Behnon ki ijazat ke baghair un ke hissay ko bech dene ka hukm
سوال
مرحوم محمد امین عبد الستار کا 1999ءمیں انتقال ہوا۔ اس وقت ان کے ورثاء میں ان کی بیوہ( زیب النساء )اور 3 بیٹے (جاوید ،منور،نعیم ) اور دو بیٹیاں ( کوثر اور ارم ) تھیں ۔مرحوم کی ملکیت میں ایک فلیٹ تھا جسے 2003 ءمیں ساڑھے 5 لاکھ روپے کا بیچ دیا گیا۔ اب فروخت کیے گئے فلیٹ کی آنے والی ساڑھے 5 لاکھ روپے کی رقم میں ایک بھائی محمدجاوید نے 2 لاکھ روپے دوسرے بھائی منور نے 3 لاکھ روپے اور تیسرے بھائی محمدنعیم نے 8لاکھ ملائے اور مجموعی طور پر ان ساڑھے18 لاکھ روپے کی رقم سے پراپرٹی خریدی اور یہی پراپرٹی مرحوم عبد الستار کی بیوہ (زیب النساء) کے نام کردی۔ مرحوم امین عبد الستار کی بیوہ (زیب النساء )کا انتقال 2018 ءمیں ہو گیا اور اب وہی پراپرٹی جو ساڑھے 18 لاکھ کی خریدی تھی وہ 2 کروڑ 40 لاکھ میں فروخت کر دی ۔ شرعی اعتبار سے وراثت کیسے تقسیم ہوگی ؟ یہ پراپرٹی مرحوم امین عبد الستار کی بیوہ (زیب النساء) کے نام تھی۔ جو ان پانچ بہن بھائیوں کی والدہ تھی شرعی اعتبار سے پانچوں بہن بھائیوں(جاوید،منور،نعیم ،کوثر ،ارم) میں کیسے تقسیم ہوں گی؟
نوٹ: بھائیوں نے ایک بہن سے گھر بیچتے وقت اجازت نہیں لی، بلکہ بیچنے کے بعدبہن نے بتایابھائیوں نے گھر فروخت کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ پراپرٹی خریدتے وقت بھائیوں نے جو رقم لگائی، اس پر کوئی باہمی معاہدہ نہیں کیا، بلکہ پراپرٹی خرید کر اسے والدہ کے نام اس نیت سے منتقل کر دیا کہ وہ اس کی مکمل مالک بن جائیں۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ نام کرانے میں تملیک مقصود نہیں، اور نہ ہی یہ شرط رکھی کہ آئندہ اسی تناسب سے وہ اس میں اپنا حصہ لیں گے۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ بھائیوں نے والد صاحب کا فلیٹ فروخت کرتے وقت بہن سے اجازت نہیں لی، لہٰذا بھائیوں کا اپنے حصے کو فروخت کرنا تو درست تھا، جبکہ بہن کے حصے میں یہ بیع موقوف رہی۔ لیکن جب اس بہن کو اس معاملے کا علم ہوا اور اس نے اس بیع کو رد نہیں کیا تو یہ دلالۃً بیع پر رضا شمار ہوگی، جس سے بیع نافذ ہوگئی۔مزید یہ کہ تین بھائیوں نے جو رقم شامل کی، اس کے بارے میں کوئی باہمی معاہدہ نہیں کیا، بلکہ وہ رقم جمع کر کے ایک پراپرٹی خریدی اور اسے اپنی والدہ، زیب النساء، کے نام اس نیت سے منتقل کر دیا کہ وہ اس کی مکمل مالکہ بن جائیں، چنانچہ وہ اس کی مالکہ بن گئیں۔
اب جبکہ زیب النساء کا انتقال ہو چکا ہے تو یہ پراپرٹی، جس کی مالیت 2 کروڑ 40 لاکھ روپے ہے، تمام ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کی جائے گی، اور بھائیوں کی جانب سے لگائی گئی رقم تبرع و احسان شمار ہوگی۔
ان ورثاء کے مابین شرعی تقسیم اس طرح ہوگی کہ اُمورِ متقدمہ علی الارث ( مرحوم کے ترکہ میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالیں جائیں گے ، پھر اگر قرض ہے تو وہ ادا کیا جائے گا، پھرکوئی جائز وصیت کی ہے تو اس کو تہائی مال سے پورا کیا جائے ) کے بعد اس کل مالیت (2 کروڑ 40 لاکھ روپے) کے 8 حصے کیے جائیں گے، جن میں سے تین بیٹوں(جاوید ،منور،نعیم) میں سے ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ 2 حصے (60 لاکھ روپے)، اور دو بیٹیوں (کوثر ارم)میں سے ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ 1 حصہ (30 لاکھ روپے) ملے گا۔
المسئلة بهذه الصورة:
مسئلہ:8
المیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی
جاوید منور نعیم کوثر ارم
2 2 2 1 1
دلائل وجزئیات :
اپنے شریک کا اس کی اجازت کے بغیر حصہ بیچنے کے متعلق 'دررالحکام شرح مجلۃ الحکام' میں ہے:” لو باع أحد صاحبي الدار المشتركة حصته وحصة شريكه بدون إذنه لآخر فيكون البيع المذكور فضولا في حصة الشريك (البهجة) وللشريك المذكور إن شاء فسخ البيع في حصته وإن شاء أجاز البيع إذا وجدت شرائط الإجازة“ .ترجمہ:اگر مشترکہ گھر کے مالکان میں سے ایک نے اپنا حصہ اوراپنے شریک کا کسی اجنبی کو اس کی اجازت کے بغیر بیچ دیا تو یہ شریک کے حصے میں بیع فضولی ہوگی اور شریک کو اختیار ہے کہ وہ چاہےتو اپنے حصے کی بیع ختم کردے اور چاہے تو اسے جائز کردے جبکہ بیع کی شرائط پائی جائیں ۔ (دررالحکام شرح مجلۃ الاحکام ،(المادة ١٠٧٥) كل واحد من الشركاء في شركة الملك أجنبي في حصة الآخر ،ج:3،ص:29،مطبوعہ دار الجیل)
اسی طرح فتاوی ہندیہ میں ہے:” وَلَوْ كَانَ الْمَبِيعُ دَارًا أَوْ أَرْضًا بَيْنَ رَجُلَيْنِ مُشَاعًا غَيْرَ مَقْسُومٍ فَبَاعَ أَحَدُهُمَا قَبْلَ الْقِسْمَةِ بَيْتًا مِنْهَا بِعَيْنِهِ أَوْ قِطْعَةً بِعَيْنِهَا فَالْبَيْعُ لَا يَجُوزُ لَا فِي نَصِيبِهِ وَلَا فِي نَصِيبِ صَاحِبِهِ بِخِلَافِ مَا إذَا بَاعَ جَمِيعَ نَصِيبِهِ مِنْ الدَّارِ وَالْأَرْضِ فَالْبَيْعُ جَائِزٌ كَذَا فِي شَرْحِ الطَّحَاوِيِّ. ‘‘ترجمہ:اگر مبیع ایسا گھر یا ایسی زمین ہو جو دو لوگوں کے درمیان مشاع ہو ،تقسیم شدہ نہ ہو ،پھر ان میں سے ایک نے تقسیم سے پہلے اس گھر میں سے ایک معین حصہ یا معین ٹکڑا بیچ دیا تو بیع جائز نہیں ہے ،نہ اس کے حصے میں اور نہ اس کے ساتھی کے حصے میں، برخلاف اس کے کہ جب اس نے گھر یا زمین میں سے اپنے مکمل حصے کو بیچ دیا تو بیع جائز ہے اسی طرح طحطاوی کی شرح میں ہے ۔ (الفتاوہ الهندیہ ، الفصل التاسع في بيع الأشياء المتصلة بغيرها والبيوع التي فيها استثناء ،ج:3،ص:130،دارا لفکر بیروت)
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد باری تعالٰی ہے:’’یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ.ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : 11)
عصبہ باقی مال لے گا،چنانچہ علامہ سراج الدین محمد بن عبد الرشید السجاوندی (المتوفی:600ھ) فرماتے ہیں:"والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال۔ ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہوجائے۔(السراجیۃ مع القمریۃ،ص 13،مکتبۃ المدینۃ کراچی)واللہ تعالی اعلم بالصوا ب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد سجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 02 ذی القعدہ 1447ھ/20اپریل 2026