عدت میں گھر تبدیل کرنا
    تاریخ: 24 فروری، 2026
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 860

    سوال

    میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا تو میری والدہ عدت میں بیٹھی ہوئی تھیں اس گھر میں کچھ اثرات کی وجہ سے انکی جان کو خطرہ تھا ا س لئے وہ میرے چاچا کے گھر آگئی جوکہ سامنے ہی ہے اب میری امی میرے چاچا کے گھر میں ہی ہے لیکن اب انکی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے تو کیا وہ واپس اپنے گھر جاسکتی ہیں یا نہیں؟

    سائل: محمد ندیم


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جس عورت کا شوہر انتقال کرجائے اس پر اسی گھر میں عدت گزارنا لازم ہے ،جس گھر میں رہتی ہو،لیکن اگر اسے باہر جانے کی ضرورت ہو تو شریعت میں اسکی اجازت ہے ۔ چناچہ مفتی امجد علی اعظمی فرماتے ہیں:موت یا فرقت کے وقت جس مکان میں عورت کی سکونت تھی اُسی مکان میں عدت پوری کرے اور یہ جو کہا گیاہے کہ گھر سے باہر نہیں جاسکتی اس سے مراد یہی گھر ہے اور اس گھر کو چھوڑکر دوسرے مکان میں بھی سکونت نہیں کرسکتی مگر بضرورت، اور ضرورت وہ ہے کہ اُس کے بغیر چارہ نہ ہو۔(بہار شریعت جلد دوم حصہ ہشتم ص245 مکتبۃ المدینہ ملخصآ)مذکورہ صورت میں اگر واقعی ان کی جان کو خطرہ ہےتو وہ کسی دوسرے قریبی گھر میں جاسکتی ہیں اور اس خطرے کے ٹلنے کے بعد واپس اسی گھر میں آنا لازم ہے۔

    تنویرالابصار مع الدر المختار میں ہے:وَتَعْتَدَّانِ) أَيْ مُعْتَدَّةُ طَلَاقٍ وَمَوْتٍ (فِي بَيْتٍ وَجَبَتْ فِيهِ) وَلَا يَخْرُجَانِ مِنْهُ (إلَّا أَنْ تُخْرَجَ أَوْ يَتَهَدَّمَ الْمَنْزِلُ، أَوْ تَخَافُ) انْهِدَامَهُ، وَنَحْوَ ذَلِكَ مِنْ الضَّرُورَاتِ فَتَخْرُجُ لِأَقْرَبِ مَوْضِعٍ إلَيْهِ،ترجمہ: موت کی یا طلاق کی عدت گزارنے والی اسی گھر میں عدت گزاریں جس میں گزارنا واجب ہے اور اس گھر سے نہیں نکل سکتی الا یہ کہ اس کو اس گھر سے نکال دیا جائے ، یا گھر گرجائے اور گرنے کا خوف ہو ، اس طرح کی دیگر ضروریات کی وجہ سے نکل سکتی ہیں پس قریبی جگہ کی طرف جا سکتی ہیں ۔( تنویرالابصار مع الدر المختار،کتاب الطلاق ،فصل فی الحداد ،جلد 3ص 536)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:24 رمضان المبارک 1440 ھ/30 مئی 2019 ء