شوہر تین بیٹیاں،چار بیٹے

    shohar teen betiyan chaar betay

    تاریخ: 21 اپریل، 2026
    مشاہدات: 23
    حوالہ: 1193

    سوال

    میری والدہ کوانکے والد کی وراثت سے 10 لاکھ روپے ملے ، انہوں نے وہ دس لاکھ میرے پاس رکھوائے تاکہ میرے ابو کو معلوم نہ ہو کیونکہ ابو سارے پیسےاپنی بہنوں کو دے دیتے، پہلے بھی وہ ایسا کرچکے ہیں ۔اب والدہ کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہوا ہے ۔وہ پیسے میرے پاس ہیں ۔ ان پیسوں کی تقسیم کیسے ہوگی ۔ہم سات بہن بھائی ہیں ۔تین بہنیں اور چار بھائی،اور ابو۔

    سائلہ:بنت حوا : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا کل رقم کو 44 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے آپکے والد کو 11 حصے، ہر بھائی کو 06 حصے،جبکہ ہر بہن کو 03 حصے ملیں گے۔

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے۔بیوی کا انتقال ہوجائے تو شوہر کا کتنا حصہ ہوگا اس بارے میں ارشادباری تعالٰی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ۔ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : آیت نمبر 11)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    فائدہ : جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل مال وراثت کو مبلغ یعنی 44 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجرء:01 صفر المظفر 1441 ھ/01 اکتوبر 2019 ء