور اس پر جنّت حرام کردی۔عرض کی گئی:یارسولَ اللہ ﷺ!اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ ارشاد فرمایا : اگر چہ وہ پیلو کی مسواک ہی ہو۔ (صحیح مسلم،رقم:137)

    قطع رحمی سلسلے میں متفق علیہ حدیث پاک ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:خلق الله الخلق فلما فرغ منه، قامت الرحم، فاخذت، بحقوالرحمن، فقال له: مه قالت: هذا مقام العائذ بک من القطيعۃ۔ قال: الا ترضين ان اصل من وصلک، واقطع من قطعک؟ قالت: بلی يارب! قال: فذاک’’ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی، جب وہ اس کی پیدائش سے فارغ ہوا تو ’’رحم‘‘ نے کھڑے ہوکر رحمن (رحم کرنے والے) کے دامن میں پناہ لی۔ اللہ نے پوچھا: کیا بات ہے؟ رحم نے عرض کیا: میں قطع رحمی (رشتہ داری ختم کرنے) سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس لئے فرمایا کہ تجھے یہ پسند نہیں کہ جو تجھ کو جوڑے میں بھی اسے جوڑوں اور جو تجھے توڑے میں بھی اسے توڑ دوں۔ رحم نے عرض کیا: ہاں اے میرے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پھر ایسا ہی ہوگا‘‘۔(صحيح البخاری، کتاب التفسير، حديث نمبر:4830، صحيح المسلم، کتاب البر والصلۃ والادب، حديث نمبر:2554)

    ایک اور متفق علیہ حدیث میں فرمایاکہ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:لايدخل الجنة قاطع ترجمہ: قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔( صحيح البخاری، کتاب الادب، حديث نمبر5984، صحيح مسلم، کتاب البروالصلة والادب، حديث نمبر2556)

    2: وراثت کی تقسیم:

    گھر وراثت میں تقسیم ہوگا جس کی تفصیل یہ ہے کہ متروکہ گھر کے 6 حصے کئے جائیں گے، جس میں سے مرحوم فقیر محمد کی بیٹی کو 3 حصے اور ہر بہن کو ایک ایک حصہ ملے گا۔

    اگر بیٹی صرف ایک ہو تو اس کے بارے میں ارشاد ہے: وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ۔ترجمہ کنز الایمان :اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔(النساء :11)

    بیٹی سے جو کچھ بچے گا وہ بطورِ عصبہ بہنوں کوملے گا جیساکہ سراجی میں ہے:ولَهنّ الباقيْ مع البَنات أو بَنات الابن لقوله عليه السلام: اجْعَلُوا الأخَوَاتِ مَعَ البَنَاتِ عَصَبَةً۔ترجمہ: اور ان (بہنوں) کے لئے بیٹیوں اور پوتیوں کے ساتھ مابقی ملے گا کیونکہ حضورﷺ نے فرمایا بہنوں کو بیٹیوں کی موجودگی میں عصبہ بنادو۔(سراجی ص 24، مکتبۃ المدینہ)

    3: دوکان کا کرایہ:

    مریم عرف صفوراں بائی نے بعد میں دکان بنواکر کرائے پر دی ہے ، ان سے حاصل ہونے والے کرائے کی وہی مالک ہے ، کہ دکان کرائے پر دینے کا عقد اس نے ہی کیا ہے ، لہذا وہی کرائے کی مالک ٹھہرےگی۔ دیگر ورثاء کو اس دکان کے کرائے کے مطالبہ کا حق نہیں ہے ، ہاں جتنا کرایہ اس کے اپنے حصے کے بدلے میں آتا ہے ، وہ جائز ہے اور دوسرے ورثاء کے حصے کا کرایہ ان کے حق میں ملک خبیث یعنی ناپاک و حرام ہے ، جس کا حکم یہ ہے کہ یا تو فقیرِ شرعی پر بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کر دے یا ورثاء کو دے دیں اور ورثاء کو دینا افضل ہے۔

    سیدی اعلٰی حضرت امام اہلسنت ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:عمارت بعد انتقال خالد زید اور دیگر ورثاء میں مشترکہ ٹھہرے گی ، مگر آمدنی جو زید وسلیمہ نے حاصل کی باقی شرکاء اس کے واپس لینے کا دعویٰ نہیں کرسکتے کہ عقد اجارہ میں جو شخص کسی شیء کو کرایہ پر چلاتاہے ، اجرت کا مالک وہی ہوتا ہے اگرچہ وہ شے ملک غیر ہی ہو، ہاں اس پر دو باتوں میں سے ایک واجب ہوتی ہے یا تو ملک غیر کی اُجرت اس مالک کو واپس دے اور یہی بہتر ہے یا محتاجوں پر تصدق کردے کہ اس کے حق میں وہ ملک خبیث ہے۔( فتاوی رضویہ،ج19،ص259، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور)

    4:والد کو ملنےوالے فنڈز اور پنشن کا حکم:

    اگر ان کا جی پی فنڈ حکومت کے پاس تھا جو اسکی زندگی میں اس کی تنخواہ سے رضاکارانہ یا لازمی طور پر وضع کیا جاتا تھا تو یہ رقم انکے ترکہ میں شمار ہوگی اور ان کے تمام ورثاء یعنی بیٹوں میں شرعی طریقہ کار سے تقسیم ہوگی۔

    اور اگر یہ رقم جی پی فنڈ کے بغیر ہی حکومت کی جانب سے پنشنکے طور پر ملی ہےتوحکومت سے اس رقم کا لینا کسی کے لئے خواہ بیٹی یا پھوپھی جائز نہیں ہے کیونکہ پنشن حکومت کی جانب سے تبرع و احسان کی صورت ہے اور حکومت کے قانون کے مطابق پنشن کی رقم بیوہ کے نام جاری ہوتی ہے ۔ بیوہ کی وفات ،طلاق یا دوسری شادی کی صورت میں یہ رقم مرحوم کی غیر شادی شدہ بیٹیوں کے نام جاری ہوتی ہے۔اور اگر مرحوم کی کوئی غیر شادی شدہ بیٹی نہ ہو تو اب حکومت کی جانب سے یہ رقم کسی کو نہیں ملتی ۔

    اگرحکومت یاادارہ جو پنشن دے رہا ہے،وہ خود ورثاء میں سےکسی فردکونامزد(Nominate)کردےتو وہ فرد اس رقم کامالک ہوگا اور اگرحکومت یاادارہ سب وارثوں کےلیےدےتوسب وارث اس میں شریک ہوں گےلیکن یہ تقسیم،میراث کی وجہ سےنہیں ہوگی،بلکہ یہ حکومت یاادارہ کی طرف سےانکوانعام دیناشمارہوگا۔

    لہذا مذکورہ صورت میں بھی چونکہ مرحوم کی زوجہ طلاق یافتہ ہے اور بیٹی شادی شدہ بالغ ۔ سو اب حکومت کی جانب سے پنشن کی رقم پر کسی کا استحقاق باقی نہ رہا۔اب پھپو کا جعلی بیوی بن کر یہ مراعات وصول کرنا ناجائز و حرام ہے۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:05 جمادی الاول1444 ھ/30 نومبر 2022 ء