shohar teen betiyan aik behn
سوال
میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، ورثاء میں شوہر اور تین بیٹیاں اور ایک بہن ہیں۔ وراثت میں ایک مکان ہے جو کہ خالصتا ًوالدہ کا ہے اسکی تقسیم کیسے ہوگی؟ مکان کی ویلیو 23 لاکھ 50 ہزار ہے۔ ہر ایک کا حصہ بصورتِ رقم تحریر فرمادیں۔
سائل: صباء دانش : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مستفسرہ میں اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث (یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد مالِ وراثت کو 36حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ، جس میں سے مرحومہ کے شوہرکو 9 حصے،ہر بیٹی کو الگ الگ 8 حصے اور بہن کو 3 حصے ملیں گے۔مکان کی قیمت میں سے شوہر کا حصہ587500، ہر بیٹی کو الگ الگ522222،اور ہر بہن کا195833روپے بنے گا۔
صورت مستفسرہ میں بہن ، مابقی بطورِ عصبہ بغیرہ لے گی۔ کما ھو المصرح فی کتب اصحابنا
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے۔بیوی کا انتقال ہوجائے تو شوہر کا کتنا حصہ ہوگا اس بارے میں ارشادباری تعالٰی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ۔ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : آیت نمبر 11)
اگر دو سے زائد بیٹیاں ہوں تو انکا کتنا حصہ ہوگا، اس بارے میں ارشاد ہے ۔ قال اللہ تعالیٰ: فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ۔ترجمہ کنز الایمان :پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگر دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔(النساء :11)۔
اگر بیٹیوں کے ساتھ بہن ہو تو اس کو عصبہ کے طور پر مابقی ملے گا ، جیساکہ سراجیہ میں ہے: ولَهنّ الباقيْ مع البَنات أو بَنات الابن لقوله عليه السلام: (اجْعَلُوا الأخَوَاتِ مَعَ البَنَاتِ عَصَبَةً).ترجمہ: بیٹیوں، اور پوتیوں کی موجودگی میں بہن کو مابقی ملے گا آقا علیہ السلام کے اس فرمان کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا بہنوں کو بیٹیوں کے ساتھ عصبہ بنا دو۔ (السراجیہ فی المیراث ص 24)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 12 جمادی الاولٰی 1443 ھ/17 دسمبر2021 ء